سمگلنگ کے نام پر تاجروں کو پریشان نہ کیا جائے ‘صد ر ایل سی سی آئی شیخ محمد ارشد

لاہور(پی ایف پی)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا ہے کہ سمگلنگ، انڈر انوائسنگ، ایس آر او کلچر، راستے میں روک کر تجارتی اشیاء کی غیر ضروری چیکنگ اور کاروباری مقامات پر چھاپے کاروباری سرگرمیوں کو بْری طرح متاثر اور تاجروں کو مایوس کررہے ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو تاجر برادری کی مشاورت سے ایک مکینزم وضع کرے تاکہ ان مسائل پر کم سے کم وقت میں قابو پایا جاسکے۔
ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے کہا کہ تجارتی و معاشی سرگرمیاں پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہے کہ تاجروں کو بہترین کاروباری ماحول مہیا کیا جائے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے اور تاجر خوف کے سائے میں کام کررہے ہیں کیونکہ مختلف وفاقی و صوبائی محکموں نے جینا دوبھر کرکھا ہے۔
شیخ محمد ارشد نے کہا کہ تاجروں کے دفاتر، دکانوں اور گوداموں میں بلاوجہ چھاپے خوف و ہراس پیدا کررہے ہیں لہذا ان سے گریز کیا جائے اور کوئی مسئلہ ہو تو اسے متعلقہ تجارتی تنظیم کو اعتماد میں لیکر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کی چیکنگ کے نام پر جگہ جگہ تجارتی مال روک کر تاجروں کو پریشان کرنا درست نہیں ہے اور اس سے سمگلنگ کی روک تھام میں بھی کوئی مدد نہیں ملے گی، بہتر ہے کہ سمگلنگ روکنے کے لیے تاجروں کی مشاورت سے کوئی قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جائے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر نے تاجروں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی جیسے اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان عدم اعتماد مزید بڑھے گا اور تاجر جو پہلے ہی نقد لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے پریشان ہیں، بینکوں سے بالکل ہی متنفر ہوجائیں گے اور بینکوں کے ذریعے لین دین کے بجائے دیگر ذرائع استعمال کریں گے جس سے بینکنگ سیکٹر بھی تباہ ہوگا۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے توقع ظاہر کی کہ حکومت اور صنعت و تجارت سے متعلقہ وفاقی و صوبائی محکمے تاجروں کے یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے تاکہ تاجر جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں، حقیقی معنوں میں ملک کی معاشی ترقی کے لیے کردار ادا کرسکیں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں