رینجرز ،اندرون سندھ کاروائی پر اعتراض، ضلع جنوبی کی صفائی کے احکامات ،کھلا تضاد ۔

تحر یر : حسن آراء
سا ئیں سرکار کا رینجرز کے اختیارات میں توسیع نہ کرنا اور اندرون سندھ آپریشن پر خفا ہونا حیران کن ہے کراچی ایک طویل عرصے سے جرائم کے خلاف آپریشن سے گزر رہا ہے جس پر مختلف حلقوں اور سیاسی رہنماؤں کی ستائش حاصل ہے اور یہ بات لائق تحسین بھی کہ جرائم میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے کراچی منی پاکستان ہے ملک بھر سے لوگ آتے اور یہان بستے ہیں اسی لئے جرائم بھی ہوتے ہیں لیکن اس طرح کے مسائل کے پی کے ، پنجاب ،بلوچستان ،ا درون سندھ بھی دوچار ہے محض کراچی آپریشن ملک بھر سے جرائم کے خاتمہ کے لئے نا کافی ہے اس طرح کا آپریشن ہر صوبے میں ہونا ضروری ہے بلخصوص اندرون سندھ جہاں کھلے عام ڈاکو جدید اسلحے سے لیس دندناتے پھرتے ہیں کارو کاری ، ونی ، قران پاک سے شادی غیرت کے نام پر قتل عام ہے پھر وڈیرہ شاہی غریب مزارعو پر ظلم اور تشدد نے عام فرد کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے گھوسٹ اساتزہ اور تعلیمی ادارے گھوسٹ بن کر ہمارے نوجوان کا مستقبل نگل رہے ہین یہ وہ تمام عوامل ہے جو غریب ہاری کے بچوں کے مستقبل پر ہل چلا رہے ہیں “روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرے کی گونج کہیں کھو گئی ہے کراچی کی طرح اندرون سندھ بھی آپریشن کی ضرورت ہے ۔ صرف کراچی نہیں پاکستان سے بد عنوانی لا قانو نیت کا خاتمہ ضروری ہے ضرب عضب نے دنیا بھر پاک افواج کے وقار کو سر بلند کیا ہے اسی طرح کا آپریشن اندرون سندھ مین کرنےکی ضرورت ہے ۔
اسکے بعد ایک اور خبر نے ہلچل کہ تین دن مین شہر صاف ہوجائے ورنہ کمشنرکراچی گھر جائین اس سلسلے میں کمشنر صاحب ننےمیڈیا پر آکر بتایا کہ وزیر اعلی سندھ نے صرف ’جنوبی‘ کی صفائی کیلئے کے احکامات صادر فرمائے ،کمشنر کراچی نے میڈیا پر واضح کیا سائین سرکار کا یہ حکمضلع جنوبی کے لئے تھا ان کی وضاحت بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اور 3 دن میں کراچی صاف ہونا چاہئے، وزیراعلیٰ کا کمشنر کو الٹی میٹم بھی سوال ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ اچانک نیند سے کیسے جاگے ؟
اب تو کراچی روشنیوں کا شہر کم اور کچرے کا شہر زیادہ لگتا ہے کراچی کے بجائے کچراچی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کراچی کا کچرا نئی بات ہے اور نہ اس شہر کا پانی چوری ہونا کوئی نئی بات، پھر بھی یوں لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اچانک نیند سے جاگے اور میگا سٹی کراچی کو تین دن میں صاف کرنے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔نہ کراچی کا کچرا نئی بات، نہ پانی چوری، پھر اچانک وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نیند سے کیوں جاگے؟اچانک ایسا ایکشن میں آئے کہ پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرنے اور 8کروڑ ماہانہ کمانے والے پانی چوروں کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ساتھ ہی تین دن کے اندر اندر سارا کچرا اٹھانے کا شاہی فرمان جاری کردیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پانی چور جانے کب سے ہر ماہ آٹھ کروڑ کماتے ہی تھے، شہری توپانی نہ ملنے اور ان تکالیف کے عادی ہوچکے تھے، اچانک وزیراعلیٰ کو چور کیوں برے لگنے لگے گرفتاری کا حکم کیوں جاری کردیا؟
سوال تو یہ بھی ہے کہ مہینوں سے جمع ہونے والا کچرا صرف تین دن میں اٹھے گا کیسے؟
لگتا ہے کسی نے سی ایم صاحب کو بلدیہ عظمیٰ کی اہلیت کے اور وسائل کے بارے مین بتایا نہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں یومیہ 12ہزار ٹن کچرا بنتا ہے اور بلدیہ کے پاس روزانہ 12ہزار ٹن کچرا اٹھانے کی اہلیت ہے ہی نہیں،چند ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جاتا ، کچھ جلادیا جاتا ہے اور کچھ کچرا اگلے دن کے کچرے میں شامل ہوجاتا ہے ،ایسے میں سی ایم صاحب کا یہ اعلان سمجھ سے باہر ہے۔کراچی سے روزانہ بارہ ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، صرف 4 ہزار ٹن اٹھایا جاتا ہے،8ہزار ٹن کچرا یا تو آبی گزرگاہوں، نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے، ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک ہزار ڈمپسٹرز خریدنے کی تیاری کرلی ہے۔ادھر کمشنرکراچی اعجاز احمد خان کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ نےپورےکراچی کوصاف کرنے سے متعلق کوئی احکامات نہیں دیئے،پوراشہرنہیں صرف ضلع جنوبی کو صاف کرنے کے لیے کہا ہے ہے،وزیراعلیٰ رات کو نکلے تھے جس کے بعد انہوں نے صفائی کے لیے کہا،میڈیا وزیراعلیٰ کے بیان کو اپنے طور پر چلا رہا ہے۔میڈیا اگر یہ بیان نہ بھی چلائے تو شہر کو جس طرح یتیموں کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے وہ شہریوں میں احساس محرومی کو جنم دے رہا ہے اور حکومت کو کیا لگتا میڈیا کے خاموش ہوجانے پر وہ مسائل حل ہوجا ہوجائیں گے شہر بھر میں گندگی کے ڈھیر ابلتے گٹر مچھرون کی بہتات شہریوں کے لئے کئ بیماریوں کو آواز دے رہے ہین ضلع وسطی ،شرقی،غربی ، پورا کراچی بے آسرا چھوڑ کر وزارت کے مزے لوٹنے والوں کو کوئی کیسے سمجھائے کہ جو رعایا ووٹ دے کر اپ کو یہان تک پہنچاتی ہے وہ اگر جاگ گئ تو کیا ہوگا .شہر با آسانی صاف ہو سکتا ہے کرنا صرف یہ ہے کہ ایک ٹول فری نمبر دیجئے اسکی تشہیر کیجئے اور ساتھ احکامات فرمائے کہ جس ڈی ایم سی مین گندگی پائی جائے گی اسکے کمشنر ڈپٹی کمشنر کو ہٹادا جائےگا سزا ہوگی جرمانے ہونگے سب ٹھیک ہو جائے اگر سخت بباز پرس ہو مگر تین دن کے اس الٹی میٹم کی وجہ سامنے آگئی ظاہر ہے کمشنر کے پاس جادوئی چراغ نہ تھا جووہ تین دن میں مہینوں کی غلاظت صاف کرتے تو خبر آئی کہ یہ ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنی کو دیا جارہا ہے جبکہ اسی طرح کا منصوبہ سالڈ ویسٹ منجمینٹ کے تحت کام نہین ہوا یا اسے پزیرائی حاصل نہین ہو ئی ادارے موجود ہیں حکومتی ارکان کو سنجیدگی سے ان سےکام لینے کی ضرورت ہے ۔
ملک بھر میں جرائم کے خاتمے کے لئے آپریشن کی ضرورت ہے بلخصوص اندرون سندھ ۔ ملک بھر میں جہاں جہاں جرائم ہیں ان علاقوں کو صاف کرنا ضروری ہے تاکہ ملک ترقی کرے خوشحال فرد روشن پاکستان کی نوید ہے ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں