پمز ہسپتال پر کام اتنا بوجھ ۔۔۔۔عملے نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

اسلام آباد (پی ایف پی) وفاقی دارالحکومت کے 23 تھانوں کے پوسٹمارٹم سمیت ایم ایل سی رپورٹ پمز ہسپتال سے بننے لگیں۔ پولی کلینک میں ایم ایل او کے آفیسر نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ اکلوتے ہسپتال پر کام کا رش بڑھ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے 23 تھانوں کی حدود میں ہونے والے قتل کے جرائم کے نتیجے میں پوسٹ مارٹم صرف پمز ہسپتال میں ہورہے ہیں جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے کسی بھی دوسرے ہسپتال میں پوسٹمارٹم کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔ اسلام آباد کا دوسرا بڑا ہسپتال پولی کلینک بھی پوسٹ مارٹم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جس کی وجہ سے پمز ہسپتال پر آئے روز ہونے والے جرائم کے نتیجے میں پوسٹمارٹم کا رش بڑھ گیا ہے۔ پولی کلینک ہسپتال میں پوسٹمارٹم کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ایم ایل او آفیسر نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں اور اگر کوئی پوسٹمارٹم اس ہسپتال سے کرانے کیلئے پولیس لاشیں لے آتے تو بھی ان کو پمز ہسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔
ایم ایل او آفیسر نے اس حوالے سے اپنی متعلقہ وزارت کو بھی کسی قسم کی ایسی صلاحیت فراہم کرنے کی درخواست نہیں کی۔ پوسٹمارٹم کرنے اور اس کے بعد عدالت میں اس کی رپورٹ کے حوالے سے بھیجنے کے لئے ایم ایل او آفیسر نے پولی کلینک کو پوسٹمارٹم کی صلاحیت سے محروم رکھنے کا ہی فیصلہ کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز تھانہ بنی گالہ کی حدود میں ہونے والے پانچ افراد کے قتل کا پوسٹ مارٹم بھی پمز ہسپتال میں کرایا گیا تھا۔ حالانکہ تھانہ بنی گالہ کی حدود کے نزدیک ترین ہسپتال پولی کلینک موجود تھا لیکن پوسٹمارٹم کی صلاحیت نہ رکھنے والے ہسپتال کو نظر انداز کرتے ہوئے لاشوں کو پمز ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کا پوسٹمارٹم کرکے رپورٹ پیش کردی گئی۔ واضح رہے کہ پوسٹمارٹم کرنے کے بعد اس کی رپورٹ تیار کرکے پولیس کو دی جاتی ہے اور عدالت ضرورت پڑنے پر پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو طلب بھی کرتی ہے۔ ان تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے اور اس محنت اور مشقت طلب کام سے بچنے کیلئے پولی کلینک ہسپتال کے ایم ایل او آفیسر نے شہر کے اپنے ہسپتال کو اس صلاحیت سے محروم رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے تمام رش پمز ہسپتال پر جا پڑا ہے اور وہین تمام پوسٹمارٹم کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایسا کوئی بڑا ہسپتال موجود نہیں جس میں ایسی صلاحیت فراہم کی جائے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں