حا مد میر….30کروڑ کا مخمصہ

30کروڑ کا مخمصہ….حا مد میر

عوامی نیشنل پارٹی کے کئی رہنما تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی خوب خبر لینا چاہتے تھے لیکن پاناما لیکس پر اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد آڑے آگیا اور کئی لمبی لمبی زبانوں کو بریک لگ گئی

یہ ایک ایسی خبر تھی جس کےسامنے آنے کے بعد پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کئی رہنما تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی خوب خبر لینا چاہتے تھے لیکن پاناما لیکس پر اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد آڑے آگیا اور کئی لمبی لمبی زبانوں کو بریک لگ گئی۔ خبر یہ تھی کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے اس سال کے صوبائی بجٹ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے لئے 30کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔
اس خبر میں رنج و الم او ر طنز کے رنگ بھرنے والوں نے قوم کو یاد دلایا کہ یہ وہی دارالعلوم حقانیہ ہے جسے طالبان کی نرسری کہا جاتا ہے اور یہ وہی درسگاہ ہے جس کا ایک سابقہ طالبعلم محترمہ بینظیر بھٹو پر حملہ کرنے والوں میں بھی شامل تھا۔ خیبرپختونخوا حکومت پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ایک مخصوص مکتبہ ٔ فکر سے تعلق رکھنے والے نجی دینی مدرسے کو سرکاری خزانے سے 30کروڑ روپے دے کر ناانصافی کی ہے۔

یہ خیال آرائی بھی کی گئی کہ تحریک ِ انصاف کی صوبائی حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کی مخاصمت میں مولانا سمیع الحق کے مدرسے پر نوٹوں کی بارش کرکے اپنے دل میں لگی ہوئی آگ کوبجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس خبر پر پیپلزپارٹی اور اے این پی کے کئی لیڈروں کی بے چینی کو اس خاکسار نے دیکھا تو بیچاروں کی بے بسی پر کافی ترس آیا لیکن پھر بے بسی کی ان زنجیروں کو توڑنے کا سلسلہ شروع ہوا۔پیپلزپارٹی کی سنیٹر روبینہ خالد نے دارالعلوم حقانیہ کے لئے 30کروڑ روپے کی امداد پر اعتراض اٹھایا اوراس کے بعد اے این پی کے سینیٹرزاہد خان بھی میدان میں آگئے۔ زاہد خان نے کہا کہ ان کی جماعت پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے تحریک ِ انصاف کے ساتھ ہے لیکن اگر تحریک ِ انصاف سڑکوں پر آئے گی تو ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور ہم دارالعلوم حقانیہ کے لئے 30کروڑ کی گرانٹ پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

ایک طرف تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان عیدالفطر کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تیاریاںکر رہے ہیں۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں تیزی کے ساتھ دراڑیں واضح ہو رہی ہیں۔یہ دراڑیں ایک ایسے وقت میں پھیل رہی ہیں جب حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی گروپ بن رہے ہیں۔

یہ گروپ نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور کچھ دیگر ’’مغرور‘‘ وزرا کے نامناسب رویئے کے خلاف جنم لے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ کی افطار دعوتوں کو ٹھکرا کر مسلم لیگ (ن) کے ناراض ارکان نے یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی تعداد خطرے کے نشانات عبور کرچکی ہے لیکن وہ صرف چندوزرا کے لئے خطرہ بن رہے ہیں ۔

وہ بجٹ کی منظوری میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے لیکن جب بھی کوئی بڑا وزیر قومی اسمبلی میں خطاب کرے گا تو یہ ناراض ارکان ڈیسک بجانے کی بجائے ایک دوسرے کو دیکھ کرمسکرائیں گے۔ حکمران جماعت کے سات درجن سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی ناراضی کااپوزیشن جماعتیں کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکیں کیونکہ وہ خود یہ طے نہیں کرپا رہیں کہ اگر پاناما پیپرز پر تحقیقات کے لئے طریقہ کار پر حکومت کے ساتھ کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا تو حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟
فی الحال اپوزیشن کی صرف ایک جماعت سڑکوں پر آنےکی تیاری میں ہے۔ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا میں تحریک ِ انصاف کی اتحادی ہے لیکن آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات کے لئے جماعت اسلامی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرکے بہت بڑا سرپرائز دے دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے معاملے پر اتفاق رائے نظر نہیں آتا۔ خورشید شاہ کی رائے اور چوہدری اعتزاز احسن کی رائے میں فرق چھپائے نہیں چھپتا۔

پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر تحریک ِ انصاف کے ساتھ مل کر سڑکوں پر احتجاج کیا گیا تو آزادکشمیر کے انتخابات میں تحریک ِ انصاف کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟ پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر وہ تحریک ِ انصاف کے ساتھ مل کر تحریک چلاتے ہیں تو کچھ طالع آزما جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتے ہیں اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے والوں کا رویہ آصف علی زرداری کے ساتھ وہی ہوگا جو نواز شریف کے ساتھ ہوگا۔

ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی کے کسی غیرسندھی رہنما کو نئی نگران حکومت میں شامل کرلیا جائے لیکن آصف علی زرداری سے لے کر ڈاکٹر عاصم حسین تک کسی کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایم کیو ایم اور تحریک ِ انصاف کے بعض رہنمائوں کے ساتھ بھی ہوگا۔

دارالعلوم حقانیہ کے لئے 30کروڑ کی گرانٹ پیپلزپاٹی اور تحریک ِ انصاف کے درمیان ایک نئی وجہ نزاع بن رہی ہے

بہت سے اندیشے اور وسوسے پیپلزپارٹی کو عیدالفطر کے بعد سڑکوں پرآنے سے روک رہے تھے لیکن دارالعلوم حقانیہ کے لئے 30کروڑ کی گرانٹ پیپلزپاٹی اور تحریک ِ انصاف کے درمیان ایک نئی وجہ نزاع بن رہی ہے۔ دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو مولانا سمیع الحق کی سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن دارالعلوم حقانیہ کی علمی حیثیت کو آسانی سے نظرانداز کرنا کافی مشکل ہے۔
دارالعلوم حقانیہ پر ا عتراضات کا جواب تو مولانا سمیع الحق دیں گے لیکن اس ادارے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ 1947میں مولانا عبدالحق مرحوم نے ایک مسجد میں یہ مدرسہ قائم کیا تو اے این پی کے سابق صدر اجمل خٹک مرحوم ان کےساتھ تھے اور کچھ عرصہ اس مدرسے میں استاد بھی رہے۔

1956میں اس مدرسے کی نئی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور اس مدرسے کو اپنی جیب سے چندہ دینے والوں میں اے این پی اور پیپلزپارٹی کے کئی نامی گرامی رہنما بھی شامل تھے۔ حال ہی میں دارالعلوم حقانیہ نے مولانا سمیع الحق کی ایک ڈائری کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق کی ڈائری کو مولانا عرفان الحق حقانی نےمرتب کیا ہے۔ اس ڈائری کے مطابق خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے بھی دارالعلوم حقانیہ کادورہ کیا۔ ڈائری میں باچا خان اور مولانا سمیع الحق کے درمیان 1958 کا ایک مکالمہ درج ہے جس کے مطابق باچا خان نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ہاتھ پرباقاعدہ بیعت کی تھی اور حاجی صاحب ترنگزئی کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں حصہ لیا تھا۔

باچا خان نے کابل کو پہلی ہجرت بھی شیخ الہند کے حکم پر کی۔ ڈائری میں یہ انکشاف بھی شامل ہے کہ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کی بیوی اوربیٹی دعا کے لئے مولانا عبدالحق کے پاس دارالعلوم حقانیہ میں آیا کرتی تھیں۔ جب یحییٰ خان نے مولانا عبدالحق سے ملاقات کی خواہش کی تو مولانا نے انکار کردیا۔ مولانا عبدالحق نے 1970کے انتخابات میں اجمل خٹک کو شکست دی اور قومی اسمبلی میں پہنچ کر آئین سازی میں اہم کردارادا کیا۔ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کے صوبائی گورنر حیات محمد خان شیرپائو اور پھر دوسرے گورنر ارباب سکندر خان خلیل اس دارالعلوم کے دورے کرتے رہے اور اپنی جیب سے اسے چندہ دیتے رہے۔

ڈائری کے مطابق ایک دفعہ خان عبدالولی خان اور افضل خان لالہ بھی دارالعلوم حقانیہ آئے اور ولی خان نے اپنی جیب سے سو روپے چندہ دیا۔ ولی خان نے دارالعلوم کی تاثراتی کتاب میں لکھا کہ یہ ان کا تیسرا دورہ تھا۔ وہ پہلی مرتبہ اپنے والد اور دوسری مرتبہ مولانا بھاشانی کے ہمراہ وہاں آئے۔ ڈائری میں پرویز رشید پر کچھ الزامات لگائے گئے ہیں جب وہ 1977 میں صوبائی وزیراعلیٰ نصراللہ خٹک کی انتخابی مہم کے انچارج تھے۔

مولانا سمیع الحق کی ذات پر اعتراض کرنے والے مت بھولیں کہ 1993میں ان کا متحدہ دینی محاذ پنجاب میں پیپلزپارٹی اور جونیجو لیگ کی مخلوط حکومت میں شامل تھا اور مرکز میں آصف زرداری اور فاروق لغاری نے متحدہ دینی محاذ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

اس معاہدے میں مولانا سمیع الحق کے ساتھ ساتھ مولانا شہید احمد اورمولانا اعظم طارق بھی شامل تھے۔ دارالعلوم حقانیہ کو 30کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کی وجوہات تو پرویز خٹک بتا سکتے ہیں لیکن اس ادارے کو طالبان کی نرسری اور بینظیر صاحبہ کے قاتلوں کی آماجگاہ قرار دینےوالے یہ بھی بتائیں کہ ان کے بزرگ اس ادارے میں کیوں جایا کرتے تھے اور اپنی جیب سے چندہ کیوں دیا کرتے تھے؟

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں