یہ کیسی تحریک انصاف ہے؟

یہ کیسی تحریک انصاف ہے؟
آدھا سچ۔۔خالد منہاس

یہ کیسی تحریک انصاف ہے جس کے اندر انصاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ یہ ہے وہ تصور جو کچھ لوگوں میں موجود ہے ۔بہرحال انہوں نے تماشا خوب لگایا ہے۔ایسے ایسے لوگ ڈھونڈ کر اسمبلی میں لائے گئے ہیں کہ الحفیظ الامان۔مراد سعید کو ہی لیجیے۔ وزیراعظم نے سو میں سو نمبر دے دیے اور انہیں وزیر مملکت سے فل وزیر بنانے کا اعلان کر دیا۔ پتہ نہیں انہوں نے کون سا تیرمارا ہے کہ اسے اتنا سراہا جا رہا ہے۔ یہ تحریک انصاف ہے جس میں مراد سعید اسمبلی کے اندرہے اور افتخار چوہدری اسمبلی سے باہر ۔جس نے اپنا سب کچھ پارٹی پر نچھاور کر دیا اس کے خاندان کو کسی نے پوچھا تک نہیں اور جو پارٹیاں بدل بدل کر تحریک انصاف کے ریوڑ کی طرف ہانکے گئے انہیں وزارتوں سے نواز دیا گیا۔ کسی کو احسن رشید یاد ہے ۔ یہ جو آج وزیراعظم عمران خان ہیں ان کی پارٹی ان کے چندے کی مرہون منت تھی۔جو کردار آج جہانگیر ترین ادا کر رہے ہیں ماضی میں یہی کردار احسن رشید کا تھا۔ انہوں نے ہی سعودی عرب میں رہ کر ان کے لیے پیسہ اکٹھا کیا مگر مجال ہے کہ ان کے نام کی لاج ہی رکھی گئی ہو۔ بیچارہ کینسر سے مر گیا اسے مر ہی جانا چاہیے تھا کہ کل کو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا جو پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔پنجاب میں لفظی گولہ باری کے لیے فیاض الحسن چوہان کا انتخاب خوب ہے۔ فواد چوہدری بھی کمال ہیں وہ اپوزیشن اور میڈیا کو خوب ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔ جس کو سراہا جانا چاہیے تھا اس کی وزارت کے بارے میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ وزیراعظم ان کی کارکردگی سے خوش نہیں اور انہوں نے چار بار شیخ رشید سے کہا ہے کہ وہ وزارت اطلاعات میں آ جائیں۔ ننگ راولپنڈی کی اب تک کی کیا کارکردگی ہے سوائے بیان بازی کے۔ دوسرے وزراء جو کام کرناچاہتے ہیں وہ بھی کام چھوڑ کر مراد سعید اور شیخ رشید کے نقش قدم پر چل نکلیں گے کہ کام کرنے کی ضرورت نہیں بس بیان بازی اور جملے بازی میں مہارت حاصل کر لی جائے تو بات بن جائے گی۔
عمران خان اپنے اس لاڈلے وزیرکی تربیت کا اہتمام بھی کر دیتے تو جگ ہنسائی کا سامان پیدا نہ ہو۔ ان کی تقریر کو لوگ اب بھی مزے لے کر سنتے ہیں کہ جس دن عمران خان وزیراعظم بنے گا دو سو ارب ڈالر لے کر آئے گا ۔ اب تازہ ترین شوشا انہوں نے یہ چھوڑا ہے کہ اسمبلی میں موجود سات ارکان نے ان سے این آر او مانگا ہے۔ واہ میاں واہ۔ اسے کہتے ہیں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔اپوزیشن اب ایک اسٹیٹ منسٹر سے این آر او مانگے گی۔شاید اپوزیشن لیلی سے دوستی کے لیے اس کے کتے سے دوستی کے محاورے پر عمل پیرا ہو۔ عمران خان نے اپنی ٹیم کو مزید تین ماہ دے دیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کو چیک کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ اس ٹیم کو بدل دینا چاہیے جنہوں نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک اپوزیشن کے موڈ سے باہر نہیں آئی یا انہیں شاید ابھی تک کام کرنے کا ڈھنگ نہیں آیا۔ نا تجربہ کار ٹیم منہ زور بیوروکریسی کو کس طرح قابو کرے گی ؟ یہ وہ سوالیہ نشان ہے جس کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو۔ڈالر کو پرلگ گئے ہیں ملک کے قرضے کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں۔ منہگائی کا طوفان لوگوں کی آمدنوں کونگل رہا ہے۔ چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہے۔
یہ شوکت خانم ہسپتال نہیں کہ معاملات ایک ٹیم کے سپرد کر کے دنیا سے کریڈٹ لے لیا جائے کہ دیکھا میں نے کیسا اچھا ہسپتال بنایا ہے ۔ یہ آپ کی انتظامی صلاحیتوں کا امتحان ہے ۔ جو ٹیم آپ نے چنی ہے اس میں یہ صلاحیت اور استعداد ہی نہیں کہ وہ ملک کو چلا سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو ملک چلا رہے ہیں وہ خوب چلا رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کو اندر کر دیا خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق بھی پابند سلاسل ہیں۔ یہ لمبے ناک والی مریم اورنگ زیب بہت بڑھ چڑھ کر بولتی ہے اسے بھی طلب کر لیا گیا ۔ خواجہ آصف کی باری ہے۔ آصف علی زرداری ، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری کو بھی پیش ہونے کا فرمان عالی شان جاری ہو چکا ۔غلام حیدر وائیں جلسو ں میں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یا ر پھرے۔ جس نے بھی کرپشن کی ہے اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں ان کا کڑا احتساب کیا جائے مگر ترازو کو ایک طرف نہ جھکا دیں ۔اپوزیشن کے جن لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے اگر انہوں نے قوم کا پیسہ لوٹا ہے تو ضرور ان کے خلاف کارووائی کریں ان کی جائیدادیں نیلام کریں اور رقم قومی خزانے میں جمع کروائیں۔ذرا تحریک انصاف کے ان لوگوں کو بھی پکڑیں جو فرشتے نہیں اور جن کے دامن صاف نہیں ہیں۔ علیمہ خان،علیم خان پرویز خٹک سمیت ان تمام لوگوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جن کی طرف انگلیاں اٹھی ہوئی ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔میری اس حکومت سے کوئی مخاصمت نہیں اور نہ ہی میں گذشتہ حکومت کا طرف دار ہوں۔یہ وہی شہبازشریف ہیں جنہوں نے ایف بلاک کے صحافیوں سے گیارہ سال تک چھت چھینے رکھی۔ ایف بلاک کے پیسے بھی ریلیز ہوئے مگر اس کا افتتاح کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔تحریک انصاف کی حکومت آئی اور عثمان بزدار وزیراعلی بنے تو انہوں نے آتے ہی ایف بلاک کی الاٹ منٹ کے احکامات جاری کر دیے۔جس نے جتنا کام کیا اس کا اتنا کریڈٹ تو اسے ملنا چاہیے ۔
کرتارپور راہداری جو ایک عرصہ سے التوا کا شکار تھی وہ اس حکومت کے دور میں شروع ہوئی ۔گذشتہ حکومتوں نے بھی اس پر کام کیا مگر اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ اب یکا یک سب ادارے ایک پیج پر آ گئے اور انہو ں نے کرتارپور کی راہداری کو کھولنے کا اعلان کر دیا۔چند ووٹوں کی برتری سے قائم حکومت سے بڑے بڑے فیصلے کروائے جارہے ہیں۔کرتاپور کی راہداری کو کھولنے کو سب سراہتے ہیں۔یہ کام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ پہلی بار اسے کشمیر سے الگ کر کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ حکومت کام کر کے دکھائے تو سہی سب اسے سراہیں گے مگر محض لفظی گولہ باری سے دشمن کے قلعے سر نہیں ہوتے۔پنجاب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پنجاب کے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شایدا ن سے انتقام لیا جارہا ہے اور خاص طور پر لاہور یے اس کو زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔تحریک انصاف ایک نئی روایت کو جنم دے کہ اس کے دور میں صرف اپوزیشن کے خلاف کارووائی نہیں ہوئی بلکہ ان لوگوں کو بھی نہیں بخشا گیا جو حکومت کا حصہ تھے۔اگر یہ ہو گیا تو پھر لوگ کہیں گے کہ یہ کیسی تحریک انصاف ہے جس نے انصاف کے لیے اپنے پرائے میں کوئی فرق نہیں رکھا۔یہ صرف لفظوں سے نہیں ہو گا بلکہ عملی طور پر ایسا نظر آنا چاہیے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں