کوئٹہ پولیس کالج پر حملہ، 59 اہلکار جاں بحق، 120زخمی

کوئٹہ(پی ایف پی)کوئٹہ کے سریاب روڈ پر قائم پولیس کے ٹریننگ کالج پر مسلح افراد کے حملے میں 59 پولیس کیڈٹس جاں بحق اور 120 زخمی ہوئے جبکہ فورسز کے آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے.

تاہم انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور (ایف سی) میجر جنرل شیرافگن نے آپریشن کی تکمیل کے بعد وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہلاکتوں کے حوالے سے فی الحال حتمی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن اب تک ‘حملے میں 20 سے زائد اہلکار جاں بحق جبکہ 65 اہلکار زخمی ہوئے’۔

شیرافگن کا کہنا تھا کہ حملہ آور دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے.
اب تک کی اطلاعات

دہشت گرد رات ساڑھے 11 بجکر 10 منٹ پر پولیس ٹریننگ کالج میں داخل ہوئے

فائرنگ اور دھماکوں سے59 جاں بحق اور 120 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے

آپریشن میں 3 خود کش حملہ آور ہلاک ہوگئے

250 سے زائد زیر تربیت اہلکاروں کو بازیاب کرالیا گیا

آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ ‘حملے میں 3 دہشت گرد شامل تھے جنھوں نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی اور دو نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ تیسرے کو آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا’.

ان کا کہنا تھا ہم نے فوری آپریشن شروع کیا اور آپریشن کو مکمل کرنے میں چار گھنٹے لگے.

شیرافگن کا کہنا تھا کہ کالج میں زیر تربیت زخمی اہلکاروں میں کسی کو سنجیدہ زخم نہیں آئے تاہم آپریشن میں حصہ لینے والے چند فوجی اہلکار شدید زخمی ہوئے.

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفرازبگٹی نے بتایا کہ تین دہشت گردوں نے پولیس کالج پر حملہ کیا،دہشت گردوں نے سب سے پہلے چیک پوسٹ پر موجود سنتری کو نشانہ بنایا جو موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جس کے بعد دہشت گرد ٹریننگ کالج میں داخل ہوئے۔

عام طور پر اس سینٹر میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں، دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران کم سے کم تین دھماکے سنے گئے جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔

پولیس سینٹر میں موجود کیڈٹس کو اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز نے ریسکیو آپریشن کرکے کالج سے باہر نکالا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران دو فوجی ہیلی کاپٹرز فضائی معاونت بھی فراہم کرتے رہے۔
پولیس کالج میں مسلح افراد کا حملہ

قبل ازیں سینیئر سپریٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن محمد اقبال نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے 4 پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ایک پولیس اہلکار ٹریننگ کالج میں جبکہ ایک پولیس اہلکار دوران علاج جان بر نہ ہوسکا۔

پولیس کے مطابق ٹریننگ کالج کے ہاسٹل میں 600 کیڈٹس زیر تعلیم تھے جسے سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے بعد کلیئر قرار دے دیا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ 4 سے زائد حملہ آور ٹریننگ کالج کے پیچھلے راستے سے عمارت میں داخل ہوئے تھے جن کے خلاف فوج، ایف سی اور پولیس کمانڈوز کی جانب سے آپریشن کیا گیا اور 250 سے زائد کیڈٹس کو بازیاب کرا لیا گیا۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 200 زیر تربیت اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آپریشن میں اب تک دو حملہ آور بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہسپتال کی سیکیورٹی سخت

مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہسپتالوں کے باہر سیکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کئے گئے ہیں بالخصوص 8 اگست کو دہشت گردوں کی جانب سے سول ہسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔

20 سے زائد زخمی کیڈٹس کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جبکہ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
پولیس کمانڈوز ٹریننگ کالج میں داخل ہورہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز .

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر ٹریننگ کالج اور اس کے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔

ادھر صوبائی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے عملے کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ 3 سے 4 دہشت گرد ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوئے تھے اور فائرنگ شروع کردی جس کے بعد افراتفری پھیل گئی اور متعدد افراد ہاسٹل کی جانب چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت حملہ آور ہاسٹل میں داخل ہوئے اس وقت 10 سے 12 افراد موجود تھے، ان کاکہنا تھا کہ حملہ آور ساڑھے 9 بجے ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوئے جنھوں نے نقاب پہن رکھے تھے۔

ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں صوبائی انتظامیہ کے علاوہ فوجی حکام اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ اہلکار بھی موجود تھے جہاں آپریشن کے حوالے سے حکمت عملی اپنائی گئی۔

وزیراعظم کی پولیس کالج پر حملے کی مذمت

وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔

انھوں نے زیر تربیت پولیس اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور گیارہ بجے پولیس ٹریننگ کالج میں داخل ہوئے تھے، ٹریننگ سینٹر شہر سے باہر دیہی علاقہ قائم ہے.

انھوں نے بتایا کہ تین چار روز قبل دہشت گردی کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں نے اطلاعات دی تھیں، جس میں بتایا گیا کہ تین چار دہشت کوئٹہ میں داخل ہوئے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔

انھوں نے فائرنگ سے 4 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر قائم پولیس ٹریننگ کالج میں دہشت گردوں نے حملہ کردیا — فوٹو: رائٹرز.

خیال رہے کہ سریاب روڈ کا علاقہ سیکیورٹی حوالے سے انتہائی حساس علاقہ قرار دیا جاتا ہے جہاں ماضی میں متعدد مرتبہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ پولیس ٹریننگ کالج کو پہلے بھی نشانہ بنایا چکا ہے۔

کسی بھی تنظیم یا گروپ نے پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

تاہم ماضی میں صوبہ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے صوبے میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

13 ستمبر 2016 کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڑ پر پولیس ٹریننگ کالج کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکار ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

8 اگست کو کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک اور 112 سے زائد زخمی ہوئے تھے، ہلاک ہونے والوں میں ڈان نیوز کا کیمرہ مین بھی شامل تھا جبکہ اکثریت وکلا کی تھی جو بلوچستان بارکونسل کے صدر انور بلال کاسی کے قتل کی خبر سن کرہسپتال پہنچے تھے۔

28 جون 2016 کو کوئٹہ میں فائرنگ کے 2 مختلف واقعات میں 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ پولیس ٹریننگ کالج ماضی میں 2008 اور 2006 میں بھی دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آیا تھا جہاں کالج کے میدان میں راکٹ فائر کئے گئے تھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں