کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

لاہور (پی ایف پی) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے عندیہ دیا ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں اور شعبہ فارماکالوجی ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ چھ سالوں سے کوئی پروفیسر ہی موجود نہیں ہے علاوہ ازیں ڈیپارٹمنٹ میں نہ تو کوئی ایسوسی ایٹ پروفیسر، نہ ہی اسسٹنٹ پروفیسر اور نہ ہی گزشتہ کئی سالوں سے کوئی سینئر رجسٹرار اور کوئی سینئر فیکلٹی ممبر نہ ۔گزشتہ روزینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن میو ہسپتال کے میڈیا سیکرٹری ڈاکٹر ظفر اللہ خان نے اپنے جاری کر دہ بیان میں مزید کہاکہ ایک جونیئر ڈیمانسٹریٹر ڈاکٹر روبینہ کو بغیر کسی سپیشلسٹ ڈگری کے ایکٹنگ پروفیسر کے اختیارات دیئے گئے ہیں
جو کہ نہ صرف سٹوڈنٹس بلکہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی جیسے دنیا بھر میں مشہور کالج کے ساتھ مذاق ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر روبینہ ابھی تک ایم فل کی سٹوڈنٹ ہیں انہوں نے کہاکہ اب ایک ایم فل M.phil سٹوڈنٹ کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی جیسے دنیا کے بہترین اور ٹاپ کلاس ادارے کا ایکٹنگ پروفیسر لگا دیا گیا ہے۔ یاد رہے فارماکالوجی مضمون کو MBBS کا سب سے مشکل اور پیچیدہ اور اہم مضمون سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ا?پ کو نہ صرف دوائیوں بلکہ ان کے استعمال اور نقصانات کے بارے میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔کوئی قابل ٹیچر نہ ہونے کی وجہ سے سٹوڈنٹس ٹیوشن پڑھ کر اپنی کمی پوری کرتے ہیں۔جب سے ڈاکٹر فیصل مسعود وائس چانسلر بنے ہیں
اس دن سے یونیورسٹی کا نہ صرف معیار گرتا جا رہا ہے بلکہ ہر سینیئر ڈاکٹر اور پروفیسر ہی اس کے رویے سے تنگ ا? کر چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ان کی جگہ کوئی نیا بندہ بھی نہیں آ رہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میو ہسپتال کے لیڈران ڈاکٹر شہریار خان، ڈاکٹر فیضان اکرم اور ڈاکٹر ظفر اللہ خان نے بتایا کہ ان مسائل کے علاوہ بھی یونیورسٹی کے بھت سے مسئلے ہیں اور یونیورسٹی کی رینکنگ دن بدن نیچے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کئی بار ایڈمنسٹریشن کو یاد دہانی کروائی گئی مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارا وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ نہ صرف یونیورسٹی کی فیکلٹی پوری کی جائے بلکہ یونیورسٹی کو بھی اپ گریڈ کیا جائے۔تا کہ سٹوڈنٹس پوری دنیا میں اس ادارے اور ملک کا نام روشن کر سکیں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں