کشمیر کرفیو کا 14واں روز، ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی

سری نگر(پی ایف پی) ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری کرفیو کے 14ویں روز مظاہرین اور ہندوستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ایک نوجوان ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے علاقے اوانتی پور میں ہندوستانی فوجی اہلکاروں نے جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں مشتاق احمد نامی نوجوان نے موقع پر دم توڑ دیا، جبکہ ککرناگ کے کے ہسپتال میں داخل ایک زخمی نے دم توڑ دیا جس کے بعد کرفیو کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 50 ہوگئی۔

کاکاپورا اور سوپور میں احتجاج کے دوران گولیاں لگنے سے شدید زخمی دوافراد کو ہسپتال لایا گیا جبکہ سوپور میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

رائزنگ کشمیر کی رپورٹ میں کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اور فورسز کی فائرنگ سے چھرسو کے تعلق رکھنے والے نوجوان مشتاق احمد ہلاک ہوگئے۔

کشمیر مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد مسلسل 14ویں روز بھی کرفیو نافذ رہا اور مواصلات کا نظام مکمل طورپر بند رہا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مزید احکامات آنے تک کرفیو اور دیگر پابندیاں بدستور قائم رہیں گی جبکہ مقامی حکام نے مظاہرین کو کھانے پینے کی اشیا کے لیے دوپہر کو بھی کرفیو میں نرمی کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کرفیو کے نفاذ کے باعث کشمیر میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہو گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورکس بھی کام نہیں کررہے اور ریلوے کا نظام بھی مفلوج ہے۔

حریت رہنما سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماؤں نے احتجاج اور ہڑتال کو 25 جولائی تک بڑھانے کی کال دی تھی۔

ہندوستانی پارلیمنٹ میں کشمیر کے معاملے پر بحث جاری ہے جہاں کانگریس کے رکن جیوترادتیا مادھوراؤ سِندیا نے’رائے شماری‘ کا مطالبہ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر، ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے جیوترادتیا مادھوراؤ سِندیا نے کہا کہ کشمیر میں اب رائے شماری کی ضرورت ہے، پی ڈی پی ۔ بی جے پی کی حکومت نے وہاں تمام اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، انتظامیہ تقسیم ہے اور وہاں کی حکومت، جسے لوگوں کی حمایت کرنی چاہیے تھی وہ عوام کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے 22 سالہ کمانڈر کو ہندوستانی فوج نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ہلاک کردیا تھا جس کے بعد کشمیر بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک غیر معمولی اجلاس ہوا، جس کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت نے ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کو ہندوستان کی طرف سے اندرونی معاملہ قراردینا حقیقتاً غلط ہے اور ہندوستان کا یہ موقف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

بعد ازاں نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابات میں اپنی جماعت مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد کارکنوں اور رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس دن کا انتظار ہے جب کشمیر آزاد ہوگا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں