کشمیر، ہم کو ان سے ہے وفا کی امید

آدھا سچ۔۔ خالد منہاس

پاکستان کی حمایت یافتہ چند عسکری تنظیموں نے کشمیر کو اسلام اور کفر کا مسئلہ بناکر لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کی کوشش کی مگر اس وجہ سے یہ مسئلہ مزید پچیدہ ہوا ۔یہ ا ن کی مجبوری تھی کہ اسلام کا نام لیے بغیر افرادی قوت اور پیسہ اکٹھا کرنا مشکل تھا۔ یہی حربہ ان لوگوں نے افغانستان میں استعمال کیا تھا مگر کشمیر اس سے قطعی طور پر مختلف ہے۔وہ بھول گئے کہ سری نگر کابل ہے نہ کشمیرافغانستان ہے۔ کشمیر مختلف مذہبی گروپوں کا مسکن رہا ہے اور یہی وہ خوبصورت گلدستہ ہے جس کا حسن ان جہادیوں نے بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں بیٹھے ان گروہوں اور گروپوں کے لیے کشمیر محض ایک ٹاسک ہے اور اس ٹاسک کو انجام دینے کے لیے انہیں مطلوبہ وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں ۔ پاکستان کا معاشرہ اسلام کے نام پر ان کی تجوریوں کے منہ بھر رہا ہے اور کبھی مقتدر ادارے ان کو استعمال کرنے کے لیے ان کی خدمات کی ادائیگی کرتے ہیں۔جب آپ دہلی کے لال قلعے پر جھنڈے لگانے کی بات کریں گے توبھارت کے لوگ اس مسئلہ کو کیونکر حل کرنے میں سنجیدہ ہوں گے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہاہے مگر ان کے خلاف پاکستان کی حکومت کا رد عمل بہت دیر سے آیا اور بہت سے لوگ یہ کہنے لگے کہ حکمرانوں کے کاروباری مفادات اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک طرف آپ ٹاٹا اور متل کے ساتھ کاروباری شراکت کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں۔ یوم سیاہ کی کال شاید اس لیے بھی دی گئی کہ آزادکشمیر میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ سری نگر میں لوگ شہید ہو رہے ہیں اور سینکڑ وں افراد کو زخمی کر دیا گیا ہے اور بھارت اس دفعہ ایک خاص قسم کا حربہ استعمال کر رہاہے اور وہ ان گولیوں کو استعمال کر رہا ہے جس سے لوگوں کی آنکھیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد نے یوم سیاہ منا کریہ سمجھ لیا کہ شاید انکا فرض پورا ہو گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا ردعمل پاکستان سے بہت پہلے آ گیا مگر اسلام آباد مصلحتوں کا شکار رہا ۔
وادی کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ اسے اپنی امید وں کا مرکز مانتے ہیں ، اس کے جھنڈے لہراتے ہیں بھارتی گولیوں کو سینے پر جھیلتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ اسلام آباد کی غلامی چاہتے ہیں۔ وہ حق خودارادیت چاہتے ہیں جس کے تحت خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا ایک خود مختار ریاست کی حیثیت سے دنیا میں الگ شناخت چاہتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ بھارت اگر کشمیریوں سے خوف زدہ ہے تو پاکستان اس سے بھی زیادہ مخمصوں کا شکار ہے۔ دونوں کشمیریوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ بھارت نے اٹوٹ انگ کا نعرہ بلند کیا تو پاکستان نے کشمیر بنے گا پاکستان کا ۔پاکستان اس بات پر راضی ہے جو اس کے پاس ہے اس کو قانونی جواز مل جائے ۔محض اسلام آباد یا لاہور میں جماعتہ الدعوۃ کی ریلیوں سے عالمی برادری کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑا جا سکتا۔ اسلام آباد یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بھارت کی جانب سے تشدد کی تازہ ترین لہر کے حوالے سے اس نے سفارتی محاذ پر کوئی کام کیا ہے۔ زبانی جمع خرچ ہی ہو رہاہے ۔لالی پاپ دیے جارہے ہیں۔
ہم شاید یہ بھول گئے ہیں کہ اسلام آباد کے زیر انتظام کشمیر جسے آزادکشمیر کہتے ہیں ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے ۔ سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد مظفرآباد کو سیاسی حقوق دینے کے لیے تیا رنہیں ہے۔کشمیر اسمبلی کے انتخابات تو ہو رہے ہیں مگر وہاں اپنی مرضی کی حکومت بنانے کے لیے جتن کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف اس مقصد کے لیے پاکستان میں مہاجرین کی بارہ سیٹوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسمبلی سے زیادہ اختیارات کا حامل ادارہ کشمیر کونسل ہے۔فنڈز سے لے کر سیاسی معاملات تک ہر قسم کے اختیارات اس ادارے کو حاصل ہے۔ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ یہ مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ کشمیر کونسل کو ختم کیا جائے یا اس کے کردار کو محدود کیا جائے۔کشمیر کے تمام انتظامی فیصلے اسلام آباد کی بیوروکریسی کرتی ہے۔کشمیر محض ایک علاقہ ہے جہاں پر اسلام آباد حکومت کرنا چاہتا ہے اور اس کے وسائل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کے لوگوں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ جموں میں کیا ہو رہا ہے وہاں کے لوگوں کی سوچ کیا ہے؟ بھارت نے وہاں کتنے منظم انداز میں مسلم آباد ی کو اقلیت میں تبدیل کرد یا ہے اور بڑی مہارت کے ساتھ کشمیریوں ہندوؤں کو تحریک سے الگ کر دیا ہے۔ لداخ کے لوگ بھی جموں کی طرح ہی ہیں۔اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی نے مسئلہ کشمیر کو محض سری نگر تک محدود کر دیا ہے۔اب بات پر دونوں جانب اتفاق موجود ہے کہ اسلام آباد جموں اور لداخ کے معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھے گا اور نئی دہلی آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو نظر انداز کیے رکھے گا۔دونوں ملکوں کا مفاد کشمیر کی وحدت میں نہیں ہے بلکہ اس کے حصے بخرے کرنے میں ہے۔
ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
(کالم نگار کشمیر ریسورس سنٹر کے ڈائریکٹر اور جموں و کشمیر جرنلسٹ فورم کے صدراور ڈیلی پاکستان ڈاٹ ٹوڈے کے مدیر ہیں)

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں