کسی بھی مسئلے کا سفارتی حل پہلے عسکری حل بعد میں ہوتا ہے، شاہ محمود قریشی

مودی سرکار اپنے سیاسی مقاصد کیلئے پورے خطے کو جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے
گرفتار بھارتی پائلٹ کی رہائی کیلئے پاکستان کو کوئی عالمی دباؤ نہیں تھا
ہم نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے ساتھ انسانیت والا سلوک کیا مگر افسوس بھارت نے ہمارے قیدی شاکر کا خیال نہیں رکھا،وزیر خارجہ کا پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور (پی ایف پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کسی بھی مسئلے کا سفارتی حل پہلے ہوتا ہے اور عسکری حل بعد میں ہوتا ہے۔ مودی سرکار اپنے سیاسی مقاصد کیلئے پورے خطے کو جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے، گرفتار بھارتی پائلٹ کی رہائی کیلئے پاکستان کو کوئی عالمی دباؤ نہیں تھا، ہم نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے ساتھ انسانیت والا سلوک کیا مگر افسوس بھارت نے ہمارے قیدی شاکر کا خیال نہیں رکھا۔

ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ قوموں پر جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو قوموں کو مل کر محاذ پر لڑنا ہوتا ہے۔ عسکری حل کسی مسئلے کا آخری حل ہوتا ہے جبکہ سفارتی حل پہلا حل ہوتا ہے جمہوریت میں پارلیمنٹ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ ہماری مسلح افواج نے ثابت کردیا کہ وہ ہر جارحیت کا مقابلہ کر سکتی ہیں انہوں نے اپنی دھاک بٹھا دی ہے ہم مزید عسکری محاذ کو استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن دفاع کا حق ہم رکھتے ہین سفارتی سطح پر ہم پلوامہ واقعہ سے پہلے ہم وزارت خارجہ الرٹ تھا کیونکہ ہمیں خبریں مل رہی تھیں کہ مودی سرکار اپنی مقبولیت کھو چکی تھی بھارت میں مقبولیت حاصل کرنے کا آسان طریقہ پاکستان مخالف بیان بازی ہے اس سے وہ اپنے اندر قومی یکجہتی پیدا کرتے ہیں

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس میں ان کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ خطے میں اور خطے سے باہر ہمارے رابطے جاری ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ کی اہمیت ہوتی ہے ہم نے اسمبلی میں قرار داد پیش کی جسے ایوان نے پاس کیا اس قرار داد سے ہم نے دنیا کو پیغام دیا ہے اور دنیا کو اپنا موقف پیش کیا ہے قرار داد کی آخری شق میں ہم نے بھارت کی پارلیمنٹ کو پیغام دیا ہے کہ ہم امن کے دائی ہیں اور خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں اپ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اس کا مقصد یہ تھاکہ پورے بھارت میں سب کی سوچ مودی سرکار جیسی نہیں ہے وہاں بہت بڑا طبقہ امن چاہتا ہے جنگ نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت دونوں اطرف کی فضائیہ الرت ہیں لیکن میں حقائق ضرور بیان کروں گا کہ بھارت میں ایک بڑا طبقہ امن چاہتا ہے پاکستان کی پارلیمنٹ اس طبقے سے مخاطب ہے کہ آپ کو اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ہم نے برطانوی دارالعلوم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے دنیا کوامن چاہنے والوں اور جنگ چاہنے والوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا ۔

ہم نے سترہ سال مغربی سرحد پر کشیدگی برداشت کی ہے اور 70 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ وزیرستان میں ہماری افواج کی کارکردگی کو دنیا سراہ رہی ہے ہم جنگ نہیں چاہتے یہ ہماری خواہش اور سوچ نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مودی سرکار کی جنگ کی خواہش ہو تاکہ اپنے سیاسی مفادات حاصل کر سکیں اور خطے کو آگ میں جھونک سکیں جنگ شروع کرنا آسان ہے ختم کرنا مشکل ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس حد تک نہ جائیں کہ میں بے بس ہوجاؤں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت جاری ہے ۔ پوری برطانوی اور امریکی پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ میں نے امریکی سینیٹرز کو کردار ادا کرنے کا کہا ہے آج امریکہ ا ور بھارت کے قریبی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گرفتار پائلٹ کی رہائی کیلئے پاکستان پر کوئی عالمی دباؤ نہیں تھا ، ہم نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے ساتھ انسانیت کا سلوک کیا مگر افسوس بھارت نے پاکستانی قیدی شاکر کا خیال نہیں رکھا

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں