ڈان لیکس: ’پرویز رشید کو خبر رکوانا چاہیے تھی‘ نثار

اسلام آباد(پی ایف پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ خبر نہ رکوانا پرویز رشید کا قصور ہے،جھوٹی خبردینے والا قوم کے سامنے آنا چاہیے، قومی سلامتی سے متعلق کسی اجلاس میں تلخی نہیں ہوئی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈان کی خبر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تمام معلومات سب سے پہلے وزیراعظم کو بتائیں، کوئٹہ میں وزیراعظم، آرمی چیف سےمیری الگ ملاقات بھی ہوئی۔

تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ خبر سامنے آنے کے بعد اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی شریک تھی، اس میں تحقیقات کی ذمہ داری مجھے سونپی کی گئی، جس میں اداروں کی معاونت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ جس دن کوئٹہ کا واقعہ ہوا، اس دن صبح ملاقات طے تھی، لیکن سانحے کی وجہ سے ملاقات نہ ہوسکی، کوئٹہ میں ملاقات میں یہ بات ہوئی، اس کے اگلے روز وزیر اعظم کو تمام معلومات دیں جبکہ ساتھ ہی کچھ تجاویز بھی دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے معلومات آرمی چیف سے شیئر کرنے کے لیے کہا، اس ملاقات میں شہباز شریف اور اسحاق ڈار بھی تھے، وہ میری تجویز پر آرمی چیف سے ملنے میرے ساتھ سرکاری پروٹوکول میں گئے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ آرمی چیف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم کو بریف کیا، ان سے ملاقات بہت اچھی تھی، اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ ملاقات تلخ تھی تو میں عسکری ذرائع کونہیں مانتا، میری بات کی تردید آئی ایس پی آر ہی کر سکتا ہے، آرمی چیف سے طویل ملاقات پریس ریلیز کی تیاری کے حوالے سے تبادلہ خیال پر ہوئی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز رشید کے حوالے سے کچھ دستاویزی اور ذرائع سے ملنے والی معلومات موجود ہیں کہ پرویز رشید کو معلوم ہوا کہ ایک صحافی کے پاس وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے حوالے سے کوئی خبر ہے، انہوں نے اس صحافی کو دفتر طلب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز رشید کو صحافی کو کہنا چاہیئے تھا کہ یہ خبر ملکی مفاد میں نہیں اس لیے نہ دیں، یا اخبار کے ایڈیٹر سے رابطہ کرتے، یا حکومت کے علم میں لاتے کہ ایسی خبر کوئی خبر موجود ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پرویز رشید سے گزارش کی ہے کہ اس معاملے کو میڈیا پر ایشو نہ بنائیں، تو وہ مان گئے۔

ڈان کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے وزیر اعلیٰ اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان تلخی کا حوالہ درست نہیں ہے، جس تاریخ کو سیکریٹری خارجہ کی بریفنگ کا رپورٹ میں بتایا گیا، اس دن کوئی بریفنگ نہیں ہوئی۔

مستعفی ہونے والے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرویز رشید کو صحافی سے کہنا چاہیے تھا کہ خبر غلط ہے، پرویز رشید نے برطرفی کا فیصلہ خوشدلی سے قبول کیا، خبرلیک ہونے کے پیچھے جوبھی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری خارجہ کا نام لیے جانے پر بھی مجھے افسوس ہے، سیکریٹری خارجہ کو کینسر ہے لیکن ان کے حوالے سے رپورٹنگ کی گئی، ان سے رابطہ کرکے اس معاملے پر بات کی تو انہوں نے رپورٹ کے مخالف بات کی کہ ان کا کہنا تو یہ تھا کہ اس خطے میں دیگر ممالک سے تعاون کے مواقع ہیں، انہوں نے تو یہ کہا کہ پاکستان تنہا نہیں ہو رہا، اس رپورٹ سے فوج اور حکومت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے بھی یہ جھوٹی خبر ڈان کو دی ہے، وہ قوم کے سامنے آنا چاہیے، یہ تاثر غلط ہے کہ اس میں صرف خفیہ ادارے کام کر رہے ہیں ، خفیہ اداروں کے پاس تیکنیکی سہولت موجود ہے، اس لیے وہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنے گی کہ کس نے یہ خبر لیک کی تھی۔

تحریک انصاف کا دھرنا
پی ٹی آئی کے اسلام آباد کو 2 نومبر کو بند کرنے کے اعلان کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ اسکولوں کا کھلا رہنا، ہسپتالوں کے راستے کھلے رہنا، شہریوں کی زندگی متاثر نہ ہونا، سرکاری دفاتر، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کھلے رہنا میری ذمہ داری اور شہریوں کا حق ہے۔

2014 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کا حوالہ دے کر انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی جب دھرنے کے آخری دن تھے تو بھی ان کو زبردستی نہیں اٹھایا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اب اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کو بند کریں گے، پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، ایٹمی ملک ہونے کی وجہ سے اس کی دشمن پر ایک رعب ہے، دارالحکومت بند ہونے سے یہ بات ہو گی کہ یہ کیسا ملک ہے کہ ایک جھتہ آتا ہے اور زور زبردستی سے دارالحکومت کو بند کروا دیا جاتا ہے، اس سے حکومت کی نہیں ملک کی بند نامی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کو لاک ڈاؤن کرنے کااعلان ریاست کے خلاف جرم ہے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ پولیس پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نہیں ہے، یہ ریاست کی فورس ہے، اس نے ہی حکومت کی عمل داری قائم کی ہے، آئندہ بھی اسی طرح ہوگا۔

عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ یہ جو بیج بوئے جا رہے ہیں اس سے وفاق کی بنیادیں ہل جائیں گی، ایک صوبے کو وفاق کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے، 10،15ہزار کاجتھہ دارالحکومت پرقبضہ کرکے اپنی بات نہیں منواسکتا، کیا کوئی صوبائی حکومت وفاق کے خلاف اعلان جنگ کرسکتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر یکم نومبر کو طلب کر لیا ہے، اس کے باوجود 2 نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سیرل المیڈا کی سول اور ملٹری قیادت کے اجلاس کے دوران ہونے والی بحث کی خبر کی وزیر اعظم ہاؤس سے تین مرتبہ تردید کی گئی اور گزشتہ روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا تھا۔

سیرل المیڈا کا نام چند روز قبل سول اور ملٹری قیادت کے اجلاس کے دوران ہونے والی بحث کی خبر کے بعد ای سی ایل میں ڈال دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالنا مجبوری تھی،چوہدری نثار

وزیر اعظم ہاؤس نے 6 اکتوبر کو شائع ہونے والی اس خبر کی تین بار تردید کی۔

ڈان نے خبر کے حوالے سے کچھ باتوں کی وضاحت کی اور کچھ چیزوں کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھا۔

ڈان نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جس اسٹوری کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا گیا، ڈان نے اس کی تصدیق کی، کراس چیک کیا اور اس میں موجود حقائق کو جانچا تھا۔

ڈان کی جانب سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان میں سے بیشتر امور سے واقف سینئر عہدیداران اور اجلاس میں شریک افراد سے ڈان اخبار نے معلومات لینے کے لیے رابطہ کیا اور ان میں سے ایک سے زائد ذرائع نے تفصیلات کی تصدیق اور توثیق کی۔

سیرل المیڈا کی نقل و حرکت پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے لیے انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی)، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈان کے اسٹاف ممبر پر عائد کی گئی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ہٹائے۔

کئی ٹی وی چینلز نے بھی حکومت کے اس اقدام کے خلاف رپورٹس اور پروگرامز شائع کیے اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ‘سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے سی اپی این ای اور اے پی این ایس کے ذمہ داران کو کل (جمعہ) ملاقات کی دعوت دی ہے، جس میں ان کا موقف بھی سنایا جائے گا اور انہیں حکومتی موقف سے بھی آگاہ کیا جائے گا، جبکہ صحافی کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا یہ کل ذمہ داروں کو بتاؤں گا۔’

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں