چمن: افغان فورسز کا ایف سی اہلکاروں پر حملہ، 3 افراد جاں بحق

چمن: بلوچستان کے شہر چمن کے علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 شہری جاں بحق جبکہ فرنٹیئر کورپس (ایف سی) اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوگئے۔
چمن سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر نے فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ، ’پانچ شدید زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئٹہ روانہ کیا جاچکا ہے‘۔
اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری کے جاں بحق جبکہ 4 ایف سی اہلکاروں سمیت 18 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان بارڈر پولیس نے مردم شماری ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور ایف سی بلوچستان کے اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 30 اپریل سے افغانستان کی سرحدی پولیس کلی لقمان اور کلی جہانگیر کے علاقوں میں پاکستانی سرحد کی جانب جاری مردم شماری کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’افغان انتظامیہ کو پیشگی اطلاع جبکہ مردم شماری کا عمل یقینی بنانے کے لیے سفارتی اور فوجی سطح پر تعاون اور روابط کے باجود بھی افغانستان کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے’۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سفارتی حکام جی ایچ کیو طلب، 76 دہشت گردوں کی فہرست حوالے
اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) چمن مقصود کے مطابق افغانستان سے ہونے والے حملے کے دوران پاکستانی گاؤں میں واقع گھروں پر گولے گرنے کے نتیجے میں 3 بچوں اور 2 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے.
کلی جہانگیر کے رہائشی اور حملے میں زخمی ہونے والے حاجی ایوب نے بتایا کہ ’ہم سو رہے تھے کہ اچانک ہی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں، جس کے فوراْ بعد ہم گھر سے نکل کر چمن بازار کی جانب روانہ ہوئے‘۔
کلی لقمان کے رہائشی عبدالمتین کے مطابق افغان فورسز نے یہ حملہ اس وقت کیا جب ایف سی اہلکار علاقے میں آنے والی مردم شماری کی ٹیم کی سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
عبدالمتین نے بتایا کہ ’میرا ایک قریبی رشتے دار بھی حملے کا نشانہ بنا‘۔
مردم شماری ٹیم پر حملے
خیال رہے کہ ملک بھر میں چھٹی مردم شماری کے پہلے مرحلے کا آغاز 15 مارچ سے ہوا تھا، جو 15 اپریل تک جاری رہا، اب 25 اپریل سے مردم شماری کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا ہے، جو 25 مئی تک جاری رہے گا۔
مردم شماری کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں اس مہم میں حصہ لینے والے ٹیموں کے ارکان پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
گذشتہ ماہ 5 اپریل کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بیدیاں روڈ پر مردم شماری ٹیم پر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوانوں اور ایک آف ڈیوٹی ایئرفورس اہلکار سمیت 6 افراد کے جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مردم شماری ہر صورت مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ملک میں مردم وخانہ شماری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے شمار کنندہ عملے میں مختلف محکموں کے 1 لاکھ 18 ہزار افراد کو شامل کیا گیا ہے، ان تمام افراد کو مردم شماری کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔
جبکہ متعلقہ اضلاع میں 1 لاکھ 75 ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ سروے کرنے والے عملے کو سیکیورٹی بھی فراہم کررہے ہیں۔
باب دوستی بند
حملے کے بعد پاک افغان سرحد پر موجود ‘باب دوستی’ کو ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے بند کر دیا گیا جبکہ سیکورٹی فورسز نے حملے سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو گاؤں خالی کرنے کی ہدایات بھی جاری کردیں۔
پاک-افغان کشیدگی
خیال رہے کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں اور وہاں موجود ان کی قیادت کو ملوث قرار دے چکی ہے.
رواں سال فروری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ملک کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد چمن اور طورخم کے مقام پر پاک-افغان سرحد کو پاک فوج نے سیکیورٹی خدشات کے باعث 16 فروری کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم ایک ماہ بعد وزیراعظم نواز شریف نے جذبہ خیر سگالی کے تحت سرحد کو کھولنے کے احکامات جاری کردیئے تھے۔
دوسری جانب کابل افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی اور طالبان کے حملوں کا ذمہ دار اسلام آباد کی پالیسی کو قرار دیتا ہے، گذشتہ ماہ افغان دارالحکومت میں ہونے والے حملوں میں بھی 100 سے زائد فوجی مارے گئے تھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں