پی ٹی آئی رہنما کی گاڑی سے 5کلاشنکوف برآمد، کارکنوں کے خلاف پھر کریک ڈاؤن شروع

اسلام آباد(پی ایف پی) پولیس نے بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے گھر کے باہر پہنچنے کی کوشش کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف پھر کریک ڈاؤن شروع کردیا اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کردی جبکہ 71 کارکنوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کچھ بھی کریں لیکن بنی گالہ پہنچیں جس کے بعد وہ 2 نومبر کو یہاں سے اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین عمران خان کی رہائش گاہ تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے استعمال کررہے ہیں جن میں کچے راستے بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق جب سینیئر سپریٹنڈنٹ پولیس آپریشنز سجاد کیانی کی قیادت میں پولیس کا دستہ بنی گالہ کے قریب پہنچا تو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کردیا جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی۔

پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے اطراف کی جھاڑیوں اور جنگل کے علاقے میں آگ بھی لگادی۔

گرفتاریوں سے بچنے کی کوشش
گالہ کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری ہے، عمران خان کی جانب سے گرفتار نہ ہونے کی ہدایت پرکارکن مکمل طور پر عمل کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور گرفتاری سے بچنے کیلئے بھاگتے ہوئے.
بنی گالہ کے باہر رخسانہ بنگش روڈ پر پولیس اہلکاروں نے پی ٹی آئی کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن کارکنوں پولیس کو چکمہ دے کر بھاگ گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے بنی گالہ کے قریب رخسانہ بنگش روڈ سے عمران خان کی رہائش گاہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا جنہیں تھانہ بارہ کہو اور تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیا گیا۔

بعض کارکنوں نے پولیس کو دور رکھنے کے لیے جھاڑیوں اور جنگل کے کچھ علاقے میں آگ بھی لگادی، کارکنوں کی گرفتاری کے لیے تازہ دم دستے موقع پر پہنچ رہے ہیں۔

بنی گالہ جانے والے راستوں پر اسنیپ چیکنگ
پولیس نے کارکنوں کو عمران خان کی رہائش گاہ پہنچنے سے روکنے کے لیے بنی گالہ جانے والے راستوں پر اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔

پولیس اہلکار بنی گالہ کی جانب جانے والے ہر شخص اور گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں جس کے بعد انہیں آگے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

اسنیب چیکنگ کی وجہ سے بنی گالہ کے اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

اسلحہ اور شراب برآمد
پولیس کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور کی گاڑی سے اسلحہ اور شراب کی بوتل برآمد ہوئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ بنی گالہ جاتے ہوئے جب چیک پوسٹ پر خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے ریوینیو علی امین گنڈا پور کو روک کر ان کی دو گاڑیوں کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے 5کلاشنکوف،ایک پستول، 3 بلٹ پروف جیکٹس، گولیاں، شراب کی بوتل اور آنسو گیس کی شیلز برآمد ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم ان کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میری گاڑی میں 2 اے کے 47 رائفلز تھیں، دونوں کے لائسنس موجود ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک کا لائسنس اسی گاڑی میں موجود ہے جو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے، نواز شریف سے زیادتی کا حساب لوں گا۔

علی امین گنڈا پور سے اسلحہ برآمد ہونے پر عمران خان نے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، تحریک انصاف میں ایک رکن اسمبلی پر طالبان حملہ کر چکے ہیں۔

شیریں مزاری کی پولیس اہلکاروں سے جھڑپ
بنی گالہ جاتے ہوئے روکے جانے پر پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری اور پولیس اہلکاروں کے درمیان معمولی جھڑپ بھی ہوئی۔

شیریں مزاری گاڑی سے اتر کر پولیس اہلکاروں سے بحث کرتی نظر آئیں جب کہ انہوں نے رکاوٹوں کو بھی ہٹانے کی کوشش کی۔

بعد ازاں شیریں مزاری کی گاڑی آگے چلی گئی اور بنی گالہ پہنچنے کے بعد شیریں مزاری نے صحافیوں سے گفتگو کی اور کہا کہ ’علی امین گنڈا پور کے حوالے سے خبریں غلط ہیں، کیا علی امین اتنے بے وقوف ہیں؟ ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف سن لیں جتنا تشدد کیا جائے گا اتنا زیادہ کارکن جوش و جذبے سے باہر نکلیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جو چاہے کرلے ہم روز بنی گالہ آئیں گے، رات میں واپس جائیں گے اور صبح پھر بنی گالہ آئیں گے، یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔

انہوں نے کہ اکہ تحریک انصاف کے اسلام آباد بند کرنے سے قبل مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے خود ہی سب بند کردیا۔

شیری مزاری کے ہمراہ پی ٹی آئی خواتین ونگ کی رہنما منزہ کاردار بھی گاڑی میں سوار تھیں۔

کپتان کی کارکنوں سے ملاقات

بنی گالہ سے ڈان نیوز کی نمائندہ وجیہہ خانین کے مطابق اتوار کی صبح عمران خان نے اپنی رہائش گاہ کے باہر موجود کارکنوں سے ملاقات کی اور وہاں قائم عارضی کیمپ کا دورہ کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے خود کیمپ میں موجود کارکنوں کو ناشتے کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا۔
کیمپ میں موجود کارکنوں کا جوش و خروش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا ہے اور جیسے ہی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے کسی کارکن کو گرفتار کیا ہے تو وہ حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردیتے ہیں۔

کارکنوں نے درخت کی ٹہنیاں توڑ کر پولیس کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈنڈے تیار کرنا بھی شروع کردیے ہیں جبکہ کھانے کی دیگیں اور روٹیاں بھی تیار کی جارہی ہیں۔

کارکن 2 نومبر کے معرکے کے حوالے سے تازہ دم رہنے کے لیے روزانہ صبح اٹھ کر ورزش کرتے ہیں جس کے بعد نان چھولے کا تگڑا ناشتہ بھی ہوتا ہے۔

ایک جانب جہاں مرد دیگ تیار کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب خواتین روٹیوں کے لیے پیڑے بنانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔

پی ٹی آئی کا پلان
پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے بنی گالہ کے اطراف گھیراؤ کر رکھا ہے اور ’پانی، کھانا اور لوگوں کو بھی یہاں نہیں آنے دے رہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے تمام کارکنوں کو بنی گالہ بلایا ہے جس کے بعد ہم 2 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے، ہمارا پاس ایک منصوبہ اور حکمت عملی ہے‘۔

موٹر وے چوک کھول دیا گیا
نمائندہ ڈان حسیب بھٹی کے مطابق موٹر وے چوک پر گزشتہ شب پیش آنے والے حادثے کے بعد راستے کھول دیے گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے موٹر وے کو خضرو کے مقام پر بند کیا گیا تھا جسے مکمل طور پر نہیں کھولا گیا تاہم لوگوں کی سہولت کے لیے تھوڑا راستہ بنادیا گیا ہے۔
اسلام آباد اور روالپنڈی کے داخلی راستے موٹر وے چوک پر معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے تاہم چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا رش زیادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والا راستہ اس مقام پر کھلا ہوا ہے اور پشاور اور لاہور سے آنے والی موٹر وے اسی مقام پر آپس میں ملتی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے ماہ محرم میں عاشورہ تک کا وقت دیا تھا جس کے بعد انھوں نے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔

تاہم عدالت میں پاناما لیکس کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے باوجود دونوں جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

پی ٹی آئی نے بظاہر حکومت کو موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ وہ پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر سے قبل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے قانون کو منظوری کرلے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں