پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ کا اجلا س، 7.727 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری

لاہور(پی ایف پی ) پنجاب یونیورسٹی کے مالی سال2016-17 کے بجٹ کی منظوری کے لئے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی زیر صدارت سینڈیکیٹ کا اجلاس وائس چانسلر کمیٹی روم میں منعقد کیا گیا جس میں 7 ارب 7 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ بجٹ میں تحقیقی سرگرمیوں میں اضافے کے لئے ریسرچ گرانٹ اور طلباء و طالبات کا مالی بوجھ کم کرنے کے لئے دی جانے والی سبسڈی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اگلے سال پنجاب یونیورسٹی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے 2.445 ارب روپے کی گرانٹ ملنے کی توقع ہے جو کہ کل بجٹ کا 33 فیصد ہے۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کے لئے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ریسرچ گرانٹ 110 ملین سے بڑھا کر 120 ملین روپے مقرر کی ہے ۔
سینڈیکیٹ کے اجلاس میں سلیکشن بورڈ مکمل کرنے کے سلسلے میں سفارشات کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں ٹینور ٹریک اساتذہ کی ترقیوں کی بھی منظوری دی گئی ۔غریب طلباء کے مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آن کیمپس طلباء کی ٹیوشن اور ہاسٹل کی فیسوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی جانب سے تاریخی قومی اقدام کے تحت بلوچستان کے طلباء کو مفت تعلیم اور مفت رہائش کی سہولیات کے ساتھ ساتھ 3000 روپے ماہانہ فی طالب علم وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔خصوصی طلباء و طالبات کو بھی مفت تعلیم اور مفت رہائش دی جائے گی جبکہ سپورٹس کی بنیاد پر داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور حافظ قرآن کی ٹیوشن فیس معاف ہو گی۔
اوورسیز سکالرشپس کے لئے 7 کروڑ روپے، قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے7 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ طلباء و طالبات کو سہولت فراہم کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی سکالرشپس، امور طلباء، کرئیر کونسلنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لئے 10 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ 8 کروڑ روپے کے سکالرشپس ایچ ای سی کی طرف سے اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرف سے بھی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو سکالرشپس دئیے جائیں گے۔
پنجاب یونیورسٹی طلباء و طالبات کو ہاسٹل کی مد میں 20 کروڑ روپے کی سبسڈی، ٹرانسپورٹ کی مد میں 3.300کروڑ روپے کی سبسڈی جبکہ انٹرنیٹ کی مد میں65لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ مذکورہ سہولیات پر گزشتہ سال 22 کروڑ روپے کے مقابلے میں رواں سال 23 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جارہی ہے جبکہ ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹس میں بجلی کے بلوں کی مد میں دی جانے والی سبسڈی اس کے علاوہ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نے 41 کروڑ روپے تعمیر و ترقی کے لئے مختص کئے ہیں۔اجلاس میں وائس چانسلر کی جانب سے 15/3 کے تحت جاری کئے گئے احکامات کی بھی منظوری دی گئی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں