پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی کا شکار

لاہور (پی ایف پی ) پنجاب اسمبلی کا گزشتہ روز ہونے والے اجلاس ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گیا۔ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ایوان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ نعرہ بازی اتنی شدید تھی کہ ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کررہا تھا
اور کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نکتہ اعتراض پر بات کررہے تھے۔ میاں محمود الرشید کا نکتہ اعتراض پر کہنا تھا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک و قوم اور ریاست کی سالمیت کے ضامن ادارے کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں
اور انہیں انڈرپریشر کیا جارہا ہے۔ ہماری افواج جو ضرب عضب آپریشن میں مصروف ہیں اور ہمارے جوانوں نے ملک کی بقاء کی خاطر قربانیاں دی ہیں ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم کنٹینر پر ناچنے کا تماشہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے ڈگ ڈگی بجانے والا کس کو کہا ہے میں وزیراعظم کی الفاظ شدید مذمت کرتا ہوں۔
قومی اخبار میں چھپنے والی سٹوری کے ڈانڈے وزیراعظم ہاؤس سے ملتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ ان کی تقریر کے دوران حکومتی بنچوں سے نعروں کی آوازیں بلند ہونا شرع ہوئیں کہ گلی گلی میں شور ہے عمران خان چور ہے، یہودی کا جو یارہے وہ غدار ہے غدار ہے۔
اپوزیشن بنچوں کی طرف سے بھی حکومت خلاف نعرے گونجنے لگے مودی کا جو یار ہے وہ غدار غدار ہے اور گو نواز گو کے نعروں سے ایوان مچھلی منڈی کا سماں پیش کرنے لگا۔ اس ہنگامے کے دوران ڈپٹی سپیکر سردارشیر علی خان گورچانی نے کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی تو اپوزیشن نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئی
جبکہ اپوزیشن کے رکن اسمبلی عارف عباسی نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر ڈپٹی سپیکر نے 5منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں