’پرویز رشید کےخلاف تحقیقات سینیٹ کے ذریعے ہونی چاہیے‘رضا ربانی

اسلام آباد(پی ایف پی)چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اگر سابق وفاقی وزیر پرویز رشید کے خلاف کوئی تحقیقات ہونی ہیں تو وہ سینیٹ کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے۔

ڈان نیوز کے مطابق سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو ان کی آمد پر ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

چیئرمین رضا ربانی نے پرویز رشید کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ عہدہ آنی جانی چیز ہے، پرویز رشید نے جس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھائیں وہ قابل تعریف ہے اور پورا ایوان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے خلاف تحقیقات آرٹیکل 209 کے تحت ہوتی ہیں، اسی طرح فوج سمیت ہر ادارے میں تحقیقات کا اپنا نظام موجود ہے، لہٰذا اگر پرویز رشید کے خلاف کوئی تحقیقات ہونی ہیں تو وہ سینیٹ کی اخلاقیات کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پرویز رشید چاہیں تو یہ معاملہ اٹھا سکتے ہیں کہ ان کے خلاف تحقیقات سینیٹ کے اپنے قوانین کے مطابق ہوں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم نواز شریف نے اہم خبر کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر پرویز رشید سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے لیا تھا۔

اکتوبر کے اوائل میں ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی ابتدائی تحقیقات کے بعد وزیر اعظم نے پرویز رشید کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی۔

ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پرویز رشید سے مستعفی ہونے سے دو روز قبل، وزارت اطلاعات واپس لی جاچکی تھی جس کے بعد وہ اپنے دفتر نہیں جارہے تھے جبکہ سرکاری امور بھی انجام نہیں دے رہے تھے۔

وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سیرل المیڈا کی خبر کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور بہت جلد اس کو قوم کے سامنے لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی تفتیش کررہی ہے، تاہم تمام ذمہ داریاں پرویز رشید پر نہیں ڈالی گئی لیکن غلط خبر کی وجہ سے ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ خبر نہ رکوانا پرویز رشید کا قصور ہے، جھوٹی خبر دینے والا قوم کے سامنے آنا چاہیے، جبکہ قومی سلامتی سے متعلق کسی اجلاس میں تلخی نہیں ہوئی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز رشید کے حوالے سے کچھ دستاویزی اور ذرائع سے ملنے والی معلومات موجود ہیں کہ پرویز رشید کو معلوم ہوا کہ ایک صحافی کے پاس وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے حوالے سے کوئی خبر ہے، انہوں نے اس صحافی کو دفتر طلب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز رشید کو صحافی کو کہنا چاہیئے تھا کہ یہ خبر ملکی مفاد میں نہیں اس لیے نہ دیں، یا اخبار کے ایڈیٹر سے رابطہ کرتے، یا حکومت کے علم میں لاتے کہ ایسی خبر کوئی خبر موجود ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں