پاک افغان سرحدی تنازع۔ چند حقائق اور ممکنہ حل……سلیم صافی

پاک افغان سرحدی تنازع۔ چند حقائق اور ممکنہ حل……سلیم صافی
لاکھوں افغان پاکستان میں رہتے ہیں ۔ ہزاروں افغان روزانہ غمی شادی، علاج اور کاروبار کی غرض سے دونوں ملکوں کے مابین سفر کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے سفر کرنے والے چند سو ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں افغانستان کی طرف سے کوئی ایسی حرکت کہ جس کے نتیجے میں طورخم، چمن، غلام خان یا انگوراڈہ کا راستہ بند ہو ، حماقت اور اپنے معصوم عوام کے ساتھ زیادتی کے سوا کچھ نہیں لیکن پاکستان کی طرف سے ایسی کوئی حرکت کہ جس کے نتیجے میں افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو یا پھر سرحد بند ہو، اس سے بھی بڑی حماقت اور خود پاکستان کےلئے ظلم ہے ۔ پاکستان کے لئے اس وقت افغانستان ہی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور اپنی مارکیٹ کا راستہ خود بند کرنا ، حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کی اس وقت سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ افغانستان اس کے ہاتھ سے نکل کر دشمنوں کی طرف جارہا ہے ۔ ان حالات میں ایسا کوئی قدم اٹھانا کہ جس سے افغانستان کا ہندوستان اور ایران کی طرف جانے کا سفر تیز ہو، پاکستان کے ساتھ ظلم نہیں تو اور کیاہے۔ یوں جو بھی افغانی یا پاکستانی ، سرحد پر کشیدگی بڑھاتا ہے، افغانوں کا دوست ہوسکتا ہے اور نہ پاکستانیوں کا اور دونوں کا دوست اور محسن وہی تصور ہوگا جو غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے کشیدگی کا خاتمہ کردے۔
پاک افغان بارڈر کے بارے میں یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے کہ ہر افغانی اور ہر پاکستانی یہ جانتا ہے کہ یہ سرحد اب ایک حقیقت ہے ۔ اسی طرح حقیقت ہے کہ جس طرح ایران اور پاکستان کی یا پھر پاکستان اور ہندوستان کی سرحد ایک حقیقت ہے ۔ ایک قومیت کے لوگ صرف پاک افغان بارڈر نے تقسیم نہیں کئے بلکہ پاکستان اور ایران کے بارڈر نے بھی تقسیم کئے ہیں ،پاکستان اور ہندوستان کے بارڈر نے بھی تقسیم کئے ہیں ۔ افغانستان اور تاجکستان کے بارڈر نے بھی تقسیم کئے ہیں اور افغانستان اور ازبکستان کے بارڈر نے بھی تقسیم کئے ہیں ۔ا علیٰ ہذہ القیاس۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی موجودہ سرحدوں اور بالخصوص اس خطے کی سرحدوں میں ردوبدل تقریباً ناممکن ہوگیاہے ۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ بارڈر کے دونوں طرف کے پنجابی، ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں گے لیکن ستر سالہ سفر نے سرحد کے اس پار کے پنجابی کو ہندوستانی اور اس طرف کے پنجابی کو پاکستانی بنا دیا ہے ۔ اسی طرح ایک سو بیس سالہ سفر نے سرحد کے اس پار کے پختون کے مفاد کو کابل سے وابستہ کررکھا ہے اور اس طرف کا پختون پاکستانی بن گیا ہے ۔ زبان، نسل، تاریخ، ادب، شاعری ، موسیقی اور رسم و رواج کی بنیاد پر اپنائیت اور جذباتی وابستگی اپنی جگہ حقیقت ہے لیکن معاشی، معاشرتی اور سیاسی مفاد اپنی جگہ بہت بڑی حقیقت ہے ۔ پاکستان کا کوئی پختون بشمول اسفندیارولی خان اور محمود خان اچکزئی ایسا نہیں ہے کہ جو پاکستان سے کٹنا اور کابل یا جلال آباد منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ کسی پختون قوم پرست نے اپنے بچے کو تعلیم کے لئے کابل یا جلال آباد نہیں بھیجا کہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے اور کوئی ایسا بھی نہیں ہے کہ جس نے اپنے بچے کو لاہور کے ایچی سن میں پڑھانے کو ترجیح نہ دیا ہو۔ کوئی پاکستانی پختون قوم پرست ایسا نہیں ہے کہ جس نے پیسہ ہاتھ آجانے کے بعد لاہور ، کراچی اور اسلام آباد میں جائیداد نہ خریدی ہو اور کسی ایک نے بھی کابل میں گھر خریدنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔اسی طرح جب شمالی وزیرستان میں منصوبہ بندی کے نتیجے میں کابل میں خودکش حملے پر افغان حکومت کی طرف سے ان الفاظ کے ساتھ احتجاج ہوتا ہے کہ پاکستانی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہوتی ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی طور پر افغان حکومت بھی قبائلی علاقہ جات کو پاکستان کا حصہ مانتی ہے۔ لیکن یہ معاملے کا ایک رخ ہے ۔ معاملے کا ایک اور رخ یہ ہے کہ افغانستان میں ڈیورنڈ لائن کے ایشو کا ادب اور سیاست کے میدانوں میں اتنا تذکرہ ہوا ہے کہ یہ ایک جذباتی ایشو بن گیا ہے ۔ کوئی بھی افغانی سیاستدان زبان پر یہ الفاظ نہیں لاسکتا کہ ڈیورنڈ لائن ایک باقاعدہ سرحد ہے ۔ کیونکہ افغانستان کی داخلی سیاست کی وجہ سے ایسا کرنے والے شخص کو اسی طرح گالی پڑے گی جس طرح کہ پاکستان میں کسی سیاستدان کو کنٹرول لائن کو ہندوستان کے ساتھ مستقل سرحد ماننے کی صورت میں پڑ سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو باقاعدہ طور پر سرحد ماننے کی ہمت افغان طالبان نے کی ، مجاہدین کی حکومت نے کی اور نہ حامد کرزئی کی حکومت نے کی ۔ لیکن معاملے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ نہ طالبان کی حکومت نے اس کو تنازع بنا کر اٹھانے کی کوشش کی ، نہ مجاہدین نے ، نہ حامد کرزئی کی حکومت نے اور نہ اشرف غنی کی حکومت نے ۔ اس لئے اس حوالے سے کوئی بھی قدم اٹھاتے وقت ان نزاکتوں اور ان تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
ماضی کے حالات کچھ اور تھے لیکن گزشتہ تیرہ سال سے افغان حکومت یہ الزام لگارہی ہے کہ طالبان پاکستان سے آکر ا س کے خلاف کارروائی کررہے ہیں جبکہ گزشتہ دس سال سے پاکستان بھی یہ شکایت کرنے لگا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند اور پاکستانی طالبان افغانستان میں پناہ لے کر اس کی ریاست کے خلاف جنگ کررہے ہیں ۔ یوں اب بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہورہی ہے کیونکہ جب تک دونوں ملکوں کے مابین روزانہ چالیس سے پچاس ہزار لوگ بغیرکسی دستاویزات اور چیکنگ کے سرحد کے آرپار جائیں گے تو ان کی آڑ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ افغان حکومت بارڈر مینجمنٹ سے یکسر انکاری بھی نہیں بلکہ4فروری کو چیکر (برطانیہ) میں پاکستان ، افغانستان اور برطانیہ کی جو سہ فریقی کانفرنس منعقد ہوئی ، اس کے مشترکہ اعلامیہ میں افغان صدر نے بارڈر مینجمنٹ پر، برطانوی وزیراعظم کی موجودگی میں اتفاق بھی کیا۔ تاہم بعد میں پاکستانی حکومت اور بالخصوص نوازشریف کی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی ۔ اس کام کا بہتر وقت وہی تھا کہ جب ڈاکٹر اشرف غنی کے انتخاب کے بعد ایک سال تک تعلقات نہایت خوشگوار تھے لیکن تب تو نوازشریف کی حکومت اس معاملے سے اس قدر لاپروا رہی کہ نیشنل ایکشن پلان میں میری چیخ وپکار کے باوجود اس نکتے کو شامل نہیں کیا گیا۔ اب اچانک جب اس معاملے کی اہمیت کا احساس ہوا تو پاکستان نے بغیر کسی مناسب تیاری کے یکطرفہ طور پربارڈر مینجمنٹ کا آغاز کردیا اور چونکہ تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے ، اس لئے افغانستان کی طرف سے گولہ باری کی صورت میں ردعمل ظاہر کیا گیا۔ افغان حکومت کا موقف یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین یہ اتفاق ہوچکا ہے کہ سرحد پر اس طرح کی جو بھی پیش رفت ہوگی تو اس سے قبل باہمی مشاورت کی جائے گی جبکہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کافی عرصہ قبل افغان حکومت کو اس حوالے سے ایک ایس او پی(SOP) دیا گیا ہے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں دیا جارہا ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بارڈر مینجمنٹ نہ صرف ضروری ہے بلکہ اب اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ۔ لیکن یہ کام باہمی مشاورت سے آگے بڑھنا چاہئے ۔ پاکستانی حکام زیادہ زور بارڈر پر گیٹ کی تنصیب پر ڈال رہے ہیں ، حالانکہ زیادہ زور ملک کے اندر افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور ڈاکومنٹیشن پر ڈالنا چاہئے۔
جب مہاجرین کے لئے کمپیوٹرائزڈ کارڈ تیار ہوجائیںاور غیرمہاجر افغانوں کے لئے ویزے اور پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے تو پھر بارڈر پر گیٹ نہ ہو تو بھی کوئی رسک نہیں لے سکے گا۔ اس وقت پاکستان اور ایران کے مابین یا پھر پاکستان اور ہندوستان کے مابین بھی کئی جگہوں پر سرحد کو چوری چھپے کراس کیاجاسکتا ہے لیکن کوئی یہ جرات اس لئے نہیں کرتا کہ اسے خوف رہتا ہے کہ بغیر دستاویزات کے پکڑے جانے کی صورت میں اسے جیل جانا پڑے گا ۔ چنانچہ میرے نزدیک گیٹوں کی تعمیر سے بڑھ کر ضرورت افغان مہاجرین کو کمپیوٹرائزڈ کارڈوں کا اجراء، آر پار رہنے والے قبائل کے لئے خصوصی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈوں کی تیاری اور باقی ماندہ افغانوں اور پاکستانیوں کے لئے ویزے اور پاسپورٹ کی شرط کی ہے ۔ اس کام کے بعد یہ پالیسی بنائی جاسکتی ہے کہ مہاجرین بغیر ویزے کے ان کارڈوں کے ساتھ سفر کریں لیکن بارڈر پر ان کا اندراج ہو۔ اسی طرح آر پار رہنے والے قبائل اپنے مخصوص کارڈو ں کے ساتھ سفر کریں اور باقی ماندہ لوگ ویزے کے ساتھ۔ یہ کام بتدریج ہونا چاہئے ، نہ کہ عجلت میں ۔ اس کے لئے ہٹ دھرمی کی نہیں ،مشاورت کی ضرورت ہے اور جو بھی قدم اٹھایا جائے، مناسب تیاری کے ساتھ اٹھایا جائے، نہ کہ کسی واقعہ یا بیان کے ردعمل میں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں