پاکستان بار کونسل کے تعاون کے بغیر فعال عدلیہ کا خواب پورا نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

جعلی وکلاءکی نشاندہی اور خاتمے کےلئے بار کونسلز کی ہر ممکن مدد کریں گے‘چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی پاکستان بار کونسل کے وفد سے ملاقات

لاہور(پی ایف پی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس محمد یاور علی کے ساتھ پاکستان بار کونسل کے وفدنے ملاقات کی۔ ملاقات لاہور ہائی کورٹ کے نیو لائبریری ہال میں ہوئی جس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر محمد فروغ نسیم اور ممبران محمد مقصود بٹر، چودھری طاہر نصر اللہ وڑائچ، چودھری اشتیاق احمد خان، میاں محمد شفیق بھنڈارا، محمد راحیل کامران شیخ اور ملک غلام مصطفی کندوال شریک ہوئے۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ طار ق افتخار احمد سمیت عدالت عالیہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کو فعال بنانے کےلئے بنچ اور بارکے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور مشاورتی عمل ضروری ہے تاکہ نظام عدل کی بہتری کے ثمرات صوبے کی عوام تک پہنچ سکیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بار کونسل پاکستان کے وکلاءکی سب سے بڑا ریگولیٹری ادارہ ہے ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان بار کونسل کا کردار بہت اہم ہے کہ وہ آگے آئے ااور انصاف کی فراہمی کے نظام کی بہتری کےلئے لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ تعاون کرے۔فاضل چیف جسٹس نے اعادہ کیا کہ پنجاب میں تقریباََ تمام پروفیشنل وکلاءہیںتاہم مٹھی بھر عناصر اس سسٹم کویرغمال بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کےلئے وہ وہ عدالتوں کو تالے لگانا، ججز پر دباﺅ دالنا اور خواتین جوڈیشل افسران کو حراساں کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ وہ ہمیشہ پیشہ ور وکلاءکے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں، تاہم غلط عناصر کا خاتمہ ضروری ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے انہوں نے صوبائی عدلیہ میں خود احتسابی کا عمل شروع کر دیا ہے اورانہیں یقین ہے کہ عدلیہ میں صرف ایماندار اور اہل جوڈیشل افسران ہی کام کریں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بار کونسل ہمارے ساتھ آئے اور خود احتسابی کے اس عمل میں ہماری مدد کرے۔
پاکستان بار کونسل کے نمائندگان نے کہا کہ وہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے وژن کو سراہتے ہیں اور پاکستان کے وکلاءکی سب سے بڑی ریگولیٹری باڈی ہونے کے ناطے فراہمی انصاف کے نظام کو فعال بنانے میں عدالت عالیہ کے شانہ بشانہ ہے۔ وائس چیئرمین نے فاضل چیف جسٹس کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام میں بد عنوان عناصر کا جلد از جلد خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے نادرا کے تعاون سے بار ایسو سی ایشنز میں جعلی وکلاءکی نشاندہی اور قلع قمہ کےلئے چیف جسٹس کے تعاون کی درخواست کی۔ کونسل کے ممبران کی جانب سے عدالت عالیہ کے احاطہ میں کونسل کے لئے کمرہ مہیا کرنے کی درخواست کی گئی جسے فاضل چیف جسٹس نے فوراََ مان لیا گیا۔
عدالت عالیہ کی جانب سے ڈسپلنری کمیٹی قیام کے حوالے پائی جانے والی غلط فہمی کو خوش اسلوبی اور افہام و تفہیم سے حل کر لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ ڈسپلنری کمیٹی کا نام تبدیل کر کے سپروائزری کمیٹی کا نام رکھا جائے گااور پاکستان بار کونسل مذکورہ کمیٹی کے حوالے سے جاری پریس ریلیز واپس لے گی۔ فاضل چیف جسٹس نے وفد ممبران سے کہا کہ عدالت عالیہ لاہور میں جج صاحبان کی تیرہ آسامیاں خالی ہیں، جن پر قابل اور ایماندار جج صاحبان کی تعیناتی کے حوالے سے نام تجویز کریں۔طویل اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس نے پاکستان بار کونسل کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور شرکاءکے ساتھ افطار ڈنر بھی کیا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں