پاکستان او ر برطانوی عوام کے رویئے اور نتائج…ڈاکٹر مجاہد منصوری

پاکستان او ر برطانوی عوام کے رویئے اور نتائج….ڈاکٹر مجاہد منصوری
پاکستانی ذرائع ابلاغ عامہ سے منسلک وہ پروپیپل رائے ساز جو برسوں سے پاکستان کو ’’قائد و اقبال کا پاکستان بنانےکے لئے جہاد باالقلم و زباں میں مصروف، اپنی سی جان لڑا رہے ہیں کہ اجڑی قوم کرپٹ حکمرانوں کے چنگل سے نجات پالے۔ دکھی پاکستانی جملہ اقسام کے دکھوں سے آزاد ہو جائیں حتیٰ کہ ہر دم جان کی فکر سے بھی، جو اب کسی کی بھی اور کسی لمحے محفوظ نہیں‘‘ ہمارے حکمران بڑی دیدہ دلیری اور مکمل آزادی سے آئین و قانون کو پامال کر رہے ہیں۔

ثابت شدہ ہے کہ وہ ’’آئین مکمل نافذ ہونے دے رہے ہیں اور نہ سب شہریوں پر قانون کایکساں اطلاق‘‘ ثابت شدہ کیس ہے کہ عوام کی بھلائی سے متعلق آئین پاکستان کے کئی ہر آرٹیکلز کو عملاً اختیار کرنے میں وہ کمال ڈھٹائی سے مزاحمت اوربغاوت کے مرتکب ہیں۔( آئین کے لازمے ’’احتساب‘‘ سے ممکنہ گریز اور بلدیاتی نظام کے قیام کے خلاف پنجاب اور سندھ کے حکمرانوں کی مزاحمت ناقابل تردید ثبوت ہے) لیکن یہ بھی واضح ہے کہ مظلوم، مجبور و مقہور اور لٹے پٹے عوام کو جگانے، انہیں ان کی اجتماعی طاقت کا یقین دلانے اور حلف شکن حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کےلئے بھی، درباری سرکاری آہ آہ ، واہ واہ کے مقابل کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی۔ جیتا جاگتا میڈیا بیداری عوام کے لئے انہیں مسلسل جھنجوڑ رہاہے لیکن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے محدود بینی فشری، غریب ترین سے لے کر ہائی کیپسٹی پاکستانیوں کے ایک بڑے فیصد تک پر اس ابلاغ خبر سے جوں نہیں رینگ رہی کہ وہ اپنے انتہائی بنیادی آئینی حقوق کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ قائدین سرسید، اقبال اور قائد جیسی ’’پاور آف اون‘‘ تو مفقود ہو ہی گئی ہے اور عوام میں تحریک پاکستان اور پاکستان میں چلنے والی جمہوری تحریکوں جیسا شعور بھی مجتمع نہیں ہو پارہا تو جہادباالقلم و زبان میں مصروف ِ عمل رائے ساز بھی جھنجلاکر کہہ دیتے ہیں کہ ’’بھاڑ میں جائیں ایسے عوام‘‘ لیکن پھر اپنی جبلت کے مطابق بیداری عوام کے مشن پر لگ جاتے ہیں۔ جس طرح اسٹیٹس کو تشکیل دینے والے ہمارے حلف و قانون شکن کرپٹ حکمران کی اپنی جبلت ہے، ایسی ہی ظلم سہنا بلا امتیاز۔
علاقہ و زبان تمام پاکستانیوں کا مجموعی رویہ بن گیا ہے، جو پہلے تو عالم بے حسی کے موجودہ درجے پر کبھی نہیں رہا، ہوتا تو ڈوگر عدلیہ بھی مسلط رہتی اور بحالی جمہوریت کی تحاریک کا اور جبر سے ہی جنم نہیں لیتی ۔ عوامی لاچاری و شعوری کی انتہا بھی ایسے ایسے تاریخی دھماکے کرتی ہے جس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔
پاکستان نے تو اپنا آغاز یہاں موجود نئی مملکت کے غربا کی اکثریت اور اجڑے ہندوستانی مسلم کی بشکل مہاجر جوق در جوق آمد سے کیا۔ پھر ہماری قسمت کہ عظیم قائد جلد اٹھ گیا۔ آگےسیاستدانو ں کے منفی رویہ، محلاتی سازشیں اور حصول اقتدار و اختیار کی ہوس پھر اس کا تادم تسلسل جس میں بہت کچھ منفی شامل ہوتا گیا جو ہم آج پوری اجڑی مفلوک قوم بھگت رہی ہے۔
ہم تو ہم تھے یہ برطانوی عوام کو کیا ہوا جس کا ایک بڑا فیصد (ذرا نصف سے زیادہ) جو گمشدہ کلاسیکل برطانوی کلچر کی بحالی اورزمانےکے رجحانات اور نئی حقیقتوں سےبے نیاز، برطانیہ عظمیٰ کے وقت کی بے فکری، مسلسل بڑھتی خوشحالی کا متلاشی ہو گیا اور دنیا میں نہیںتو اپنے وطن میں ماضی کی طرح فقط خود کو ہی دیکھنے کا خواب دیکھنے لگا۔ برطانیہ کے مثالی جمہوریہ اورموجود فلاحی ریاست کہ درجنوں فوائد پر بھی اکتفا نہ کیا۔ دنیاجہاں کے مال حرام کا ایک محفوظ ٹھکانہ ان کا وطن برسوں سے بنا ہوا ہے۔ اس پرتو انہوں نےکبھی سوچا نہ اس کا انہیں کوئی اندازہ ہوا۔ دنیا جہاں سے مائیگریٹ ہونے والوں نےبرطانیہ آ کر اپنے سروائیول کے لئے سخت اور سستی محنت کرکے برطانوی اکانومی کو بھی سنبھالا اور بہت سی دوسری قومی ضرورتیں بھی پوری کیں۔ یہ جو سردجنگ کے خاتمے کے بعد امریکی نیم نوآبادیات (Neo-colonialism) سے نکلنے کے لئے یورپی یونین میں پورے یورپ کی وحدت (Oneness) قائم کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، یہ یورپ کے اجتماعی شعور اور تغیر پذیر ضرورتوں کاعکاس تھا۔ لیکن پہلے سے بے پناہ جمہوری، بین الاقوامی اور خوشحال ماحول میں رہتے کلاسیکل گوروں کو گوارہ نہیں تھاکہ ان کا کلاسیکل برطانیہ مکمل طور پر غائب ہو کر نیا برطانیہ بنے۔
کرپشن کے ستائے پاکستانیوں کی اطلاع کے لئے…. ڈاکٹر مجاہد منصوری

وہ انتظامی علوم سے مالا مال ہو کر اوراس کے اطلاق کے خوش کن نتائج دیکھ کر بھی ہیومن ریسورس کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے، بھول گئے کہ قدرتی وسائل میں سب سے بڑا وسیلہ ’’انسانی وسیلہ‘‘ہے۔ جسے ایمپاورڈ کرنے، چمکانے، دمکانے کے تمام گر اور وسائل برطانیہ کے پاس موجود ہیں، یہ نئے آنے والوں کے چھوٹے چھوٹے روزگار سمیٹنے کے غم سے زیادہ تعصب تھا جس نے برطانوی معاشرے کے عمررسیدہ لوگوں کی اکثریت (اور ان ہی کی وجہ سے کسی حد تک نوجوانوں میں بھی) اس تعصب کو ایک اس درجے پر بحال کردیا، جس میں ان کلاسیکل انگریزوں کو برطانیہ کے اصل تشخص کی بحالی کا بخار چڑھا۔ حالانکہ اس سے موجود قدامت پسند منتخب قیادت (ڈیوڈ کیمرون) نے بھی اختلاف کیا لیکن عوام کے ایک بڑے حصے کے دبائو میں وہ انتخائی مہم میں برسراقتدار آنے پر ’’یورپین یونین کے ساتھ برطانیہ کے جڑے رہنےیا علیحدہ ہونے‘‘ کے سوال پر ریفرنڈم کا وعدہ کر بیٹھے جو انہوں نے کراکر ثابت کر دکھایاکہ اصلی جمہوریت میں منتخب حکمران وعدوں سے منحرف ہو کر عوام سے معافیاں نہیں مانگتے بلکہ وعدے پورے کرتے ہیں، خواہ بڑے خطرات ہی مول لیناپڑیں۔
برطانوی وزیراعظم کو وعدے کی پاسداری کے احساس کے علاوہ یہ یقین بھی تھا کہ (برطانیہ میں کلاسیکل برطانیہ کی بحالی پر یقین رکھنےوالے بابوں کا ایک دھڑاضرور ہے) لیکن اکثریت یونین سے علیحدہ نہیں ہوگی۔ اب جو خسارے کا سودا ریفرنڈم کے بعدواضح ہوا ۔ ریفرنڈم سے پہلے اس کےنتائج کااندازہ درست ہوتا تو شاید ڈیوڈ کیمرون تاریخ میں اپنے ’’بدعہد‘‘ہونے کے ریکارڈ کی قربانی کے طورپر قبول کرکے ریفرنڈم پر ٹال مٹول کرتے کرتے وقت گزار دیتے۔ ہمارے پاکستانی حکمران اپنے مفادات کے خلاف آئین و عدالتی احکامات بلدیاتی نظام کے قیام کیخلاف شرمناک مزاحمت کرسکتے ہیں، تو ڈیوڈ کیمرون برطانیہ اورپورے یورپ کے وسیع تر مفاد کے تحفظ کے لئے اتنی قربانی بھی نہ دیتے ؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ ویسے بھی خودبرطانوی عوام اور ان کی منتخب قیادت اپنے جنگی ہیرو ونسٹن چرچل کایہ تاریخی حوالہ بھول گئے کہ:
چرچل کا شمار یورپی یونین کے ان ابتدائی فیوچرسٹس میں ہوتا ہے جنہوں نے’’یونائٹیڈ اسٹیٹس آف یورپ‘‘ کی بات کی۔ ان کا یقین تھا کہ صرف متحدہ یورپ ہی ہمیں (یورپی اقوام) کو مستقبل میں جنگوں کے امکانات سے محفوظ رکھ سکےگا۔‘‘
(بحوالہ: دی فائونڈنگ فادرز آف یورپین یونین، Italia 24. ett)
سابق برطانیہ عظمیٰ اور موجودہ UKمیں ریفرنڈم کے نتائج نےپورے یورپ کی پروان چڑھتی وحدت (oneness)کو تو خطرے میں ڈال ہی دیا ہے لیکن ردعمل میں اسکاٹ لینڈاورشمالی آئرلینڈ میں یونین کے ساتھ ہی رہنے کے رجحان نے UKکے “U”کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ واضح رہے کہ یونین کے ہر ممبر ملک میں ہی معاشرے کا ایک دھڑا تشخص قائم رکھنے کے بخار میں مبتلاہے۔ یوں یورپ نےاتنا عرصہ ’’یونائٹیڈ اسٹیٹس آف یورپ‘‘ کا کامیاب ترین سفرجاری رکھ کر عظیم کامیابیوں کےبعد انتشار کے خطرات پیدا کئے ہیں جس کے ذمہ دار 52فیصد تشخص کے متلاشی اور نئےبرطانیہ سے پریشان برطانوی ہیں۔ رہے پاکستانی….. تو ہم اپنےبانی اور بابا کے سبق اتحاد، ایمان اور تنظیم کی طرف شروع سے ہی نہیں آئے لہٰذا ہم نےوہ فلاح حاصل ہی نہیں کی جو انگریز اور دوسری یورپی اقوام پا کر کھوتی نظر آرہی ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ اب ہم میں یہ زعم پیداہو جائے کہ ہم گوروں سے زیادہ اسمارٹ ہیں۔

.

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں