پاناما جےآئی ٹی: افسران کے نام لیک ہونے پر سپریم کورٹ برہم

اسلام آباد(پی ایف پی) سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ہونے والی خصوصی بینچ کی سماعت کے دوران جہاں جج صاحبان نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی آج ہی تشکیل کا عندیہ دیا، وہیں جے آئی ٹی میں شمولیت کے لیے اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے افسران کے ناموں کی فہرست میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے پاناما کیس پر عملدرآمد کے حوالے سے سماعت کی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک ریاض ریاض الدین اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔
عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے منتخب اداروں کے افسران کی فہرستیں لیک ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا، ‘نام ہم تک پہنچنے سے پہلے لیک کیسے ہوئے؟’
انھوں نے ریمارکس دیئے، ‘افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو نام انہوں نے بھیجے وہ پہلے ہی میڈیا پر آگئے، لہٰذا یہ ضروری ہے جو نام سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوئے وہ خارج کر دیئے جائیں’۔
ساتھ ہی جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ‘جن اداروں کے سربراہان سیکریسی برقرار نہیں رکھ سکتے وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔
اس موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ‘افسران کے نام لیک ہونے کے ذمہ دار اداروں کے سربراہان ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا، ‘ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے، پہلے دیئے گئے نام کی تصدیق کروائی تو اس شخص کو تفتیش کا تجربہ تھا اور نہ ہی اس کی ساکھ اچھی تھی، بلکہ جو نام بھجوایا گیا اس کی سیاسی وابستگی بھی سامنے آئی’۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‘اس شخص کا نام سوشل میڈیا اور میڈیا پر آنے سے اس کا مستقبل تاریک ہو گیا’۔
جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ ‘میڈیا پر ان ہی کے اداروں سے نام لیک ہوئے’، ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کا فائدہ کس کو ہو گا’۔
جسٹس اعجاز افضل نے اس موقع پر اپنے ریمارکس میں کہا، ‘تمام لوگوں کو بتا دیں کہ عدالت کو سیاسی نہ بنائیں’۔
ججز کے حوالے سے ریمارکس پر برہمی کا اظہار
سماعت کے دوران خصوصی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ‘پاناما کیس فیصلے کے بعد ایک سیاسی لیڈر نے کہا کہ پانچوں ججز نے وزیراعظم کو جھوٹا قرار دیا، وزیراعظم کو نہ تو میں نے جھوٹا قرار دیا اور نہ ہی اس بینچ میں موجود باقی دو ججز نے ایسا کہا’۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا، ‘اس لیڈر نے عوام سے دھوکہ دہی کی اور جھوٹ بولا، میں نے تو کسی کو جھوٹا قرار نہیں دیا۔
انھوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا، ‘سپریم کورٹ کے ججز کو بدنام کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی’۔
عدالتی کارروائی میڈیا پر زیر بحث لانے پر پابندی کی استدعا
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے بینچ کے سامنے کہا، ‘آپ کو معلوم ہے کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر کیا ہو رہا ہے؟’
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاناما کیس کا معاملہ بین الاقوامی ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس کیس پر لگی ہیں، ساتھ ہی انھوں نے عدالتی کارروائی پر میڈیا پر بحث کرنے پر پابندی لگانے کی استدعا کی۔
جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے، ‘فریڈم آف پریس کی کتاب ہمارے پاس موجود ہے، ہمیں سوشل میڈیا یا میڈیا کو کنٹرول کرنا آتا ہے’۔
جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے، ‘کوئی کیا کہتا ہے ہمیں اس سے غرض نہیں، ہم نے قانون اور آئین کا حلف اٹھایا ہے اور اس کے مطابق فیصلہ دیں گے’۔
جے آئی ٹی کی تشکیل
جسٹس عظمت سعید شیخ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم آج ہی جے آئی ٹی تشکیل دے دیں گے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں