وزیراعظم کا درگاہ شاہ نورانی دھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد کیلئے امداد کا اعلان

جاں بحق افراد کے لواحقین کو5,5لاکھ ، شدید زخمیوں 2,2لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 1,1لاکھ فی کس دئیے جائیں گے
اسلام آباد(پی ایف پی)وزیراعظم نوازشریف نے درگاہ شاہ نورانی دھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد کیلئے امداد کا اعلان کردیا۔
جاں بحق افراد کے لواحقین کو5,5لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کو 2,2لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 1,1لاکھ روپے فی کس دئیے جائیں گے۔
جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے درگاہ شاہ نورانی دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے5,5لاکھ جبکہ زخمیوں کیلئے2,2لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کردیا ہے۔
وزیراعظم نے مفتاح اسماعیل اور مصدق ملک کو زخمیوں کی عیادت اور امدادی چیک تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے.
واضح رہے کہ اتوار کے روز بلوچستان کے علاقے حب میں شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملے میں پچاس سے زائد افراد اپنی زندگی کی بازی ہا ر گئے تھے
صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے درگاہ میں دھماکے کے نتیجے میں 52 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا تاہم اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے حملے کے پیچھے بیرون ہاتھ ہونے کا بھی اشارہ دیا تاہم یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ دھماکا خود کش تھا یا بم پہلئ سے نصب کیا گیا تھا۔

مذکورہ علاقہ حب شہر سے 100 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر قائم ہے، راستہ انتہائی دشوار گزار اور خراب ہے جبکہ قریب میں ریسکیو کی سہولیات بھی موجود نہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر سے یومیہ سیکڑوں کی تعداد میں زائرین درگاہ شاہ نورانی آتے ہیں جبکہ زائرین کی بڑی تعداد کراچی اور حب سے درگاہ کی زیارت کیلئے جاتی ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان کی درگاہوں کو نشانہ بنایا گیا

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماضی میں بھی دہشت گردوں نے درگاہوں کو نشانہ بنایا ہے، امن دشمنوں نے کراچی کے عبداللہ شاہ غازی، لاہور کے داتا دربار اور ڈیرہ غازی خان کے دربار سخی سرور میں بھی زائرین کو نشانہ بنایا تھا۔

کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر اکتوبر 2010 میں ہونے والے دھماکوں میں 8 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

ڈیرہ غازی خان میں 2011 میں صوفی سخی سرور کے مزار پر خود کش حملے میں 50 افرادجاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

27 مئی 2005 میں اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر خود کش بم حملے میں 18 افراد جاں بحق اور 86 زخمی ہوئے تھے۔

یکم جولائی 2010 میں داتا دربار پر 3 دھماکوں میں 35 سے زائد افراد جاں بحق اور 170 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

25 فروری 2013 کو شکارپور کی درگاہ غازی غلام شاہ میں ہونے والے دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے صوبے میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

25 اکتوبر 2016 کو بھاری ہتھیاروں اور خود کش جیکٹس سے لیس دہشت گردوں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 61 اہلکار ہلاک اور 117 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

8 اگست کو کوئٹہ سول ہسپتال کے باہر دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک اور 112 سے زائد زخمی ہوئے تھے، ہلاک ہونے والوں میں ڈان نیوز کا کیمرہ مین بھی شامل تھا جبکہ اکثریت وکلا کی تھی جو بلوچستان بارکونسل کے صدر انور بلال کاسی کے قتل کی خبر سن کرہسپتال پہنچے تھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں