وزیراعظم آزادکشمیر کے نام کھلا خط ۔۔ خالد منہاس

تسلیمات! میں اور آپ دونوں اس ریاست کا حصہ ہیں جسے ہم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور دنیا اسے پاکستان کے زیرانتظام کشمیرکہتی ہے۔ہم دونوں میں فرق یہ ہے کہ میں صرف کچھ کہنے اور آپ کہنے کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی قسمت کے حوالے سے فیصلے کرنے پر بھی قادر ہیں۔آپ کے حوالے سے ایک یہ تاثر موجود ہے کہ آپ کم گو ہیں اور جو بات کرتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ ابھی ابھی مظفرآباد سے لوٹا ہوںایک رکشے والے نے بتایا کہ شکر ہے کہ آپ وزیراعظم ہیں ورنہ پہلے وزیراعظم کا پروٹوکول ہی مان نہیں تھا۔ اس کے چمچے کڑچے ہی بہت تھے۔آپ کے پروٹوکول کا مشاہدہ میں نے بھی کیا جو پنجاب کے کسی ڈی سی سے بھی کم تھا تاہم یہ سب کچھ نہیں ہے ۔ اسے ہم ایک اچھی ابتدا ضرور کہہ سکتے ہیں۔
تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور جن حکمرانوں نے کچھ کیا ہے اسے یاد بھی رکھتی ہے۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے ۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے تاریخ میں زندہ رہنا ہے یا اس میں دفن ہونا ہے۔ کچھ کر جائیں گے تو تاریخ آپ کا نام ہمیشہ یاد رکھے گی ورنہ جہاں اور بہت سے آئے اور چلے گئے آپ کا شمار بھی اسی قطار میں ہو گا ۔میں ایک عرصے سے آپ کا معتقد ہوں ۔اچھا لگا جب آپ نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے یہ بیان دیا کہ ہم کشمیر کونسل کے اختیارات کو ختم کریں گے اور اس کے تمام اختیارات کشمیر اسمبلی کو سونپ دیں گے ۔ پہلی بار لگا کہ کشمیر کے کسی سیاسی سیاستدان میں ریڑھ کی ہڈی بھی موجود ہے۔ یہ کوئی چھوٹا کام نہیں اگر آپ صرف یہی ایک کام کر جائیں تو یقین مانیے کہ ہم کہہ سکیں گے کہ آپ حقیقت میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم ہیں اور آپ نے ریاست کو اس کا تشخص دینے کے لیے کچھ کیا ہے۔یہ تسلیم کہ آپ بھاری مینڈیٹ تلے دبے ہوئے ہیں اور بہت سے فیصلے خواہش کے باوجود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے مگر خواہش اور ارادہ موجود ہو تو اسے کرنے کی صلاحیت قدرت خود عطا کر دیتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کونسل ایوان بالا نہیں ہے بلکہ کشمیر کو اپنی مرضی اور منشا کے تحت ریگولیٹ کرنے کا ایک ادارہ ہے ۔ کشمیر کونسل کے اختیارات کے سامنے کشمیر کا وزیراعظم بھی کچھ نہیں ہے۔کشمیر کے فنڈ پر سانگلہ ہل اوکاڑہ اور گجرات کے لوگوں کا حق نہیں ہے بلکہ اس فنڈ کو کشمیر کی شاہرات کی بحالی کے لیے استعمال ہونا چاہیے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کشمیر کوملانے والے شاہرات میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں جسے ہم ہائی وے کے نام سے موسوم کر سکیں۔ مری سے کوہالہ ہو یا پنڈی سے آزاد پتن کا سفر ، ہزاروں لوگ روزانہ یہ عذاب جھیلتے ہیں ۔ابھی تو ہم کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا رہے ہیں تو یہ سلوک ہو رہا ہے اور جس دن ہم ضم ہو گئے اس کے بعد کیا صورت ہو گی ان کا اندازہ کرنے کے لیے کسی افلاطون کی ضرورت نہیں ہے۔جناب وزیراعظم مجھے اجازت دیں کہ میں صرف ایک برس قبل دیا گیا بیان آپ کو یاد دلاﺅں جو آپ نے مظفرآباد میں دیا تھا او رکہا تھا کہ ایکٹ 1974ءجموں و کشمیر کے عوام کے لیے غلامی کا طوق ہے۔ آپ نے گذشتہ اسمبلی میں اس ایکٹ میں ترامیم لانے کے لیے بہت سا کام بھی کیا ۔ قوم آپ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے کہ اس ایکٹ کو ختم کرانے کے لیے آپ اپنا کردار ادا کریں ۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے کشمیر کے سیاستدانوں نے جو مجرمانہ غفلت کی ہے آپ سے گذارش ہے کہ آپ وہاں کے عوام کو اپنے ساتھ لانے کے لیے جو کچھ ہو سکے وہ ضرور کیجیے گا۔ انہیں صرف یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ کشمیر میں آپ بھی برابر کے شہری ہیں اور ریاست جموں و کشمیرآپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ان میں صرف sense of ownershipپیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا اہم ترین مسئلہ مہاجرین کشمیر کے حوالے سے چند اقدامات اٹھانے کا ہے۔ مہاجرین کے کوٹے کو بے دردی سے بیوروکریسی نے اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔ جعلی سٹیٹ سبجیکٹوں کی بھرمار نے غریب کشمیریوں کے حقوق کو سلب کیا ۔ آزادکشمیرکے اضلاع کے کوٹے کے تحت بیوروکریسی کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ فلاں سیٹ پر کس کا بھتیجا اور بیٹا لگا ہے لیکن مہاجرین کے کوٹے کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا۔ پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی کرپشن نے بہت سی کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ اس دفعہ ہونے والے کوٹے میں دھاندلی ثابت ہو چکی ہے لیکن گذشتہ پانچ برسوں میں اس ادارے میں کس حد تک رشوت سفارش اور اقربا پروری ہوتی رہی صرف اسی ایک مثال سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کیا ہم آپ سے توقع رکھیں کہ آپ اس ادارے کو بدنام کرنے والے اراکین کو برطرف ہی نہیں کریں گے بلکہ ان کے خلاف تحت ضابطہ کارووائی کے احکامات بھی جاری کریں گے؟ کسی حقدار کو اس کا حق دلانا کوئی چھوٹا کام نہیں ہے۔ جن لوگوں نے میرٹ کو موم کی ناک بنا دیا ہے ان کا محاسبہ نہیں کیا جائے گا تو بدنامی آپ کی حکومت کے حصے میں آئے گی۔ چوری وہ کھائیں گے اور بدنامی کا لیبل آپ کی حکومت کے سر لگے گا۔
جناب وزیراعظم! میں خود مہاجر ہوں اور آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ گذشتہ برسوںمیں مہاجر کوٹے میں جتنی بھی بھرتیاں ہوئی ہیں ان کی تحقیقات کرائیں ۔ اس کرپشن میں بیورکریسی کے ساتھ ساتھ ان نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی بھی برابر کے شریک تھے۔ لوٹ مار کا جو کاروبار گذشتہ برسوں میں ہوا ہے اس میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارووائی کی جائے۔اس کی ابتداءپبلک سروس کمیشن سے کیجیے۔
والسلام
خالد منہاس

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں