نیب کی رضاکارانہ اسکیم آئین سے متصادم : سپریم کورٹ

کراچی(پی ایف پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بدعنوان سرکاری ملازمین کی جانب سے رضاکارانہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی رقم واپس کرنے کی پیشکش قبول کرنے کا قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین کا اختیار بادی النظر میں آئین سے متصادم ہے۔

نیب نے احتساب عدالت کی جانب سے دھوکہ دہی کے الزام میں ایک شہری کو ریمانڈر پر دینے سے انکار کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ ’آرٹیکل 25 اے کو آئین کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہے جو چیئرمین نیب کو غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی دولت رضاکارانہ طور پر واپس کرنے کی پیشکش کو قبول کرنے کا اختیار دیتا ہے‘۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’یہ شق بادی النظر میں آئین کی اس شق سے متصادم ہے جس کے تحت ایسے اختیارات صرف کسی عدالتی فورم کی جانب سے ہی استعمال کیے جاسکتے ہیں اور چونکہ مذکورہ سیکشن میں نااہلی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی لہٰذا رقم کی رضاکارانہ واپسی کے بعد وہ شخص آزاد ہوجاتا ہے، اس کے کیریئر پر لگا داغ بھی مٹ جاتا ہے، وہ انتخاب لڑ سکتا ہے اور سرکاری عہدہ بھی رکھ سکتا ہے ‘۔

علاوہ ازیں عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نیب آرڈیننس میں کوئی پیمانہ یا تجویز نہیں دی گئی کہ رضاکارانہ طور پر واپس کی جانے والی رقم کا حجم کم سے کم کتنا ہونا چاہیے۔

معاملے کی سماعت کرنے والے بنچ نے سپریم کورٹ آفس کو ہدایت کی کہ وہ کیس کو چیف جسٹس آف پاکستان کے روبرو پیش کرے اور ان سے درخواست کرے کہ اس معاملے کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سو موٹو پٹیشن کے طور پر لیے جانے کے حوالے سے مناسب حکم جاری کریں۔

سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کا بھی مزید جائزہ لینا ضروری ہے کہ آیا نیب ان مقدمات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے اپنا دائرہ اختیار بڑھانے کا مجاز ہے جو اینٹی کرپشن حکام اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ نیب نے چھوٹے معاملات بھی اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 10 کروڑ روپے سے کم مالیت کی خرد برد کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کی فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نیب کی جانب سے جن کیسز کی تحقیقات کی گئیں وہ کوئی میگا اسکینڈل نہیں بلکہ معمولی کرپشن کے معاملات تھے۔

عدالت نے موقف اختیار کیا کہ ’نیب آرڈیننس کے قیام کا یہ مقصد نہیں تھا بلکہ اس کی تشکیل ان افراد کو پکڑنے کیلئے کی گئی تھی جو بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانی کررہے ہوں‘۔

عدالت نے کہا کہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ملزم جس نے لوٹ مار کرکے بڑے پیمانے پر مال بنایا وہ اس کا کچھ حصہ وہ بھی قسطوں میں ادا کرکے تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے اور دوبارہ عہدہ سنبھالنے کا بھی اہل ہوجاتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’رضاکارانہ اسکیم کے حوالے سے چیئرمین نیب کی جانب سے اختیارات کے تسلسل کے ساتھ استعمال کی وجہ سے درحقیقت ایک جانب کرپشن میں اضافہ ہوا تو دوسری جانب نیب آرڈیننس کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچا‘۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں