نئے صوبے کی آوازیں نہ آئیں تو ہمیں ہر چیز میں آدھا حصہ دینا ہو گا ،خواجہ اظہار الحسن

کراچی (پی ایف پی ) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث کے دوران تقریباً ڈھائی گھنٹے تک خطاب کیا ا نکا کہنا تھا کو اگر کوئی چاہتا ہے کہ نئے صوبے کی آوازیں نہ آئیں تو ہمیں ہر چیز میں آدھا حصہ دینا ہو گا ۔، کہ سب سے پہلے بانیان پاکستان کو خراج تحسین پیش کروں گا ، جنہوں نے یہ ملک دیا ۔ حکومتی افراد بجٹ سے ہٹ کر ہر موضوع پر تقاریر کرتے رہے ہیں ۔ ایم کیوایم کا پیپلزپارٹی سے بحثیت ایک جماعت کوی اختلاف نہیں ہے ۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی پر اختلاف تھا اور رہے گا ۔ اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ،جنہوں نے پورے سال حکومت کی غلطیوں کا احساس دلایا۔ بجٹ تقاریر میں بالواسطہ ایم کیو ایم کی قیادت پر تنقید کی گئی۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت شیشے کے گھر میں رہ کر پتھر نہ مارے۔پیپلزپارٹی کے وزرا کو ہم پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اتنا ضرور سوچنا چاہے کہ وہ بھی شیشہ کے گھر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 9سال کے دوران 1 ہزار ارب کا ترقیاتی بجٹ خرچ کیا جا چکا ہے۔ عوام دن بجٹ کو عوام دوست کیسے کہہ سکتے ہیں ۔ بجٹ میں بالواسطہ 92 فیصد ٹیکس لگا کر عوامی بجٹ کا نعرہ لگایا گیا۔ براہ راست ٹیکس جمع نہیں کئے گئے ۔زراعت پر لگایا گیا ٹیکس جمع نہیں ہو سکا ۔ حکومت 8 فیصد براہ راست ٹیکس کو ہدف پورا نہیں کر سکی۔ سندھ حکومت بھی مختلف اداروں سے قرض لیتی ہے اور 24 ارب سود ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی امداد سے بچوں اور ماووں کی صحت پر چلنے والا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔ وہ تمام اسکیمیں اور منصوبے ،جن کا تعلق ماﺅں اور بچوں سے ہے ، خدا راہ انہیں معاف کریں۔ بے نظیر یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام بھی ناکام ہوگیا۔ کیا 15 ہزار نوجوانوں کو تربیت مل گئی ،کیا لیاری کے جوان کو تربیت ملی اور نوکری مل گئی۔پورے سندھ کو ایک طرف رکھ کرے یہ بتایا جائے کہ لیاری سے کتنے لوگوں کو روزگار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہاین ایف سی کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ تھا ۔ این ایف سی ایوارڈ کاکریڈٹ سید سردار احمد اور ایم کیو ایم کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں وزرا اور مشیروں کی فوج ہے ۔ معاون خصوصی کو بھی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے ۔ مشیروں اور وزیروں کی فوج کی عیاشی کے لئے بھی کروڑوں روپے رکھے گئے ہیں۔عوام کے ٹیکسوں کے پیسے وزرا کی عیاشیوں کے لیئے رکھے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔ جو اختیارات کراچی کے میئر کو ہوگا وہ اختیار لاڑکانہ کے چیئرمین کو بھی دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ صوبوں کو مالی وسائل میں سے 57.5 فیصد حصہ دیا جائے اور صوبوں کو خود مختاری دی جائے ۔و فاق صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرے ۔ اسلام آباد سے 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت بات کی جاتی ہے لیکن یہاں صوبے میں بادشاہت ہے ۔ 57.5 فیصد حصہ اضلاع کو دینے میں کیا مسئلہ ہے ۔ رمضان میں مختلف اشیا کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ عام آدمی بجٹ سے خوف کھانے لگا ہے ۔ بجٹ سے نفرت کرتا ہے۔ فنانس بل کو ٹیکس فری کہہ کر ڈرامہ کیا گیا۔ بجٹ میں 4 کٹگریز پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ فنانس بل بھی لوکل گورنمنٹ بل کی طرح ہے۔ روزانہ وزیر بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ مئیر کے پاس کوئی اختیار رہ تو نہیں گیا لہذا اس قانون میں ترمیم کرو ۔ اب تک لوکل گورنمنٹ بل میں نو مرتبہ ترامیم ہو چکی ہیں۔ فنانس بل میں مڈل کلاس پر بھی ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ 10 فیصد سیس کسی امیر پر نہیں غریب اور متوسط طبقے پر لگایا گیا ہے ۔ آئل ٹینکر اور پیٹرولیم پر صوبائی سیس لگا کر غریبوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ تعمیرات پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیاہے ۔ میڈیا ہاوسز پر بھی ٹیکس،حج اور عمرے کے ویزے پر بھی ٹیکس لگایا گیاہے ۔ 17 ٹیکسز کی نشاندہی کردی ہے ۔مجھے بجٹ میں کوئی خوبصورتی نظر نہیں آتی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے پرانی اسکیموں کو خاموشی سے ختم کر دیا ۔ حکومت میں ترقیاتی بجٹ خرچ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے ۔ اب تک 81 ارب روپے خرچ نہیں کےے جا سکے ۔ آئندہ سال کے ترقیاتی بجٹ میں 260 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس ترقیاتی بجٹ کے کرپشن کے نظر ہونے کا خدشہ ہے ۔ سندھ میں ہوگا ایسے گذارا ،آدھا تمہارا آدھا ہمارا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر برباد ہو گیا ہے ۔ میرا اور آپ کا شہر تباہ ہو گیا ہے ۔
کراچی میں فی کس ترقیاتی خرچہ صرف 2200 روپے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے 309 ملین روپے 9 ماہ میں خرچ کر دیئے ۔ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے لےے گذشتہ سال 5 ارب روپے رکھے گئے تھے ۔ 4 ارب روپے خرچ کر دیئے گئے ۔ رواں سال وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے لےے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ چیف منسٹر ہاو¿س میں تعمیرات پر 80 کروڑ روپے خرچ ہہوں گے ۔ کیا وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں اکبر بادشاہ کی یادگار تعمیر ہو رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے بجٹ میں سے 5 ارب روپے کی کٹوتی کرکے تھر کے باسیوں کو دیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا بجٹ بیرونی امداد کے بغیر ” للوے کو پھوا ہ“ ہے ۔ وزیر صحت کی تقریر نہیں منشی کا حساب کتاب تھا۔ وزیر صحت کی تقریر فضول اور بکواس تھی۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے خلاف قرار داد ہم لائے تھے ۔ حکومت پراسیکیوشن بل لے آئی تھی ۔ ہمیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی یاد ہے ، جس نے پیپلز پارٹی سے بدین چھین لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کوئی زرعی پالیسی موجود نہیں ہے ۔ حکومت کب تک ایڈہاک پر کام چلائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین اینٹی کرپشن نے تھوڑا کام کیا تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ کوئی افسر بھی کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ کمشنر کراچی آصف حیدر شاہ سائن بورڈ ہٹا کر درخت لگانا چاہتے تھے لیکن مافیا نے انہیں ہٹا دیا ۔ مافیا اپنی مرضی کا کمشنر لانے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزراءنے جعلی بھرتیاں کیں ۔ این ٹی ایس کے ذریعہ ٹیسٹ کا ڈراما رچایا جا رہا ہے ۔ اگر سندھ حکومت کو نوکریاں بیچنی ہیں تو بیچ دیں ۔ ہم نہیں روکیں گے ۔
کم از کم لوگوں کو نوکریاں تو ملیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی 10 اسکیموں کے لےے 10 ارب روپے دے کر کون سا احسان کیا گیا ۔ کراچی نہ صرف اس صوبے بلکہ اس ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کراچی کو پانی کی بوند بوند کے لےے ترسا دیا گیا ہے ۔ کراچی کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے ۔ وزیر بلدیات جام خان شورو کراچی میں کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ وزیر بلدیات رہیں لیکن لگتا نہیں کہ وہ اگلے مہینے وزیر رہیں گے ۔ وزیر بلدیات جہاں پہنچتے ہیں ، وہاں کوئی دوسرا پہنچا ہوتا ہے ۔ وہ کراچی سے پانی کے غیر قانونی کنکشن ختم کرائیں ، ہم ان کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں نیب کی کارروائیوں کو بند کرا دیا جائے ۔ ہمیں نیب کی سندھ میں ضرورت نہیں ہے ۔ میں ڈی جی نیب سے کہتا ہوں کہ وہ اپنا دفتر یہاں سے اٹھا کر اسلام آباد لے جائیں ۔ نیب تحقیقات کرتی ہے اور فائل بند کر دیتی ہے ۔ رینجرز کی پانی کی چوری پر جے آئی ٹی کہاں گئی ۔ ایک قرار داد میں رینجرز کی جے آئی ٹی کو گم کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم لندن پیسے بھیجتے ہیں ، یہ سب کو پتہ ہے لیکن حکومتی ارکان لندن لندن نہ کریں ، جتنا لندن ہمارا ، اتنا ان کا بھی ہے ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ سندھ کا وزیر اعلیٰ اردو بولنے والا بھی ہو سکتا ہے ۔ 2018 میں ہم اپنے ہاتھ سے اردو بولنے والا وزیر اعلیٰ بنائیں گے ۔ صوبے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں ہے ۔ یہ ہماری سوچ ہے اور اب ہماری سوچ کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ آصف علی زرداری دوریاں ختم کرنے کے لےے نائن زیرو آئے تھے ۔ مفاہمتی پالیسی کے تحت ہم بھی آپ کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ صوبے کی آوازیں نہ آئیں تو آپ کو بات کرنا ہو گی ۔ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا ہوں گے ۔ اب 40 اور 60 کا حصہ نہیں ہو گا بلکہ 50 ، 50 کا ہو گا ۔ نوکریوں میں آدھا حصہ دینا ہو گا ۔ بجٹ میں بھی آدھا حصہ دینا ہو گا ۔ ہر چیز میں آدھا حصہ دینا ہو گا ۔ 50 ، 50 کے علاوہ کوئی فارمولا منظور نہیں ۔ نوکریاں ہوں یا کچھ بھی ۔سندھ میں ہو گااب ایسے گذارا ، آدھا ہمارا آدھا تمہارا ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں