’’مکمل‘‘ سے ’’مکمل ترین‘‘ تک

کہا جاتا ہے کہ پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی، اب تو کئی حلقے میڈیا کے متعلق بھی یہی رائے دینا شروع ہو گئے ہیں یعنی بچ بچا کر چلنا چاہیے۔ میڈیا میں زیادہ آنے کا شوق بڑے بڑوں کو لے بیٹھتا ہے۔ چیف جسٹس(ر) افتخار محمد چودھری کو ہی دیکھ لیں جو اس وقت ’’پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں‘‘ کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ان کا برا حال تو عین اس وقت ہی ہو گیا تھا کہ جب وہ عدلیہ کے سربراہ تھے۔آئے روز آرڈرز پاس کرتے رہتے تھے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی۔ یوں کئی بڑے بڑے کام کرنے کے باوجود میڈیا میں زیادہ آنے کے شوق کے باعث وہ اپنا شخصی وقار داغدار ہونے سے نہ بچا سکے۔یہ فارمولا صرف شخصیات پر ہی لاگو نہیں ہوتا بلکہ پورے کے پورے ادارے بھی متاثرین میں شامل ہو سکتے ہیں۔ جو کوئی بھی میڈیا کو اپنے ’’امیج بلڈنگ‘‘ کیلئے اس طرح سے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا کہ جس سے کسی دوسرے شخص یا ادارے کی ساکھ پر ضرب لگائی جا سکے تو پھر جواب بھی آئیگا۔ وہ باتیں بھی سرعام موضوع بحث بننا شروع ہو جائینگی جن کا ماضی میں رواج تھا نہ تصور۔۔۔۔
میڈیا اداروں میں بیٹھے افراد کے بارے میں رائے عامہ بھی تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے ،یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بعض اداروں نے بندر بلکہ ’’باندر‘‘ کے ہاتھ میں استرا پکڑا رکھا ہے۔ خیر عوام تو عوام ہیں، انہیں کوئی بھی رائے دینے کا مکمل حق ہے۔ خود میڈیا میں بیٹھے لوگ بھی اپنے شعبے میں ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے اطمینان محسوس نہیں کررہے۔ آج کل معاملہ زیادہ زوروں پر ہے کیوں کہ نجی ٹی وی چینلوں کی ایک پوری کھیپ کہیں اور سے ہدایات لے کر پورے ملک میں غیر یقینی اور افراتفری کا ماحول بنائے رکھنے پر جتی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی منظم طریقے سے ’’باریک کام‘‘ ہورہا ہے۔اخبارات میں بھی پیغام رسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ یقیناًجوابی اقدامات بھی ہورہے ہیں۔ اسی لیے تو کھیل بنتا ، بگڑتا نظر آتا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو ایک فریق اب تک میدان مارچکا ہوتا۔ اس لڑائی میں ایسوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے کہ عام حالات میں انہیں کوئی منہ لگانا بھی پسند نہ کرتا۔ اس دھما چوکڑی میں پیمرا کے احکامات ’’نقار خانے میں طوطی کی آواز ‘‘کی مثال بنے ہوئے ہیں۔کوشش بہرحال کرتے رہنا چاہیے۔ شاید اسی خیال نے حکومت کو سائبر کرائم بل لانے کی راہ دکھلائی ہے۔سوشل میڈیا پر ان دنوں جو کچھ ہورہا ہے اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو طوفان بدتمیزی قابو سے باہر ہو کر پوری ریاست کی چولیں ہلا سکتا ہے۔ سائبر کرائم بل ہر حوالے سے ایک خوش آئند اقدام ہے۔ قانون بن گیا تو مزید بہتر بھی ہو جائیگا اور یقیناًکسی وقت اس کا مکمل اطلاق بھی ممکن ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا پر کوئی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث مادرپدر آزادی والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔سب سے زیادہ گند ’’ مکمل‘‘ صارفین نے مچا رکھا ہے۔ ’’مکمل‘‘ کی اصطلاح بھی خوب ہے۔ پرنٹ میڈیا میں اس کے موجد عباس اطہر مرحوم تھے۔ جب کسی کند ذہن، نالائق ،غبی کو بحث کرتا دیکھتے تو کہا کرتے تھے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدو، کام کو خود ہی سدھار لو کیونکہ یہ ’’مکمل ہو چکا‘‘اب اس سے بحث فضول اور محض وقت کا ضیاع ہے۔عباس اطہر مرحوم نے اپنے سینکڑوں شاگردوں کو ’’مکمل‘‘ افراد کی مردم شناسی کا ہنر سکھایا اور وہ مستفید بھی ہوئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ مگر یہ معاملہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ پھیلاؤ کا شکار ہے۔ اخبارات کی حد تک چند افراد کو ہی ’’مکمل‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہو تا تھا۔ نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد تو گویا بیڑہ ہی غرق ہو گیا، جو اٹھا سو ’’مکمل‘‘ اٹھا۔ صحافت کے ساتھ دیگر شعبے بھی اس وباء کی لپیٹ میں ہیں۔ سیاست کو ہی دیکھ لیں ، جراثیم تو ویسے ہر پارٹی میں موجود ہیں مگر تحریک انصاف کو یہ امتیاز حاصل ہے اس میں جو اور جب شامل ہو جائے وہ ’’مکمل‘‘ ہو جاتا ہے،عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں۔’’مکمل‘‘ لوگ اپنے اپنے گھروں، نجی محافل یا دفاتر وغیرہ تک محدود رہتے تو معاملہ قدرے آسان ہوتا۔ مشکل تو یہ ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر روز سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں ’’نئی کونپلیں‘‘ پھوٹ رہی ہیں۔ نجی ٹی وی چینلوں پر جو کچھ ہورہا ہے وہ اپنی جگہ تشویشناک معاملہ ہے۔ سوشل میڈیا پر تو بسا اوقات تمام حدود ہی پار کر لی جاتی ہیں۔ مخصوص مفادات کے حامل گروہ بھی سرگرم ہیں۔ کوئی سیاستدانوں کے لتے لے رہا ہے تو کوئی ججوں کے پول کھولنے پر تلا ہے۔ فوج اور جرنیلوں کو بھی الزامات کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی کے پاس کسی بات کا ثبوت نہیں۔ اگر کوئی ’’نابغہ‘‘ کسی ہدایت یا مہم کے تحت کوئی ڈس انفارمیشن کو سلیقے سے لکھ کر پوسٹ کر دے تو اس کے ہم خیالوں کی لاٹری نکل آتی ہے۔( فارورڈ ایز رسیوڈ) لکھ کر آگے پوسٹ کر دیا جاتا ہے۔ مذہب اور مسالک کے حوالے سے متنازعہ پوسٹیں معمول بنتی جارہی ہیں۔ اکابرین اور فاتحین کا تمسخر اڑانے کیلئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈس انفارمیشن پھیلائی جارہی ہے۔ مقصد یہی ہے کہ ہر طے شدہ مسئلے کو بھی مشکوک اور متنازعہ بنا دیا جائے۔
چند ہفتے قبل برادر یحییٰ مجاہد نے ایک حدیث مبارکہ پوسٹ کی تو ایک ’’نمونے‘‘ نے جو تبصرہ کیا وہ تحریر کرنا مناسب نہیں۔ سوشل میڈیا کا ہی ایک اور حصہ گروپ چیٹس ہیں۔ایسے گروپ زیادہ تر پروفیشنل حوالے سے بنے ہوتے ہیں ۔میڈیا کے حوالے سے بنے گروپوں میں وہ چغدزیادہ اچھل اچھل کررائے دیتے ہیں جن کا اپنے شعبے میں کوئی مقام نہیں۔ دینی اور تاریخی حوالے سے رائے یوں دیتے ہیں کہ جیسے سارا علم گھول کر پی رکھا ہے۔ کئی ایسے مالکان جو اپنے ادارے ڈھنگ سے نہیں چلا سکتے اور کئی ایسے ملازمت پیشہ صحافی جو بروقت تنخواہ کے حصول کیلئے روتے رہتے ہیں میڈیا چیٹس پر حکومت کو بتاتے ہیں کہ وہ ان کی ہدایات کے مطابق کام کر کے ہی سرخرو ہو سکتی ہے۔ ایسی چیٹس میں ایک نہیں بلکہ کئی ایک باقاعدہ پیشہ ور صحافی حضرات بھی موجود ہوتے ہیں۔اپنی دفتری ذمہ داریوں کو رزق حلال کی جستجو میں اتنا وقت ہی نہیں پاتے کہ چیٹس میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ ’’نابغے‘‘ سمجھتے ہیں انہیں کوئی چیلنج نہیں کررہا حالانکہ سچائی کچھ اور ہوتی ہے۔ بعض نگینے تو اس قسم کے ہیں کہ چیٹس پر ان کے افکارعالیہ کا جواب دینے سے قبل ایک ایک چانٹ(تھپڑ) رسید کرنا کہیں زیادہ بہتر عمل لگتا ہے۔ یہ ’’نابغے‘‘ نگینے بھی دراصل ’’مکمل‘‘ کی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں کہ سوشل میڈیا پر اپنے ہی ممدوح کو جہالت کے باعث نقصان پہنچانے پر لگے ہیں۔ ابھی چند روز قبل پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست سے دو چار کیا تو اے بی سی کا پتہ نہ ہونے کے باوجود تبصرے شروع ہو گئے۔ سوشل میڈیا کے ’’مکمل مجاہدین‘‘ حرکت میں آئے اور فتح کا سارا کریڈٹ پاک فوج کو دے ڈالا۔ ارشاد ہوا کہ کھلاڑیوں کو جسمانی فٹنس کی تربیت دئیے جانے کے باعث یہ سب کچھ ممکن ہوا۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی علم نہ تھا کہ کرکٹ کے کھیل میں جسمانی فٹنس تو محض ایک پہلو ہے۔ تکنیک اور ٹیلنٹ اور مورال ہی اصل ہتھیار ہوتے ہیں۔اگر فوجی تربیت کے بعد ہی میچ جیتنا ہوتے تو کرکٹ کا ورلڈ کپ امریکہ یا روس کے پاس کیونکر نہ ہوتا؟ دوسرے ٹیسٹ میچ میں نتائج کے ساتھ تبصرے، تجزیے بھی الٹ گئے۔ ڈھٹائی مگر کہاں جانے والی ہے۔ کوئی اور موضوع ڈھونڈ لیا جائے گا۔
معاملات بین الاقوامی ہوں، علاقائی یاخالصتاًقومی، اقتصادی امور یا معاشرتی،بات سائنس کی ہو یا ادب کی، گویا کوئی بھی موضوع ہو ’’مکمل ‘‘ افراد ہر موقع پر اپنی فیصلہ نما رائے یا رائے نما فیصلہ ٹھونستے نظر آئیں گے۔ سچ ہے کہ استرا بندر نہیں بلکہ باندر کے ہاتھ میں ہے(یہاں باندر سے مراد بندروں کی بگڑی ہوئی نسل ہے)نوٹ، یہ تعریف لطیف پیرائے میں لی جائے)۔ ہمیں صرف معاشرے کو خلفشار سے بچانا ہے۔ کسی کو مادرپدر آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔ قوانین بن گئے، بہتر بھی ہو جائینگے۔ اطلاق بھی کرنا ہو گا اور سب پر کرنا ہو گا۔ مکررعرض ہے کہ ایسا نہ ہوا تو طوفان بدتمیزی بے قابو ہو کر ریاست کی چولیں ہلا دے گا۔
آج کل ہر کوئی ترکی کے معاملے پر اپنی علمیت کے جوہر دکھارہا ہے۔ سلیم صافی نے طیب اردگان کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں گائیڈ لائن فراہم کی ہے کہ تقریباً ایک صدی بعد پید اہونے والے عظیم ترین ترک لیڈر کو آگے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ کالم میں آخر میں فرماتے ہیں ’’ کاش عالم اسلام میں اس وقت کوئی ایسی شخصیت موجود ہوتی جو طیب اردوان اور فتح اللہ گولن کو ساتھ بیٹھا کر ان کی مفاہمت کرواتی۔ طیب اردوان اور میاں نواز شریف کی ذاتی دوستی ہو گئی ہے اور شاید وہ یہ کام کر سکیں لیکن ۔۔۔ان کو ان باتوں کی فہم اور فرصت کہاں۔۔۔۔۔۔‘‘
قربان جائیے !اس تحریر کے بارے میں یہ کہنا شاید مناسب نہ ہو گا کہ یہ کسی ’’مکمل‘‘ کا مشورہ ہے۔ ایسی شخصیات کیلئے تو ’’مکمل ترین‘‘ کا ٹائٹل بھی کم پڑتا دکھائی دیتا ہے مگر وہ اکیلے ہی حق دار نہیں اب تو جدھر نظر اٹھائیں ’’مکمل ترین‘‘ ہی ’’مکمل ترین‘‘ نظرآتے ہیں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں