مودی کے دوروں سے فرق نہیں پڑتا: عزیز

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلم ممالک کے دوروں سے ان کے پاکستان سے تعلقات میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں،ہماری پالیسی ہے کہ کسی اور کی لڑائیاں نہ لڑیں
یہ تصوردرست نہیں کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے

اسلام آباد(پی ایف پی) پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے مسلم ممالک کے دوروں سے ان کے پاکستان سے تعلقات میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سرتاج عزیز کے مطابق پاکستان کے مسلمان ملکوں سے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی ہیں اور وہ ایسے ہی برقرار رہیں گے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ یہ تصوردرست نہیں کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں جب کہ چین کے ساتھ سی پیک (پاکستان چین اقتصادی راہداری)، سی اے ایس اے 1000، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اورایران پائپ لائن (تاپی) اور پاک ایران گیس پائپ پروجیکٹس ہماری خارجہ پالیسی کی اہم کامیابیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنا بھی ہماری پالیسی کا حصہ ہے، حکومت نے اپنے اصول اور مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ نہیں ہونے دیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی بہتر خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہندوستان کی نیوکلیر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے حوالے سے مشکلات کھڑی کردی ہیں، ہماری کوششوں کی وجہ سے این سی جی اجلاس میں ہندوستان کو جوہری کلب میں شامل کرنے پر تحفطات کا اظہار کیا گیا ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں، افغانستان میں امن کے لیے کوشش کررہے ہیں، ہماری پالیسی ہے کہ کسی اور کی لڑائیاں نہ لڑیں۔

انہوں نے فل ٹائم وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کو وزیر مقرر کرنے اور آرٹیکل 93 کے تحت پانچ مشیر مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ پاکستان میں مشیر وزیر خارجہ کے فرائض بھی انجام دے رہا ہے، ماضی میں بھی مشیروں کو وزات خزانہ اور وزرات داخلہ کے قلم دان دیے گئے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں