ملامنصور کی ہلاکت سے افغانستان میں جنگ تیز؟

واشنگٹن: امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ طالبان سربراہ ملا منصور کی موت نے افغانستان میں جاری لڑائی میں شدت پیدا کر دی ہے، جبکہ افغان امن عمل کا مستقبل بھی اب غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔

جمعے کے روز کانگریس کو اپنے سہہ ماہی رپورٹ پیش کرتے ہوئے امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیرِ نو نے مشاہدہ پیش کیا کہ اس سال کی دوسری سہہ ماہی میں طالبان نے ایک اور علاقے پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ اب ملک کے 400 ضلعوں میں سے 19 پہلے ہی ان کے کنٹرول میں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ملا منصور کی موت سے طالبان قیادت میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لڑائی نے شدت اختیار کی ہے، اور امن عمل کو غیر یقینی کیفیت کا شکار کر دیا ہے۔”

یاد رہے کہ ملا منصور 21 مئی کو ایران سے واپس آتے ہوئے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان سرحد کے قریب پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملے کا حکم دینے والے امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ انہیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ امریکی حمایت سے افغان حکومت کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں شمولیت سے انکار کر رہے تھے۔ مگر کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو حزبِ اسلامی جنگجو گروپ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی تھی، اور افغان حکومت نے امن معاہدے کے لیے ایک حتمی مسودہ تیار کیا تھا جسے اعلیٰ امن کونسل کی منظوری حاصل تھی۔

رپورٹ کے مطابق جون کے اختتام تک امن مذاکرات ٹھنڈے پڑ گئے تھے، اور اس وقت مکمل طور پر ختم ہوگئے جب حزبِ اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے افغان حکومت کی تحلیل کا مطالبہ کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق اس سال افغان حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔ حکومت کا زیرِ انتظام علاقہ گذشتہ سال مئی کے اختتام تک 70.5 فیصد تھا جبکہ اس سال یہ 65.6 فیصد ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام زیادہ تر علاقے دیہی ہیں۔ مگر افغان حکام کے مطابق حتمی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں کیونکہ طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے ساتھ جنگ جاری ہے۔

امریکا افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کر رہا ہے تاکہ ملکی سکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کر کے امریکی فوجیوں کا انخلاء کیا جا سکے، مگر اس سال کے اوائل میں امریکی صدر اوباما نے اپنے فوجیوں کو طالبان کے خلاف لڑائی میں شمولیت کا حکم دیا، جبکہ طالبان اہداف کے خلاف فضائی حملوں کی بھی اجازت دی۔

صدر اوباما کی مدت کے اختتام پر افغانستان میں 8400 امریکی فوجی ہوں گے، جبکہ ابتدائی طور پر ان کی مدت کے اختتام تک تمام فوجیوں کے انخلاء کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل ڈیفنس فورسز نے طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے خلاف جدوجہد کی ہے، جبکہ پاکستانی سرحد کے ساتھ لگنے والے صوبوں ہلمند، قندہار اور ننگرہار میں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ 68.5 فیصد جھڑپیں جنوبی، جنوب مشرقی اور مشرقی افغانستان میں ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کے کئی حملوں کا منصوبہ پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں میں تیار کیا گیا، اور حملوں کو کنٹرول بھی وہیں سے کیا گیا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں