مشال قتل کیس

مشال قتل کیس: ایک شخص کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید

#MashalKhan
مشال قتل کیس: ایک شخص کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ عدالت نے 26 افراد کو بری کرنے کا حکم

ہری پور(پی ایف پی) عبدالولی خان یونیورسٹی میں قتل ہونے والے مشعال خان کے قتل کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ہری پور میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ عدالت نے 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں گذشتہ برس 13 اپریل کو جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔سینٹرل جیل ہری پور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل سبحان کے روبرو 58 ملزمان کو پیش کیا گیا جب کہ تین ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔فاضل جج نے 27 جنوری کو محفوظ کردہ فیصلہ سناتے ہوئے 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید اور 26 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔
ابتدائی عدالتی فیصلے کے مطابق ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید، 25 مجرموں کو مختلف دفعات کے تحت ایک سال اور 3 سال قید کی سزا سنائی اور 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جن افراد کو بری کیا گیا ہے ان کے حوالے سے شواہد نہیں ملے کہ وہ مشال خان قتل میں ملوث تھے۔

پولیس کے مطابق اس کیس کا مرکزی ملزم عارف تاحال لاپتہ ہے جبکہ اس کے بارے میں بیرون ملک فرار ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مرکزی ملزم عمران علی کو سزائے موت سنائی جبکہ جن 5 ملزمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی ان میں بلال بخش، فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان اور مدثر بشیر شامل ہیں جبکہ ان مجرمان کو جرمانہ بھی دینا ہوگا۔

فیصلے کے وقت ہری پور کی سینٹرل جیل میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جب کہ جیل کے اطراف پاک فوج کے اہلکار بھی تعینات رہے۔سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جیل میں صحافیوں اور ملاقاتیوں کا داخلہ بند تھا۔دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے جب کہ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مشال قتل کیس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے۔
کیس میں نامزد 61 ملزمان میں سے 58 گرفتار ہیں جب کہ مرکزی ملزم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تحصیل کونسلر عارف خان سمیت 3 تاحال مفرور ہیں۔ مفرور دیگر افراد میں طلباء تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیاء شامل ہے۔

یاد رہے کہ مشال خان قتل کیس میں 25 سماعتوں میں 68 گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔کیس کا فیصلہ سامنے آنے سے قبل پولیس نے صوابی میں مشال خان کے گھر کے اطراف میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کرتے ہوئے بھاری نفری تعینات کردی تھی۔اس کے علاوہ پولیس نے مشال خان کی قبر پر بھی اضافی نفری تعینات کی تھی۔

خیال رہے کہ 28 جنوری 2018 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے مشال خان قتل کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو آج بروز 7 فروری کو سنادیا گیا۔اے ٹی سی جج فضل سبحان خان نے ہری پور سینٹرل جیل میں مقدمے کی سماعت کی اور استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد مشال خان کے بھائی ایمل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشال کیس میں تمام ملزمان کو سزا ہونی چاہیے، اس فیصلے پر وکلاء سے مشاورت کے بعد بتائیں گے کہ آیا ہم اس سے مطمئن ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ اچانک ہوجائے تو وہ برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور مشال خان کے قتل سے بہت تکلیف ہوئی اور والدہ اسے یاد کر کے بہت روتی ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے اپیل کی کہ اس کیس میں مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں بھی قرار واقعی سزا دی جائے۔عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے مشال خان کے بھائی نے کہا کہ مشال خان کے نام سے یونیورسٹی کا نام منسوب کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں