مرا پیمبر عظیم تر…..حسن نثار

مرا پیمبر عظیم تر…..حسن نثار
لیمر ٹائین کے بعد سرولیم میورنے اپنی کتاب ’’Life of Muhammad‘‘ میں لکھا’’ان کی گہری کالی آنکھوں کی گہرائی میں جو ا حساسات تھے اور ان کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی وہ انتہائی مقناطیسی کشش کے حامل تھے جنہیں دیکھ کر پہلی ہی نظر میں کوئی اجنبی شخص ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا اور ان کے جسمانی خدوخال ،چال ڈھال ان کی مہربان اور شفیق مسکراہٹ ، ان کی عاجزی اور انکساری سب پر عیاں تھی۔ وہ ایک انتہائی پروقار اور بہادر شخص تھے جن کا چہرہ انتہائی روشن تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سورج کی شعائیں ان کے چہرے سے پھوٹ رہی ہوں۔ ان کی چال ایسی تھی جیسے کوئی پہاڑ سے تیزی کے ساتھ اتر رہا ہو تو کسی بھی شخص کے لئے مشکل تھا کہ وہ ان کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے۔ وہ کبھی پلٹتے نہیں تھے اس حالات میں بھی جب وہ کانٹوں سے بھرے راستے سے گزررہے ہوتے، وہ اپنے ساتھ والوں کو جان بوجھ کر یہ موقع دیتے کہ ان کی موجودگی میں ان کے رفقاء جو ہنسی مذاق نہیں کرسکتے وہ پیچھے رہ کر آزادی کے ساتھ کرلیں، اگر وہ کسی سے ملاقات کرتے تو ایسا نہیں ہوتا تھا کہ وہ پوری طرح جسمانی اور دماغی طور پر اس سے مخاطب نہ ہوں بلکہ ان کا پورا چہرہ اور جسم اپنے مخاطب کی طرف ہوتا، کبھی ترچھا نہیں ہوتا۔ جب وہ مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ تھامے رہتے جب تک دوسرا خود علیحدگی اختیار نہ کرتا۔ ان سے ملاقات کرنا اتنا ہی آسان تھا جیسے بہتے دریا سے پانی لینا۔ ایک انتہائی قابل ذکر پہلو آپ کی زندگی کا یہ تھا کہ وہ معمولی سے بھی معمولی شخص کو بھی انتہائی اہمیت دیتے، اگرچہ ان کے پاس لامحدود اور مکمل اختیارات تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ ان اختیارات کو انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا نہ ہی انہوں نے اپنے دشمنوں کے خلاف کبھی انتقامی کارروائی کی۔سرجان گلب لکھتا ہےمحمدؐکے خواب اور دیگر جو کچھ آپ پر ظاہر ہوا اس کے بارے لکھتا ہے’’اس کتاب کو آخر تک پڑھنے کے بعد قاری چاہے کچھ بھی رائے قائم کریں لیکن اس بات سے انکار انتہائی مشکل ہوگا کہ آپؐ(محمدؐ) نے جو دعوت دی وہ اس سے ملتی جلتی تھی جو عیسائیوں کی نئی اور پرانی کتابوں میں بھی ملتی ہے بلکہ شاید ہندوئوں اور دیگر مذاہب میں بھی۔ ا س طرح کے حالات اور صفات کی حامل کسی بھی شخصیت کو دیکھا جائے تو یہ ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ یہ شخصیات ہزاروں سال پہلے اور ہزاروں میل کے فاصلوں پر مختلف اوقات میں ظہور پذیر ہوئیں اور یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ خود انہیں ایک دوسرے کے بارے میں کوئی علم ہو، اس کے باوجود انہوں نے جو کچھ دیکھا اور بیان کیا اس میں ایک غیر معمولی مماثلت ہے۔ یہ بات غیر مناسب نہیں ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ ان شخصیات نے جو کچھ محسوس کیا وہ ان کے اپنے اپنے تجربے، وجدان کے مطابق تھا جبکہ وہ ایک دوسرے کے وجود سے بھی لاعلم تھے‘‘۔جان گلب ہجرت کی طرف اشارہ کرتے وقت لکھتا ہے’’اس وقت ان چار عربوں کا جو خاموشی سے حجاز کے پہاڑوں سے گزررہے تھے اور یہ لمحات اور ان کا یہ ابتدائی سفر آگے چل کر کس طرح ان دوعظیم شہنشاہتوں(قیصر و کسریٰ)کا خاتمہ کرنے والا تھا‘‘۔ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب کے صفحہ 334۔335میں ایک باب’’محمدؐمدینہ میں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آپ کو جو خداداد صلاحیتیں حاصل تھیں ان کا تین واضح صلاحیتوں میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ پہلی صلاحیت ان کی معاملہ فہمی، دوسری صلاحیت بحیثیت حکمران ،دانش مندانہ فکر و عمل تھا۔ قرآن پاک میں دئیے جانے والے نظریاتی عمل کے ڈھانچے کی ضرورت اس لئے تھی کہ ایک مضبوط نظریاتی ادارہ وجود میں آجائے جس کی بنیاد مضبوط اور دیرپا پالیسیوں پر ہو۔ یہ ان کی ناقابل یقین ذہانت کا ہی نتیجہ تھا جس کی وجہ سے انتہائی تیزی کے ساتھ ایک چھوٹی سی مملکت دنیا کی بہت بڑی سلطنت میں بدل گئی اور یہ تبدیلی تیرہویں صدی عیسوی تک بہت سی قومیتوں نے اپنائی۔ یہ تمام کامیابیاں ناممکن ہوتیں اگر آپ میں اللہ کی طرف سے بطور تحفہ یہ تین صلاحیتیں نہ ہوتیں ،یعنی معاملہ فہمی، دور اندیشی، بہترین حکمرانی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کے علاوہ ان کاا للہ کی ذات پر پختہ یقین اور یہ کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ آپ کی زندگی کے بارے میں میرا یہ مطالعہ اک نئی تحقیق کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کو آدم کے عظیم ترین فرزند کو خراج تحسین کا ذریعہ سمجھا جائے گا‘‘ول ڈیورنٹ(Will Durant)سے کون واقف نہیں۔ دنیا کی تاریخ پر حضور اکرمؐ کے ا ثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’565عیسوی میں عظیم شنہشاہ جسٹینین کا انتقال ہوا۔5سال کے بعد حضوراکرمؐ کی پیدائش ایک غریب گھرانے میں ہوئی اور ایک ایسے ملک میں ہوئی جس کا تین چوتھائی علاقہ ریگستانی تھا۔ بہت تھوڑے سے لوگ قبائل کی صورت میں خانہ بدوشوں کی زندگی گزاررہے تھے۔ ان کا تمام تر اثاثہ بھی صرف ایک سینٹ صوفیا کی آرائش کے قابل بھی نہیں تھا کہ ایک صدی کے اندر اندر صحرا کے یہ قبائل آدھے بازنطینی ایشیاء ،ایران، مصر، شمالی افریقہ کے زیادہ ترعلاقوں کو فتح کرتے ہوئےا سپین تک جاپہنچے۔ جزیرہ نما عرب کی سلطنت آدھی دنیا تک پھیل گئی۔ یہ قرون وسطیٰ کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ اور قدرت کا شاہکار ہے‘‘۔(جاری)

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں