مجرم وزیر اعظم کو بچانے کے لیے ریاستی مشینری استعمال ہورہی ہے . عمران

اسلام آباد (پی ایف پی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارٹی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’مجرم وزیر اعظم کو بچانے کے لیے ریاستی مشینری کو استعمال کیا جارہا ہے‘۔

بنی گالہ کے باہر عمران خان نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے جرم کو چھپانے کے لیے ملک کا پیسہ خرچ کیا جارہا ہے، ہر جگہ پولیس، ہیلی کاپٹرز اور ناکے لگادیے گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف جو مرضی کرلیں ، چوری کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے، قوم حساب لے کر رہے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں حساب لینے آیا ہوں، کسی صورت نواز شریف کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کروں گا‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’ہر روز لوگوں کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے، ہم نے 2 تاریخ دی ہے لیکن اگر انہوں نے ہمیں یہاں روک دیا تو آگے تین چار تاریخ بھی ہوسکتی ہے لیکن جب تک میں زندہ ہوں میں انہیں نہیں چھوڑوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی قیادت میں تمام کارکن 31 اکتوبر کو بنی گالہ پہنچیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ’دارالحکومت کی صورتحال پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینا چاہیے، حکومت کی شیلنگ سے 3 دن کی بچی جاں بحق ہوئی اور کنٹینرز لگے ہونے کی وجہ سے پاک فوج کا افسر شہید ہوا، ان دونوں واقعات کا مقدمہ شہباز شریف کے خلاف درج ہونا چاہیے‘۔

چیئرمین تحریک انصاف نے علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور شراب کی برآمدگی کے حوالے سے کہا کہ وہ وزیر ہیں اور حکومت ان کاموں کی ’ماسٹر‘ ہے، حکومت انتہائی خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، اس سے صوبوں میں انتشار بڑھے گا‘۔

طاہر القادری کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کا کیا پروگرام ہے۔

کارکن تمام رکاوٹیں ہٹا کر بنی گالہ پہنچیں
قبل ازیں عمران خان نے بنی گالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت ملک میں عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا نہیں بلکہ عدالتوں کا ٹرائل ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت کنٹینر لگاکر راستے بند کررہی ہے اور لوگوں کو پکڑ رہے ہیں جو توہین عدالت ہے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’عدلیہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، لوگ کیا سمجھیں گے کہ عدالت ایک حکم جاری کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوتا اور سب ٹی وی پر تماشہ دیکھ رہے ہیں‘۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا وزیر اعظم کے لیے کچھ اور قانون اور ہمارے لیے کچھ اور قانون ہے؟ یہاں جمہوریت ہے یا نہیں‘؟

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکمرانوں کی چوری پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں آگئی، سی پیک خطرے میں آگئی، ترقی خطرے میں آگئی ہے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’حکومت نے لوگوں کا کھانا بند کردیا ہے اور ظاہر ہے جب وہ کھانا بند کریں گے تو رد عمل تو آئے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے آزاد عدلیہ کے لیے 8 دن جیل میں گزارے تھے، جدوجہد کی تھی ، کیا یہ ہے آزاد عدلیہ کہ آپ کے سامنے ملک میں قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں‘؟

عمران خان نے استفسار کیا کہ ’اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر پرویز مشرف کی آمریت میں کیا فرق ہے‘؟

انہوں نے کہا کہ ہم ’پیر 31 اکتوبر کو پھر عدالتوں میں جائیں گے اور اپنے حقوق کے لیے عدلیہ کو پھر سے ٹیسٹ کریں گے کہ کب عدالت کمزور کے ساتھ کھڑی ہوگی کیوں کہ عموماً عدالت ہمیشہ حکومتوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے‘۔

انہوں نے تمام کارکنوں کو پیغام دیا کہ وہ جہاں بھی ہیں وہ بنی گالہ پہنچیں چاہے پہاڑیوں سے چڑھ کر آنے پڑے یا کسی اور طریقے سے آنا پڑے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں کوئی قانون نظر نہیں آرہا اور اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ہی قانون ہے تو پھر ہم بھی تحریک انصاف کے تمام کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے کی دعوت دیتے ہیں جہاں سے ہم 2 نومبر کو آگے نکلیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ آج صوابی میں تحریک انصاف کا جلسہ ہورہا ہے اور میں وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پختونخوا سے جو تحریک انصاف کے کارکنوں کو 2 نومبر کو آنا تھا اب وہ پیر 31 اکتوبر کو آئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبر پختوانخوا اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکن تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے بنی گالہ پہنچیں۔

انہوں نے پولیس کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’جو آپ کررہے ہیں وہ غیر قانونی ہے، آپ قانون توڑ رہے ہیں، کھانا بند کرنا غیر قانونی ہے، نواز شریف کے دن ختم ہوگئے‘۔

حساس خبر لیک ہونے کے معاملے پر وزیر اطلاعات پرویز رشید کے استعفے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ایک درباری تو پکڑا گیا اور اب دیگر لوگوں کی باری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا، لیکن بادشاہ سلامت سے حکم ملے بغیر ان کی تو آواز ہی نہیں نکلتی، ان کی اتنی مجال نہیں تھی کہ وہ یہ کام کرتے‘۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ’سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا شخص دبئی بھاگ گیا، باقی لوگ بھی پر تول رہے ہیں‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’قوم پرویز رشید کی قربانی نہیں چاہتی، نواز شریف یہ نہ سمجھیں کہ لوگ مطمئن ہوجائیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کام کس نے کیا،یہ قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے کیوں کہ فوج کے خلاف وہی زبان استعمال کی گئی جو نریندر مودی کرتا ہے‘۔

صوابی جلسے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
عمران خان نے کہا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ صوابی میں تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کریں گے لیکن اب فیصلہ تبدیل کرلیا اور وہ بنی گالہ میں ہی رہیں گے جبکہ تمام کارکن یہیں آئیں گے جہاں سے اسلام آباد پہنچیں گے۔

دھرنے میں لوگوں کی تعداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’لوگوں کی تعداد کو چھوڑیں، نکلنے کو تو میں اکیلا بھی نکل سکتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا تو ہم مطمئن ہوگئے لیکن حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کردی جو توہیں عدالت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت طاقت ہی دیکھنا چاہتی ہے تو (کل) 31 اکتوبر کو انہیں تحریک انصاف کی طاقت کا پتہ چلے گا۔

بچی اور فوجی افسر کی موت
عمران خان نے کہا کہ 3 دن کی بچی اور فوجی افسر کی موت کی ذمہ دار حکومت ہے کیوں کہ حکومت نے غیر قانونی طور پر راستے بند کیے اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، ہمیں ان واقعات پر افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف جلسہ کرسکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں، حکومت نے کس قانون کے تحت ساری سڑکیں بند کی ہیں جس کہ وجہ سے یہ شہادت ہوئی۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’عدلیہ ٹرائل پر ہے، آپ کے احکامات کی طاقت ور کوئی پرواہ نہیں کرہا، قانون طاقت ور کو قانون کے نیچے لانے کے لیے لیکن سب دیکھ لیں کہ طاقت ور کیا کررہے ہیں‘۔

یکم نومبر کو عدالت میں پیشی
عمران خان نے کہا کہ 31 اکتوبر کو عدالت میں بذات خود پیش نہیں ہوں گا کیوں کہ وکلاء نے اس معاملے پر بتایا ہے کہ مجھے پیش ہونے کی ضرور نہیں تاہم یکم نومبر کو سپریم کورٹ جارہا ہوں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 31 اکتوبر کو عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا جبکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کی ان تقاریر کا ریکارڈ پیش کریں، جن میں انھوں نے 2 نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کی بات کی تھی اور پی ٹی آئی چیئرمین کی موجودگی میں ان کی تقاریر کی ریکارڈنگز چلائی جائیں جبکہ عمران خان وضاحت کریں کہ انہوں نے کیسے بیان دیا کہ راستے بلاک کرکے حکومت کو کام نہیں کرنے دیں گے۔

اس کے علاوہ یکم نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت ہوگی جس کے لیے سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا جاچکا ہے۔

لارجر بینچ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں