لاہور: ڈیفنس میں بم دھماکا، 8 افراد جاں بحق

لاہور(پی ایف پی)صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں بم دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔

بعدازاں لاہور کے علاقے گلبرگ میں بھی ایک اور دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی، تاہم فی الوقت اس کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز وائے میں ایک زیر تعمیر عمارت میں ہوا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا جنریٹر پھٹنے کے نتیجے میں ہوا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔

بعدازاں پنجاب پولیس کے ترجمان نایاب حیدر نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘یہ بم دھماکا تھا’۔

جس مقام پر دھماکا ہوا، وہ لاہور کا ایک مصروف اور کمرشل علاقہ ہے جہاں کئی دفاتر اور کھانے پینے کے مراکز قائم ہیں۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور اردگرد کی دکانیں بند کروا کر علاقے کو سیل کردیا گیا۔

جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی طلب کرلیا گیا۔

دوسری جانب لاشوں اور زخمیوں کو جنرل ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔

دھماکا بہت شدید تھا، جنریٹر کا نہیں لگتا، رانا ثناء
صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ‘ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا جنریٹر کا تھا، لیکن چونکہ یہ بہت شدید تھا، اس لیے جنریٹر کا نہیں لگتا’۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا ‘ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زیر تعمیر عمارت میں کوئی کیمیکل موجود ہو، جس نے آگ پکڑ لی اور اس کے نتیجے میں دھماکا ہوا ہو’۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں، جس کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔

رانا ثناء اللہ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

لاہور میں حالیہ دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب رواں ماہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

ان واقعات کے بعد ملک میں سیکیورٹی انتہائی الرٹ ہے جبکہ گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آپریشن ‘رد الفساد’ کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

اس نئے آپریشن کا مقصد ملک بھر کو اسلحہ سے پاک کرنا اور بارودی مواد کو قبضے میں لینا ہے، جبکہ اس کا ایک مقصد ملک بھر میں دہشت گردی کا بلاامتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا بھی ہے۔

دہشت گردی کی نئی لہر
رواں ماہ 13 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

13 فروری کو ہی کوئٹہ میں سریاب روڈ میں واقع ایک پل پر نصب دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کمانڈر سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

15 فروری کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مہمند ایجنسی میں خودکش حملے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری بھی’جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔

15 فروری کو ہی پشاور میں ایک خود کش حملہ آور نے ججز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

16 فروری کو صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 80 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

خود کش دھماکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جمعرات 16 فروری کو ہی بلوچستان کے علاقے آواران میں سڑک کنارے نصف دیسی ساختہ بم پھٹنے سے پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں