قومی اسمبلی میں فواد چوہدری کی وزیراعظم کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد پر افسوس ہوا ،خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں فواد چوہدری کی وزیراعظم کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد پر افسوس ہوا ،خورشید شاہ
ملک حالت جنگ میں ہے اور ہمیں نوبل انعام کی پڑ گئی
مجھے سمجھ نہیں آتا حکومتی وزراء یہ سب کیوں کر رہے ہیں، ابھی تو وقت ہے کہ ساری قوم مل کر دعا کرے کہ ہم حالت جنگ سے نکل ائیں
اپوزیشن نے ملکی حالات کے پیش نظر حکومت کے ساتھ اختلافات ایک طرف رکھے اور ملکی سلامتی کے لیئے حکومت سے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا تعاون پیش کیا، میڈیاسے گفتگو

اسلام آباد(پی ایف پی ) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں فواد چوہدری کی وزیراعظم کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد پر افسوس ہوا ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے اور ہمیں نوبل انعام کی پڑ گئی، مجھے سمجھ نہیں آتا حکومتی وزراء یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ابھی تو وقت ہے کہ ساری قوم مل کر دعا کرے کہ ہم حالت جنگ سے نکل ائیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ملکی حالات کے پیش نظر حکومت کے ساتھ اختلافات ایک طرف رکھے اور ملکی سلامتی کے لیئے حکومت سے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا تعاون پیش کیا۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں ساری جماعتوں کو آرمی چیف نے خود بریفنگ دی مگر وزیر اعظم ملکی دفاع اور قومی یکجہتی کے اس اہم اجلاس میں نہیںآئے اور وزیراعظم نے گوارہ ہی نہیں کیا کہ وہ پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ بیٹھیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے نہ آنے کو بھی درگزر کیا کیوں کہ جب ملک کو بڑے مسائل درپیش ہوں تو پھر چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ نہیں بنایاچاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دشمن کو قومی یکجہتی کا پیغام دینے میں اپوزیشن پیش پیش رہی اور جس وزیراعظم کو نوبل انعام دلوانا چاہتے ہیں اس نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن رہنماوں سے سلام دعا تک نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیئے 20 کروڑ عوام اہمیت رکھتے ہیں اور ہمارے لئے وزیراعظم کے ساتھ ہاتھ ملانا اہم نہیں بلکہ موجودہ صورت حال اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں قوم الرٹ رہے، دشمن سے خیر کی توقع نہیں اور اس مشکل گھڑی میں پوری قوم افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اور سفارتی سطح پر ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہم امن پسند ہیں اور امن چاہتے ہیں اور اگر ہم امن سے ہٹ گئے تو خطے میں امن نہیں رہے گا اور اگر خطے میں امن نہ رہا تو اس سے دنیا بھی متاثر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سپر پاورز کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت روکنے کے لیئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں