فوجی عدالتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد متوقع

اسلام آباد(پی ایف پی) سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں ملزمان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے۔

سپریم کورٹ میں جائزہ لیا گیا کہ آیا 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد یہاں دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے 12 ملزمان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔

پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 130 سے زائد معصوم طالب علموں کی ہلاکت کے بعد عمل میں آیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اہم مقدمات کی سماعت کے لیے تین بنچ تشکیل دیدیئے

ارکان پارلیمنٹ نے گزشتہ برس جنوری میں فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی اور اہم عدالتی کنٹرول فوج کے حوالے کردیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فوجی عدالتوں نے اب تک 81 افراد کو سزا سنائی جن میں سے 77 کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ کسی بھی ملزم کو بری نہیں کیا گیا۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی تحقیق اور مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کم سے کم 27 ملزمان نے اپنی سزاؤں کو سول عدالتوں میں چیلنج کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان سے زبردستی بیانات لیے جاتے ہیں اور انہیں ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد اور وکیل تک بھی رسائی نہیں دی جاتی۔

ان میں سے 12 مقدمات سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش ہوئے جن میں سے 9 مقدمات پر قانونی جرح مکمل ہوچکی ہے، سپریم کورٹ دیگر اپیلوں کی بھی سماعت کررہی ہے اور امکان ہے کہ چند ہفتوں میں ایک ساتھ تمام 12 اپیلوں پر فیصلہ جاری کردیا جائے گا۔
فوجی عدالتوں میں چلائے گئےمقدمات کی دوبارہ سماعت کامطالبہ
رائٹرز نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 10 ملزمان کے وکلاء اور اہل خانہ سے رابطہ کیا اور ان سب نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دوران حراست استحصالی سلوک اور ضابطوں کی سنجیدہ خلاف ورزیوں کا ذکر کیا۔

ان 10 میں سے تین ملزمان کی اپیلیں سپریم کورٹ، ایک کی اسلام آباد ہائی کورٹ اور 6 کی لاہور ہائی کورٹ میں ہیں، تاہم رائٹرز ان ملزمان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔

رائٹرز نے فوجی عدالتوں پر لگنے والے الزامات پر مبنی تحریری دستاویز فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی بھیجی، تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لاپتہ افراد

ایک سزا یافتہ مجرم صابر شاہ کے وکیل اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صابر پر قتل کے الزام میں سول عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا کہ اسی دوران وہ لاہور کی سینٹرل جیل سے اپریل 2015 میں لاپتہ ہوگیا۔

5 ماہ بعد اہل خانہ کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے معلوم ہوا کہ صابر کو فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنادی گئی ہے۔

صابر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ اُس کے خلاف کون سے شواہد استعمال کیے گئے، صابر پر فرقہ وارانہ گروپ کے ہِٹ اسکواڈ کے رکن کی حیثیت سے قتل کامقدمہ چلایا جارہا تھا جو مکمل بھی نہیں ہوا تھا۔

جب صابر کے اہل خانہ نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تو شاہ کے وکلاء نے بتایا کہ انہیں فوجی عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد تک رسائی نہیں دی جارہی۔

جبکہ فوج کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ صابر شاہ نے لاہور کے وکیل سید ارشد علی کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے استفسار کیا کہ آیا سزا یافتگان کو بنیادی قانونی حقوق دیئے جانے چاہئیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دہشت گرد آئین اور ملکی قوانین کو چیلنج کررہے ہیں اور ان کے وکلاء ان کے دفاع میں بنیاد حقوق کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگی جرائم کے حوالے سے عالمی سطح پر ایسی مثالیں موجود ہیں جو فوری سماعت اور سزاؤں کی اجازت دیتی ہیں۔

قبول جرم کے لیے زبردستی، دھمکیاں

رائٹرز نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ جن 10 ملزمان کے کیس کا جائزہ لیا، ان تمام کے وکلاء نے بتایا کہ انہیں کورٹ ریکارڈز تک رسائی نہیں دی گئی اور جب تک فوجی عدالتوں میں کارروائی جاری رہی انہیں اپنے موکلوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے موکلوں کو زبردستی جرم قبول کرایا جاتا ہے جبکہ فوج کے پریس ونگ کے مطابق 81 میں سے 78 ملزمان کو ان کے اقبال جرم کی بنیاد پر سزائیں دی گئیں۔

انسانی حقوق کی معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر بھی ایسے ہی 2 افراد کی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرچکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کے موکلوں سے زبردستی ایک خالی پرچے پر انگوٹھے کے نشان لیے گئے جس پر بعد میں اعترافی بیانات لکھ دیئے گئے۔

دوسری جانب فوج نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کردیا، جبکہ 2 خاندانوں اور ایک وکیل نے بتایا کہ جب انہوں نے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی تو انہیں ہراساں کیا گیا اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ایک سزا یافتہ شخص کے والد نے بتایا کہ ہمارے گھر والوں کو فوجی یونیفارم پہنے افراد اٹھاکر لے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم نے ان کی اور بحیثیت ادارہ فوج کی بے عزتی کی ہے اور بہتر ہوگا کہ ہم اپیل واپس لے لیں۔

انصاف کا حقدار کون؟

انصاف کی فراہمی کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کوشاں غیر سرکاری تنظیم ‘انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس’ نے بھی فوجی عدالتوں پر تنقید کی۔

رواں برس کے آغاز میں تنظیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائیاں قومی اور بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتیں جو آزاد اور غیر جانبدار عدالتوں میں شفاف ٹرائل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

تاہم ایک ٹی وی انٹرویو میں فوجی ترجمان نے ملٹری کورٹس کا دفاع کیا، لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ تمام مقدمات قانونی تقاضوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے چلائے جاتے ہیں، جس کے بعد عدالت فیصلہ لیتی ہے اور پھر سزائے موت یا کوئی دوسری سزا سنادی جاتی ہے۔

ساؤتھ ایشیا ٹیرارزم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق 2007 سے اب تک دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں تقریباً 25 ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد تشکیل دیئے جانے والے انسداد دہشت گردی پلان کے بعد سے ملک میں دہشت گروں کے حملوں کی شرح میں کمی آئی ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں