چیف جسٹس

غیر قانونی شادی ہالز کیس،چیف جسٹس نے سی ڈی اے چیئرمین کی تعیناتی سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا

پبلک آفس میں اہل لوگوں کو ہونا چاہیے ،چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس
اسلام آباد(پی ایف پی)اسلام آباد میں غیرقانونی شادی ہالز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سی ڈی اے چئیرمین کی تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے تعیناتی سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ عدالت نے کابینہ میٹنگ کا ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بتایا جائے کیا کابینہ نے چیئرمین سی ڈی کی منظوری دی، پبلک آفس میں اہل لوگوں کو ہونا چاہیے، اقرباء پروری اور پسند ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں غیر قانونی شادی ہالوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، چیئرمین سی ڈی عثمان باجوہ عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے انکی تعیناتی کا نوٹس لیتے تمام ریکارڈ طلب کر لیا اور کہا کہ کابینہ میٹنگ کاریکارڈ بھی لایاجائے بتایاجائے کیاکابینہ نے چئیرمین سی ڈی اے کی تعیناتی کی منظوری دی ہے دوران سماعت عدالت نے سی ڈی اے بورڈ اجلاس منگل کو بلانے کا بھی حکم دیدیا اور وفاقی دارالحکومت میں قائم غیرقانونی شادی ہالز پر بدھ تک رپورٹ طلب کرلی دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا دیکھیں یہ شادی ہال ریگولرہوسکتے ہیں کیاسی ڈی اے نے شادی ہالز کونوٹس دئیے ہیں اس سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے نے بورڈ میٹنگ کرنی

چیف جسٹس نے کہا 50 سال سے سی ڈی اے قوانین نہیں بنے اور اعتراض کیاجاتاہے عدالت فعال ہوگئی، چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے آپ کی چئیرمین شپ کو بھی چیلنج کیاگیا ہے، آپ کاتقررکس نے کیا ہے اس پر چئیرمین سی ڈی اے عثمان باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ میری تقرری وفاقی حکومت نے کی ہے چیف جسٹس نے کہا پبلک آفس میں اہل لوگ ہونے چاہیے، اقرباء4 پروری اور پسند ناپسند نہیں ہونی چاہیے، عدالت نے چیئرمین سی ڈی کی تعیناتی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں