عمران پہلے خود سے تو انصاف کریں۔۔ خالد منہاس

عمران پہلے خود سے تو انصاف کریں
آدھا سچ۔۔ خالد منہاس
یہ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی معزولی کی تحریک تھی۔ وکلاء برادری باہر نکلی تو قوم بھی ساتھ چل پڑی۔ اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالا دستی تھا۔قوم سے یہ کہا گیا کہ ملک میں قانون اور انصاف کی بالا دستی ہو گی تو سب کے مسائل حل ہو جائیں گے اور قوم آگے بڑھے گی۔ اعتزاز احسن ان دنوں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے تھے۔ ان دنوں ان کا ایک مصرعہ بہت مقبول ہوا۔ ریاست ہو گی ماں کے جیسی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کو ماں کے جیسی ہونا چاہیے مگر ریاست پر جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ ماں کے جیسے نہیں ہیں بلکہ وہ تو ملک کو مفتوحہ علاقہ سمجھ کر ان کے باسیوں سے وہ سلوک کر تے ہیں کہ چنگیز خان کی روح بھی کانپ اٹھے۔ قوم کو پورا یقین تھا کہ یہ جج اپنی کرسی پر بحال ہو گیا تو ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ سب کو انصاف ملے گا ۔ انتظامیہ اپنے دائرہ کارمیں رہ کر کام کرے گی۔ ریاست کے دوسرے ادارے بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کریں گے۔ افتخار محمد چوہدری تو تمام تر اختیارات کے ساتھ کرسی پر براجمان ہو گئے مگر ملک میں کچھ نہیں بدلا عوام اسی طرح مفلوک االحال رہے اور انتظامیہ کی چیرہ دستیوں کا شکا ررہے۔ نچلی عدالتوں میں انصاف کی بولی جس طرح پہلے لگتی تھی بعد میں بھی اس میں چنداں فرق نہیں پڑا ہاں یہ ضرور ہم نے دیکھا کہ وکلاء گردی میں اضافہ ہو گیا۔ پہلے علی احمد کرد الگ ہوئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے بھی کنارہ کش ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے کسی فرد کے لیے تو یہ جدوجہد نہیں کی تھی۔ پھر سوا ل یہ ہے کہ یہسارا سٹیج کس کے لیے سجایا گیا تھا۔ فائدہ کس کو ہوا۔ استعمال کون ہوا؟ عوامی راج کے نعرے ہوا ہوئے۔ راج کرے گی اب خلق خدا، محض جلسوں میں گانا ہی اچھا لگا۔پہلی بار لوگوں کو احساس ہوا کہ مارشل لا صرف فوج نہیں لگاتی بلکہ مارشل لا تو ایک سوچ کا نام ہے۔ جو بھی ادارہ خود کو تمام تر کلی اختیارات کا حامل سمجھنا شروع ہو جائے تو جان لیجیے کہ مارشل لاء لگ چکا ہے۔ اب فوجی مارشل لا کے ساتھ ساتھ عدالتی مارشل لاء کی اصطلاحیں بھی عام استعمال میں ہیں۔
عمران خان بھی وکلاء تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا ۔ وہ تو ہر وقت انصاف انصاف کی دہائی دیتا ہے۔عمران کے ساتھ ہاتھ یہ ہوا کہ وکلاء تحریک کو نوازشریف نے ہائی جیک کر لیا۔ وکلاء تحریک کا سارا سیاسی فائدہ نوازشریف کو ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے قوم و فعل میں تضاد ہو گا تو قوم آپ کے نعروں پر کس طرح یقین کرے گی۔ تحریک انصاف ابھی تک خود سے ہی انصاف نہیں کر پائی تو عوام کے ساتھ کس طرح انصاف کرے گی؟ عمران خان نے اپنے عمل سے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ وہ جس طرح کی پارٹی بنانا چاہتے تھے نہیں بنا سکے۔ اس کے تنظیمی ڈھانچے میں اس قسم کی جان ہی نہیں ہے کہ کسی بڑے دباؤ کو قبول کر سکے۔ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ یہ دائیں بازو کی جماعت ہے یا بائیں بازو کی کیونکہ اس میں دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں۔ یہ دونوں کا ملغوبہ ہے اور دونوں دھڑے اپنے اپنے مفادات کے لیے پارٹی کے اندر اور باہر ایک دوسرے سے دست و گریبان بھی نظر آتے ہیں۔وہ دھڑا جو عمران خان کے نظریے کی وجہ سے وابستہ ہوا تھا اسے تو پارٹی نے کھڈے لائین لگا دیا گیا۔ اب جو بھی دوسری جماعت سے آتا ہے اسے عمران خان ویلکم کہہ رہے ہیں۔ اس موقع پر وہ ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ اگر نیچے سارے کرپٹ لوگ ہوں لیکن اوپر بیٹھا شخص کرپٹ نہ ہو تو نظام بہت اچھے طریقے سے چلے گا۔ اب یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ اگرچہ یہ کرپٹ نہیں ہیں وہ محض مثال دے رہے ہیں۔ اگلی ہی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہم ہیں جس نے خیبر پختونخواہ میں اپنے کرپٹ وزیر کے خلاف ایکشن لیا۔ سوال یہ ہے کہ اوپر بیٹھا شخص جو کرپٹ نہیں ہو گا وہ کون ہے؟ ظاہر ہے وہ اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ میں کرپٹ نہیں ہوں اور میرے نیچے اگر سارے کرپٹ بھی آ جائیں تو ملک بہت ترقی کرے گا۔ عمران خان کی یہ منطق بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ یہ سرٹیفیکٹ عمران خان نے کہا ں سے حاصل کر لیا کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں۔ ٹیریان کے حوالے سے ہونے والا فیصلہ اپنی جگہ ابھی تک موجود ہے۔ خود عمران خان نے شوکت خانم کے پیسوں کو تھائی لینڈ میں کمپنیوں میں سرمایہ کاری میں لگایا اور اس پیسے کو ڈبو دیا۔ اس سے پہلے کرکٹ کے دور میں ان کے حوالے کئی کہانیوں نے جنم لیا۔ ایسے میں خود میاں مٹھو بن جانا اور یہ کہنا کہ چونکہ میں کرپٹ نہیں ہوں اس لیے میں نظام کو بہت اچھے طریقے سے چلاؤں گا کم از کم میں اس پر یقین کرنے کے لیے تیارنہیں ہوں۔ عمران خان نے تو خود اپنی ہار کو اس انداز میں تسلیم کر لیا کہ پارٹی میں اپنے کارکنوں کو ایک طرف کر کے ایلیکٹ ایبلز کو لایا جارہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ ان سے ٹکٹ کا وعدہ نہیں ہوا۔سب جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی سے جو لوگ جارہے ہیں تحریک انصاف ان کو ٹکٹ دے گی۔ بے وقوف کس کو بنایا جارہا ہے اپنے آپ کو یا عوام کو۔عوام کو تو تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کی ساری حقیقت معلوم ہے۔
گذشتہ روز میری تحریک انصاف کے ایک اعلی عہدیدار سے بات ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی پارٹی پیپلزپارٹی کی کرپشن کی داستانیں بیان کرتی رہی اور اب پیپلزپارٹی سے روٹھ کر آنے والوں کو خوش آمدید کہا جارہا ہے تو کہنے لگے کہ خان کسی کی کب سنتا ہے؟ گندے انڈے پہلے کیا کم تھے کہ مزید پارٹی میں لائے جارہے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ مجھے عمران خان کی کچھ تقاریر کا مکمل متن چاہیے کہ جس سے ان کا سیاسی نظریہ سمجھ سکوں ۔ وہ ہنسے اور کہا کہ میاں کیا بات کرتے ہو۔ کسی جگہ کوئی چیز موجود نہیں سب کچھ ہوا میں ہے۔جن لوگوں نے غبارے میں ہوا بھری ہے جس دن انہوں نے اس سے ہوا نکالی تو بچاؤکے لیے کچھ بھی نہیں ہے ۔ ایلیکٹ ایبل کی بات کی جارہی ہے عمران خان سے خود پوچھیں جب انہوں نے پانچ سیٹوں سے الیکشن لڑا تھا تو اس کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ آج وہ بھی ایلیکٹ ایبل کی فہرست میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے خود سے اور پارٹی سے انصاف کریں گے تو معاملات حل ہوں گے ورنہ 2018ء کا الیکشن نوازشریف کاہی نظر آ رہا ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں