عمران دشمنی میں اداروں پر تنقید نہ کی جائے…زرتاج گل وزیر

23ستمبر 1947کو ابھی وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ہوئے صرف 40روز ہوئے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے پاک سرزمین پر ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین بے سروسامانی کے عالم تھے نہ ان کے پاس رہنے کیلئے چھت تھی نہ پہننے کو کپڑا ، نہ کھانے کو خوراک اور نہ ہی رہنے کیلئے مکان ۔ہر طرف بس ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کئے گئے وطن عزیز کی وہی پاک ہستی حفاظت کرے گی جس کے نام پر یہ ارض پاک حاصل کی گئی ۔۔۔۔۔ اور اس پاک ذات نے اس ملک کی اب تک حفاظت کی بھی جس کی وجہ سے یہ ملک اب تک قائم دوائم ہے اور رہے گا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک الگ باعث ہے کہ اس وطن عزیز کے معرض وجود میں آتے ہی سازشوں کا آغاز ہوگیا تھا جو اب تک جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ قوم کو کسمپرسی کے عالم سے نکالنے کیلئے مولانا عبدالحق نے پشتونوں کی سرزمین جو اب خیبر پختون خوا کے نام سے ارض مقدس کی چوتھی اکائی ہے ۔ اس کے ضلع نوشہرہ کے شہر اکوڑہ خٹک جو اس وقت ایک معمولی سا قصبہ تھا وہاں پر تعلیم کے زیور کو عام کرنے کیلئے دارالعلوم حقانیہ کی بنیاد رکھی جو اب ایک عظیم درسگاہ اور یونیورسٹی بن چکی ہے۔۔۔۔۔ ملک کی باقی مدارس کی یونیورسیٹیوں کی طرح اس یونیورسٹی نے بھی بہت سے نامور لوگ پیدا کئے گو کہ تجربات اور حقائق کچھ تلخ ہیں کیونکہ تاریخ بہت ہی بے رحم ہے لیکن ان تمام تلخ حقائق کی ذمے دار ہماری ریاست اور اس پر حکمرانی کرنے والے نام نہاد جمہوری اور آمریت زدہ حکمران دونوں ہی ایک صف میں شامل ہیں ۔۔۔ دارالعلوم حقانیہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ان دنوں جے یو آئی کے سربراہ مولانا سمیع الحق اس عظیم دینی درسگاہ کے چانسلر ہیں ۔۔۔ دارالعلوم حقانیہ کی انتظامیہ نے ہمیشہ وہی کام سرانجام دیا جو ریاست پاکستان نے اس کے ذمے لگایا ۔۔۔ اور انتظامیہ نے ہمیشہ اس بات کو نبھانے کی بھی کوشش کہ وہ کوئی ایسا کام سرانجام نہ دے جو ارض پاک کے وقار کے خلاف ہو چاہے وہ افغان جہاد ہو یا طالبان سے مذاکرات کا کام ۔۔۔ ان دنوں خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے ۔۔ تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جو انصاف ، قانون کی حکمرانی ، تعلیم اور صحت کے شفاف نظام پر وجود میں آئی اور وہ اپنی ان ذمے داریوں کو اپنے صوبے میں بخوبی نبھا بھی رہی ہے ۔۔۔ تعلیمی اصلاحات پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہے چاہے وہ پبلک سیکڑ ہو ، خواہ پرائیویٹ یا پھر مدارس تحریک انصاف ان کو پورے کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔۔۔ ملک میں جاری دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے شروع کئے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کے بنیادی نکات بھی یہی تھے کہ دہشت گردوں کی نرسریوں کو ختم کیا جائیگا ، مدارس کی اصلاحات کی جائیں گی اور ملک میں امن و امان کو ہر قیمت ہر یقینی بنایا جائیگا ۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان ، اپنی تعلیمی اصلاحات کو عملی جامعہ اور دارالعلوم حقانیہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے 30کروڑ کے فنڈز کا اعلان کیا ۔ ابھی تحریک انصاف کی طرف سے یہ اعلان ہی ہوا کہ ملک کے نام نہاد دیسی لبرلز طبقے ، سکیولر مائنڈ سیٹ ، پیپلز پارٹی اور موجود حکومت کو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا ہو ۔ ان کو دارالعلوم حقانیہ کی صورت میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی بو آنے لگی ۔۔ قومی اسمبلی موجودموجود حزب اختلاف اور پچھلے 5سال تک ملک کے سیاہ و سفید کی مالک رہنے والی پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے بیان دھاگنا شروع کر دئیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی سازش میں مطلوب جامعہ حقانیہ کی امداد امحترمہ کی شہادت میں شریک ہونے کے برابر ہے ۔۔ میرا یہاں پیپلز پارٹی سے ایک سوال ہے کہ جب آصف علی زرداری صاحب اقتدار اور رحمن ملک صاحب وزیر داخلہ تھے تو اس وقت دارالعلوم حقانیہ کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ کی گئی ۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کیوں متعدد بار جامعہ حقانیہ کے چانسلر مولانا سمیع الحق کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے ، ملاقاتیں کرتے رہے ۔ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں پر براجمان ن لیگ جو تیسری بار ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ہے انہوں نے اگر جامعہ حقانیہ ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی ۔۔ حکومتی وزرا کی فوج ظفر در موج جو رکھی ہی ہر اچھے اور فلاحی کام کو تباہ کرنے کیلئے مسلسل بیانات داغ رہی ہے ۔۔ یہ وہ سب حب علی کرم اللہ وجہ نہیں کر رہے بلکہ ان کا مطمع نظر ہمیشہ سے ہی اداروں کی تباہی رہا ہے چاہے وہ شوکت خانم میموریل ہسپتال ہو ، نمل یونیورسٹی میانوالی ہو یا پھر دارالعلوم حقانیہ میں کی جانے والی اصلاحات کا بیڑا ۔۔۔۔۔۔۔ میں سوال کر رہی ہوں پیپلز پارٹی سے اور ن لیگ سے کہ تاریخ بڑی بے رحم اور تلخ ہے ذرا تاریخ کے آئینے میں جھانکتے ہیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا ۔۔۔ محترمہ بے نظیر کے قتل میں ملوث کسی ایک دہشت گرد نے اگر ایک رات یا چند گھنٹے اس مدرسے میں گزارے تو اس میں انتظامیہ کا کیا قصور ہے ۔ کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی انتظامیہ سے تفتیش نہیں کی ہوگی ۔۔ اگر مدرسہ کی انتظامیہ نے تحریک طالبا ن یا دہشت گردی کے کسی واقع کی حمایت کی تو اس کے خلاف کارروائی وفاق نے کرنی ہے ۔ دوسرا الزام کہ افغان طالبان کے اہم رہنما اس دینی درسگاہ میں زیر تعلیم رہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں دارالعلوم حقانیہ نے طالبان کے متعلق حکومتی پالیسی کی پیروی کی ۔۔۔ کیا بے نظیر بھٹو کی طالبان کے بارے میں پالیسی کو فوج ، ریاست ک
ی ایجنسیوں اور ن لیگ نے مکمل سپورٹ نہیں کیا ۔ طالبان کو دارالعلوم حقانیہ نے نہیں ریاست پاکستان نے پیدا کیا ۔ اگر یہ سب سچ ہے اورجو کچھ ہوا اس کی ذمے داری مولانا سمیع الحق پر نہیں ڈالی جاسکتی ۔۔۔ دہشت گردی کی متعدد وارداتیں پورے ملک کی طرح کراچی میں بھی ہوئیں ان میں ایک سانحہ صفورا بھی تھا جس میں ملوث ایک دہشت گردکا تعلق کراچی یونیورسٹی سے تھا تو کیا اس یونیورسٹی کو سانحہ کا ذمے دار ٹھہرانا جائز ہوگا ، کیا اس بند کر دینا یا اس کے فنڈز روک لینا جائز ہوگا ۔۔۔ سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملو ث ایک دہشت گرد لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر رہا تو کیا اس یونیورسٹی کو بند کر دینا ہوگا ۔۔۔ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں کیا گیا اگر نہیں کیا گیا تو پھر دارالعلوم حقانیہ میں اصلاحات کے نام پر دئیے جانے والے فنڈز پر اس قدر واوایلا کیوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے تو یہ بات ہی ثابت ہوتی ہے کہ واویلا کرنے والے قوم کو بے وقوف بنانا اور حقائق کو مسخ کر کے قوم کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں جس کیلئے وہ اقتدار میں آئے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے اربوں کھربوں ڈالر اکٹھے کر سکیں تاکہ اقتدار ختم ہونے کے بعد وہ ملک سے راہ فرار اختیار کرسکیں ۔۔تحریک انصاف اور عمران خان پر تنقید کرنے والوں سے میرا یہ سوال ہے کہ کے پی کے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے جہاں پر دہشت گردی کی وارداتیں آئے روز ہوتی رہیں ، ہزاروں نہتے شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔۔ جب نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ہوا اور اس کے 20نکات قوم کے سامنے پارلیمنٹ کے تھرو رکھے گئے ان پر اب تک کتنوں پر عمل ہوا ۔۔۔ تنقید کرنے والے بتا دیں ۔۔۔ کیا پنجاب میں دہشت گردوں کی نرسریوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔۔۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے چھوٹو گینگز کی طرح دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں ۔ پنجاب کے مدارس میں کس قدر اصلاحا ت کی گئیں ۔ وہ قوم کے سامنے کب رکھی جائیں گی ۔۔۔ خدارا سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی دشمنی میں قومی اداروں اور اثاثوں کو تباہ نہ کیا جائے ۔۔۔ ادارے مثبت اصلاحات سے ملکی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کرینگے ۔۔۔ ورنہ ادارے تباہ اور تنقید براے تنقید ہی رہ جائے گی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں