علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طالب علم کو خارج کردیاگیا

علی گڑھ(پی ایف پی)سرینگر اوڑی میں فوجی ہیڈ کواٹر پر فدائین حملہ کے بعد سماجی ویب سائٹ فیس بک پر حملہ سے متعلق تفصیلات پوسٹ کرنے پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک کشمیری طالب علم کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا ہے ۔اسی دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے واضح کر دیا ہے کہ ملک مخالف جذبات کے تحت کوئی بھی کارروائی انجام دینے والوں کو جاری صفحہ نمبر ۷ پر برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سوموار کو اس وقت ایک کشمیر ی طالب علم کو خارج کیا گیا جب انہوں نے اتوار کو سرحدی قصبہ اوڑی میں فوجی ہیڈکواٹر پر ہوئے فدائین حملہ کے بعد اپنے سماجی رابطہ عامہ کی سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ ڈالا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ مدثر یوسف نامی یہ طالب علم یونیورسٹی میں آرگانک کمیسٹری میں ڈگری حاصل کر رہا ہے اور انہوں نے اتوار کو ایک پوسٹ کیا تھا جس کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر لفٹینیٹ جنرل ظاہرالدین شاہ نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے مذکورہ طالب علم کو یونیورسٹی سے خارج کرنے کے احکامات صادر کئے ۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے مدثر یوسف کے اس پوسٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ یونیورسٹی حکام ایسے کسی بھی طالب علم کو برداشت نہیں کرئے گی جو ملک مخالف جذبات پیدا کرنے کے واقعات میں ملوث پائے جائے ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ طالب علم نے معاملہ کو لیکر یونیورسٹی چانسلر سے معافی بھی مانگی تھی اور کہ تھا کہ انہوں نے جذبات میں آکر ایسا پوسٹ کیا تاہم یونیورسٹی حکام نے معاملہ کی حساسیت کو دیکھ کر اسکو خارج کرنے کے احکامات صادر کئے ۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کے علی گڑھ لوک سبھا ممبر نے بھی وائس چانسلر کو ایک تحریری خط لکھا ہے جس میں انہوں نے مذکورہ طالب علم کو فیس بک پوسٹ کرنے پر اس کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں