عالمی طاقتیں پاک بھارت تناوکوختم کروانے کے ساتھ بنیادی مسئلے کے حل کے لیے کام کریں ، راجہ فاروق حیدر

عالمی طاقتیں پاک بھارت تناوکوختم کروانے کے ساتھ بنیادی مسئلے کے حل کے لیے کام کریں ، راجہ فاروق حیدر
پاکستان کی سلامتی بقا ، وقاراور عزت کشمیریوں کے لیے سب سے بڑھ کر ہے
وطن عزیز پاکستان کو مشکلات سے نکالنے اور اسے ترقی یافتہ بنانے میں کشمیر ی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے
افواج پاکستان کے پائلٹ حسن صدیقی کو سلام پیش کرتا ہوں،وزیر اعظم آزادکشمیر

اسلام آباد(پی ایف پی )وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں پاک بھارت تناوکوختم کروانے کے ساتھ اس بنیادی مسئلے کے حل کے لیے کام کریں ۔پاکستان کی سلامتی بقا ، وقاراور عزت کشمیریوں کے لیے سب سے بڑھ کر ہے۔وطن عزیز پاکستان کو مشکلات سے نکالنے اور اسے ترقی یافتہ بنانے میں کشمیر ی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ افواج پاکستان کے پائلٹ حسن صدیقی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے دفاع وطن کے لیے جو کارنامہ سرانجام دیا اس پر پوری قوام انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔

یورپین پارلیمنٹ کے اندر کشمیر پر ہونے والی بحث ایک تاریخی کامیابی تھی ۔مجھے وہاں ریاست کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے پذیرائی ملی ۔برسلز پارلیمنٹ میں بھرپورمحنت کی یورپین یونین میں کشمیریوں کو پذیرائی ملی ہندوستان نے بہت دباو ڈالا اس کے باوجود وہ منتقل یاکینسل نہ کرواسکا ۔ہندوستانی حکومت نے کوشش کی کہ یہ ہیرنگ ملتوی ہو انہوں نے درخواست بھی کی کہ ان کے انتخابات کے بعدہو مگر کامیابی نہ ہوئی ۔ برطانوی پارلیمنٹ نے مسئلہ کشمیر پر تفصیلی بحث پاکستان سے باہر سترسالوں میں پہلی مرتبہ کسی پارلیمنٹ نے کی اتنی تفصیلی ڈسکیشن پر اراکین برطانوی پارلیمنٹ کا شکر گزار ہوں ۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا بھی وہاں نام لیا گیا میں کسی کام کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتا مگر جب کشمیریوں نے اپنی بات خود کی تو پھر دنیا نے ان کی بات سنی ۔ حکومت پاکستان اس نازک موڑ پر بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے آزاد کشمیر حکومت اور حریت کانفرنس کو کردار دیا جانا چاہیے ۔یورپی یونین نے کشمیر ی کاز کے لیے بھرپور کام کرنے پر کشمیر کونسل ، یورپ کی ساری ٹیم بالخصوص سابق سفر یورپی یونین انتھونی کرنز، صحافی آندریز رومانیا اور ان کے ٹیم لیڈر سید علی رضا سمیت ان تمام تارکین وطن ، اراکین یورپین پارلیمنٹ کو جاتا ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کے اندر ہندوستان کے مظالم کو دنیا بھر میں اشکار کیا ۔ وطن عزیز پاکستان کی حفاظت کرنی اس لیے ضروری ہے کیونکہ دنیا میں صرف پاکستان ہی کشمیر کا حمایتی ہے۔آزادکشمیر حکومت اور حریت قیادت پر مشتمل فورم بنایا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وطن واپسی پر جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں آزاد کشمیر بھر سے آئے ہوئے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزراء کرام ،مسلم لیگ ن کے ضلعی وسٹی صدور سمیت یوتھ ونگ اور ایم ایس ایف سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے بڑی تعداد موجود تھی ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ یورپین یونین کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کی بات غیرمعمولی ہے یورپین یونین اور ان کے ممالک میں جہاں جہاں کشمیری پاکستانی موجود ہیں وہاں اپنے ممالک پر دباو ڈالیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے ان سے تجاویز لیں گیااور پھر وہ پاکستان کی قیادت کے سامنے رکھیں گے ۔

وزیر اعظم آزد کشمیر نے کہا کہ میں خود ایل او سی پر جاؤں گا وہاں کی صورتحال انتہائی خراب ہے کئی دنوں سے رات کو نیند نہیں آئی ہمیں ان بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے وہ ہماری ذمہ داری ہیں۔کارکنان ن لیگ بالخصوص جو ایل او سی پر ہیں ایڈمنسٹریٹر صاحبان کمیٹیاں بنائیں اور متاثرین کی بھرپور مدد کریں ۔وزیر ایس ڈی ایم اے احمد رضا قادری صاحب کوآرڈی نیٹ کریں باقی میرا کوئی مسلہ نہیں جماعت متحد ہے ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے مظفرآباد میں کشمیری مجاہدین کی حمایت کا اعلان کیا ان کی بیٹی نے کہا کشمیرمیری رنگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ایسا پاکستان کے کسی لیڈر نے نہیں کہا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں بیرون ملک رہا بھی تو اپنی کابینہ سے مکمل رابطے میں رہا

میں نے کہا تھا فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں اعتماد میں لیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ 21کروڑ کی نمائندگی کرتی ہے سیاسی انتقام کے طور پر بنائے گئے مقدمات کی ڈرامہ بازی ختم کی جائے قومی یکجہتی نظر آنی چاہیے خواجہ آصف صاحب نے شاندار باتیں کیں نوازشریف کا ویثرن تھا وہ جو باتیں کہتے تھے آج اگر ان پر عمل ہوتا تو یہ حالات نہ ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ وہاں پڑھی ہندوستان نے پوری کوشش کی کہ مشن نہ آئے ہم نے کہا کہ ہم یو این کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو خوش آمدید کہیں گے پلوامہ واقعے نے سفارتی محاذ پر کشمیر کے مسلے کو نقصا ن پہنچایا۔برسلز ، سپین فرانس کے سفارت خانے نے بھرپور تعاون کیا۔سپین فرانس ولینسیا میں بھرپور پروگرامات کیے گئے ۔پاکستان نے اپنی آئیں میں کشمیریوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ الحاق کے بعد وہ فیصلہ کرینگے کہ کیسے رہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال55 میں پاکستان اقوام متحدہ میں گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے الحاق کی قرارداد کو مستردکردیا مسلم کانفرنس نے جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کیاہندوستانی الحاق کو عارضی قرار دیا گیا۔ ہمارا دنیا میں ایک ہی حامی پاکستان ہے ہم نے اسے محفوظ رکھنا ہے ہم نے خود بھی کام کرنا ہے ہمارے وجہ سے کشمیریوں پر الزام نہیں لگنا چاہیے ۔میری طرف سے استدعا اور ہدایت ہے کہ کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں