طاقت اور تباہی کا تعلق…… حسن نثار

طاقت اور تباہی کا تعلق…… حسن نثار

امریکہ کے ساتھ تعلقات پر حیرت پہ حیرت ہے۔طاقت اورتباہی سگی اور جڑواں بہنیں ہیں۔طاقت اور تباہی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔طاقت اور تباہی لازم و ملزوم ہیں۔طاقت اور تباہی ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔طاقت اور تباہی تاریخ کی گاڑی کے دو پہئے ہیں۔طاقت او رتباہی ایک ہی ترازو کے دو پلڑے ہیں۔
طاقت ماں اورتباہی اس کی اولاد ہے۔طاقت آگ اور تباہی اس کا دھواں ہے۔طاقت بپھرا ہوا دریااور تباہی اس کا سیلاب ہے۔طاقت صحرا اور تباہی اس کا صحرائی طوفان ہے۔’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی‘‘واقعی 21ویں صدی کے انسان کے لئے یہ سب رُسوائی، ندامت اور شرمندگی کا باعث ہے لیکن جیسے سانس اور آکسیجن، پانی اور پیاس، زندگی اور موت، غم اور خوشی، آنسو اور قہقہہ ہمیشہ آپس میں ’’رشتہ دار‘‘ تھے اوررہیں گے اسی طرح انسان کتنا ہی مہذب کیوں نہ ہو جائے ، کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرے…..

چوری میرا پیشہ، نماز میرا فرض….حسن نثار

طاقت اور تباہی موجود رہیں گے اور ان کا اٹوٹ رشتہ بھی قائم رہے گا۔بات سمجھ آ جائے تو کچھ قرار آ جائے۔ریکارڈڈ ہسٹری میں ’’طاقت‘‘ کب نہیں تھی اور ایسا دور، وقت یا عہد کہاں لکھا ہے جب اس نے حسب توفیق تباہی نہ مچائی ہو؟ تاریخِ انسانی میں کوئی طاقت تو بتائیں جس نے ’’توسیع پسندی کا شوق‘‘ پورا کرنے کےساتھ ساتھ اپنے سےکم طاقتوروں یاکمزوروں پر اپنا ایجنڈا نافذ یا مسلط نہیں کرنا چاہا۔اور یوں بھی ہوا طاقت خود اپنی ہی تباہی کا باعث بن گئی۔When you grow fat, you can not run fastجونک کو دیکھا کبھی آپ نے؟ جو خون پینے میں مست اور مدہوش ہوکر یہ بھی بھول جاتی ہے کہ مزید خون پینا اس کے اپنے لئے خطرناک ثابت ہوگااور پھر بالآخر خون پیتے پیتے خود ہی پھٹ جاتی ہے۔طاقت کی تازہ ترین واردات افغانستان، عراق اورلیبیا وغیرہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ ہے، جسے پائے حقارت نے روند کررکھ دیا ۔ یہ پہلے بھی طاقتوروں کی لونڈی تھی لیکن پھر یوں ہوا کہ ان طاقتوروں میں سے ایک کچھ زیادہ ہی طاقتور ہوگیا۔
اقوام متحدہ پہلے بھی کچھ مخصوص اشاروں پہ ناچتی تھی لیکن اب صرف ایک انگلی اٹھتی ہےاور پوری اقوام متحدہ بیٹھ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ پہلے بھی کوئی توپ نہیں تھی….. ایسی ہی تھی لیکن اس کا کچھ نہ کچھ بھرم ضرور تھا….. فرق یہ ہے کہ اب یہ بھرم بھی باقی نہیں رہا۔رہ گئے وہ لوگ جو خوش کرنے اور خوش رہنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ امریکہ….. ’’تنہا‘‘ ہو گیا، تو جان لیں کہ ’’تنہائی‘‘ بھی تنہائی کی طرح طاقت کی ایک صفت ہے۔
یہاں یاد یہ بھی رہے کہ ’’طاقت‘‘ صدقے، خیرات، زکوٰۃ کی صورت نہیں ملتی اور نہ ہی یہ آم، آڑو اور امروداور سیب کی طرح درختوں سے کھونچی جاسکتی ہے، نہ کپاس کی طرح پودوں سے چنی جاسکتی ہےاور نہ ہی گندم کی فصل کی طرح کسی کھیت سے کاٹی جاسکتی ہے۔ طاقت دنیاکے کسی سپرسٹور یا شاپنگ مال پرکسی بھی قیمت پر دستیاب نہیں ہے۔’’مُل وِکدا سجن مل جاوے تے لے لواں میں جند ویچ کے‘‘ (یعنی محبوب کہیں قیمتاً ملتا ہو تو جان کے عوض بھی خرید لوں)لیکن طاقت….. جان کے عوض بھی نصیب نہیں ہوتی، ورنہ ویت نام سے لے کرجرمنی اور جاپان کسی بھی جگہ جان دینے والوں کی کبھی کوئی کمی نہ رہی اور مسلمان تو یوں ہی سر ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہے۔فی زمانہ طاقت کا حصول بڑی تپسیا، ریاضت اور چلّہ کشی مانگتا ہے….. جان جوکھوں سے بھی کچھ آگے کا کام ہے جس کے لئے ایک بار نہیں ….. بار بار مرنا پڑتا ہے۔
جائو! کسی سچے ریسرچ سکالر سے پوچھو کہ زندگی سولی پر کیسے گزاری جاتی ہے؟ اور یہ کتنا بڑا ’’جوا‘‘ ہے جس میں کوئی نہیں جانتا کہ بازی کا نتیجہ کیا ہوگا؟آخر پر عرض کروں گا کہ طاقت کی تاریخ نےمیرے کانوں میں چپکے سے کہا، پیادوں پرانہوں نے فتح پائی جنہوں نے پہلی بار گھوڑے کو ’’جنگی مشین‘‘ کے طور پر استعمال کیا اور پھر ان پر وہ غالب آئے جنہوں نے ’’لگام‘‘ کا استعمال شروع کیا اور پھر ان پر وہ کامیاب رہے جنہوں نے گھوڑوں پر کاٹھی ڈال کر ان کا استعمال مزید بہترکرلیا۔
کاش ساری انسانی تاریخ میں نے لکھی ہوتی….. تو دوستوں کی دلداری کے لئے ان کی خواہشوں کےمطابق ایڈیٹ (Edit) کر دیتا لیکن افسوس ایسا ممکن نہیں۔اَگے تیرے بھاگ لچھئ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں