صحابہ کی بستی کا مکیں……امجد عثمانی

امجد عثمانی
امجد عثمانی
نیوز روم/امجد عثمانی

اللہ والوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم ہی پہچانے جاتے ہیں……بھیس بدلے ،دنیا کی نظروں سے چھپتے چھپاتے عمریں گذار دیتے ہیں …..دنیا سے چلے جائیں تو دنیا والوں کی آنکھیں کھلتی ہیں کہ کتنا بڑا گوہر نایاب کھو گیا لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے…..جناب امام احمد بن حنبل ر ح نے فرمایا تھا کہ ہمارے جنازے ہمارے بارے فیصلہ کرینگے……سچ فرمایا کہ اللہ والوں کے جنازے بھی ایمان افروز ہوتے ہیں….نا جانے جاتے جاتے بھی اللہ کے یہ بندے کتنی زندگیاں بدل دیتے ہیں؟؟؟؟….امام حنبل کا لاکھوں کا جنازہ خود اس قول کا عینی شاہد ہے…جنازوں سے بڑھ کر قبر کی مٹی گواہی دیتی ہے کہ آخری آرام گاہ میں استراحت فرما اللہ کا یہ بندہ کتنا ذی شان ہے…؟؟؟؟حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس مٹی سے انسان کا خمیر لیا جائے اسی میں سپردخاک ہوتاہے…..

پہنچی وہیں خاک جہاں کا خمیر تھا

جب کبھی یہ باتیں سوچتا ہوں تو مرشد عبدالحفیظ مکی بہت یاد آتے ہیں….ہندوستان میں پیدائش….قیام پاکستان پر لائل پور ہجرت…..پھر مکہ میں مستقل قیام……جنوبی افریقہ کے روحانی سفر کے دوران سلاما قول من رب رحیم پڑھتے ہوئے اللہ کے حضور پیشی اور پھر مسجد نبوی میں بڑے جنازے کے بعد صحابہ رض اور اہل بیت رض کی بستی میں اپنے شیخ مولانا زکریا رح کے پہلو میں قیامت تک آرام……

بڑے مقدر کے ہیں یہ فیصلے..بڑے نصیب کی یہ بات ہے

مسجد نبوی کے باب السلام سے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے بعد باہر نکلیں تو باب بقیع کے بالکل سامنے وہ عالی شان شہر خاموشاں ہے جسے جنت البقیع کہتے ہیں…..ام المومنین سیدہ عائشہ رض …جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ زہرا رض…..لخت جگر بتول جناب حسن رض…. داماد پیغمبر جناب عثمان غنی رض ….جناب زین العابدین رض اور سیدہ حلیمہ سعدیہ رض سمیت دس ہزار صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رحمتوں سے مہکتی اس پر بہار بستی میں ابدی نیند سو رہے ہیں……
مولانا عبدالحفیظ مکی رح بھی روپ بدلے….گردن جھکائے ….زیر لب مسکراتے مسکراتے زندگی بتا گئے لیکن کسی کو پتہ نہ چلنے دیا کہ وہ تو صحابہ رض اور اہل بیت رض کی بستی کے مکین تھے…..اپنے اصلی شہر واپس لوٹے تو ہم ایسے دنیا داروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ جنت البقیع کی مٹی سے جس کا خمیر ہو…بھلا اس سے بڑا مقرب کون ہو سکتا ہے……؟؟بلاشبہ وہ اللہ کے ولی تھے…….

2006میں عمرہ کے دوران روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے وقت اشکبار آنکھوں کے ساتھ کریم آقا کا واسطہ دیکر عرضی پیش کی یا اللہ کریم…..بد اعمال سا صحافی ہوں……گناہوں کے سوا پلے کچھ نہیں…….بس ایک گذارش ہے کہ مجھے اپنے آخری نبی کی ختم نبوت کے چوکیداروں کی فہرست میں شامل کرلے……..واپسی پر ہر درخواست قبول ہوگئی لیکن اس دعا کی قبولیت کے کیا کہنے….کہہ لیں کمال ہی ہو گیا……اگلے سالوں میں انٹر نیشنل ختم نبوت کے امیر جناب مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب …..نائب امیر (اب امیر) جناب ڈاکٹر سعید عنایت اللہ ….سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جناب احمد علی سراج….اور شیخ حرم کعبہ مولانا مکی حجازی حیران کن طور پر لائن اپ ہو گئے…….ایک سے بڑھ کر ایک مہربان……پہلے ڈاکٹر احمد سراج ملے اور ہمیشہ کے لئے دل میں گھر کرگئے….پھر ڈاکٹر سعید سے ملاقات ہوئی اور پہلی نظر میں ہی ان کے علم و فضل کا معترف ہونا پڑا….اول الذکر جمالی اور موخر الذکر جلالی طبیعت کے مالک مگر ختم نبوت کاز کے لئے ایک پیج پر…. ….اور مولانا عبدالحفیظ مکی تو مقناطیسی شخصیت….پرکشش ….پر وقار…….عاجزو انکسار…..سادگی دیکھئیے اپنے چہیتےخلیفہ جناب مفتی شاہد صاحب اور معتبر سیکرٹری جنرل ڈاکٹر احمد سراج صاحب کو ساتھ لئے چل کر میرے دفتر آئے ….میں نے بہت روکا کہ حضرت ادھر سیڑھیاں چڑھنا پڑیں گی میں خود حاضر ہو جاتا ہوں مگر نہ مانے اور قہقہہ لگا کر کہا بھئی مجھے ڈاکٹر سعید صاحب کا حکم ہے کہ ہر صورت آپ سے مل کر آئوں میں نے مکہ جا کر رپورٹ دینی ہے…….اللہ اللہ ایسا دلپذیر امیر ..میرا مشاہدہ ہے کہ مکی صاحب کو اپنے دونوں پی ایچ ڈی جانشنیبوں پر ناز تھا….وہ ڈاکٹر سعید عنایت اللہ کی تحریری اور ڈاکٹر احمد سراج کی تقریری صلاحیتوں کے قدران تھے…اس لئے وہ ان سے ایسے لاڈ کرتے جیسے باپ لائق بیٹوں کے نخرے اٹھاتا ہے… خیر مکی صاحب دفتر پہنچے..گلے لگایا…..چائے پر چاہت بھری باتیں کیں ..جانے سے پہلے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیے…..اٹھےتو اپنا مرید کر کے اٹھے……….نیک نام بزرگ صحافی جناب طاہر پرویز بٹ …عامر ندیم اور سیدہ نوشین نقوی بھی اس دعا میں شامل تھے…ایک دو مزید نشستوں کے بعد ہم نے باقاعدہ اپنا ہاتھ بیعت کیلئے بڑھایا تو اپنے سمندر جتنے دل میں ہمیشہ کے لئے جگہ دیدی……لاہور کی خانقاہ ہو….ایوان اقبال…چناب نگر یا پھر نشتر ہال پشاور ہو…جہاں ملے کمال محبت سے ملے….سبزہ زار کی خانقاہ حاضری ہوتی تو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے….چائے پلاتے….بیڈ روم میں بٹھاکر گپ شپ کرتے…….اردن کے سکالر امجد سقلاوی سے ان کے کمرے میں ہی دوستی ہوئی….ڈاکٹر سراج اور حافظ ظہیر بھی ساتھ تھے…..مکی صاحب میڈیا فرینڈلی تھے….ڈاکٹر سعید….ڈاکٹر سراج ….مفتی شاہد اور انقلابی صاحب کی فیور کے باعث وہ میرے ساتھ قدرے زیادہ فرینک تھے….صحافی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ان سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتا….کبھی برا نہیں منایا بلکہ خندہ پیشانی سے تنقید سنتے اور مسکرا دیتے…ایک دفعہ ایک” بڑی صلح “کے ثالث بنے تو میں نے کہا کہ ایک” فریق “کافی “غیر محتاط” ہے… آپ کو احتیاط کرنی چاہئیے…مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہنے لگے دعا کریں اللہ ہم پر رحم فرمائے….ایک دفعہ ایک” مولانا “سے کسی بات پر تھوڑے ناراض تھے….انہوں نے مجھے کہا..میں نے ڈائریکٹ ہونے کے بجائے ڈاکٹر احمد علی سراج کی آڑلی اور دلیل کیساتھ ان کا “مقدمہ” پیش کیا تو نہ صرف قائل بلکہ راضی بھی
ہو گئے…..
جنوبی افریقہ علما کا وفد لیکر گئے….واپس آئے تو میں نے کہا حضرت میرے خیال میں اتنے بڑے” لشکر” کیساتھ ایک صحافی بھی ہونا چاہئیے تھا تاکہ کوریج ہوجاتی…..کہنے لگے بالکل مجھے بھی وہاں جا کر یہ احساس ہوا ……آئندہ جو اخبار نویس آپ ریکمنڈ کرینگے….اس کو ساتھ لے جایا کرینگے……صحافیوں کی بات چلی تو کچھ اور باتیں….ایک مرتبہ لاہور پریس کلب تشریف لائے اور روحانی لیکچر کے بعد پیشکش کی کہ جو صحافی بھی عمرہ اور حج کے لئے آئے وہ مکہ میں میرا مہمان بنے تو مجھے خوشی ہوگی….صحافی کالونی کی مسجد میں حرمین شریفین کی طرز کے اذان اور نماز کے نظام پر باغ باغ ہو گئے اور ڈاکٹر احمد سراج کو خراج تحسین پیش کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے جنگل میں منگل کر دیا…راجہ اورنگزیب صاحب حج پر گئے تو ان کی ایسی میزبانی کی کہ وہ واپسی پر جب بھی ان کی محبت کا تذکرہ کرتے تو ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں کہ اتنا بڑا آدمی نہیں دیکھا…. پوری محفل میں صرف مجھے کرسی پر بٹھایا اور خاطر مدارت کے تو کیا کہنے ….
قادیانی سربراہ مرزا مسرور کے رضاعی بھتیجے شمس الدین نے ایوان اقبال میں مکی صاحب کی موجودگی میں اسلام قبول کیا تو میں نے اس خبر کی خوب تشہیر کی…..ڈاکٹر سراج کو لیکر تالیف قلب کے لئے اس وقت کے نومسلم کے گھر پہنچ گیا…..ہم نے گدستہ پیش اور ننھی بیٹیوں سے پیار کیا اور واپس آگئے…..پھر باہم مشورے سے مکی صاحب کے سامنے شمس الدین کو عمرہ کرانے کی تجویز رکھی….انہوں نے یہ رائے پسند کی …اور پھر شمس الدین کو عمرے کی سعادت مل گئی…..
مجھ سے کافی انٹر ایکشن تھا…. جب بھی فون پر بات ہوتی تو ایک ہی بات پوچھتے عمرے پر کب آنا ہے؟میں کہتا حضرت بس منظوری کا انتظار ہے….2015میں خاکسار کو دوسری بار اہلیہ اور ننھی ہادیہ کے ساتھ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی…..شکرگڑھ کے درویش رکن پنجاب اسمبلی مولانا غیاث الدین اور ان کی” بے غم “بیگم بھی ساتھ تھیں…..مکہ میں تھے تو بڑی محبت سے گھر دعوت پر بلایا…. اپنے جانشین صاحب زادے جناب عمر مکی کو گاڑی دیکر بھیجا…کھانے کے بعد وہ ہمیں واپس چھوڑنے بھی آئے….مکہ خانقاہ میں بیٹھے میں نے سرگوشی کی حضرت مولانا غیاث الدین بریلوی عالم دین ..اور.پیروں فقیروں کے ماننے والے ہیں.ذرا خصوصی محبت …..ہمارے درمیان بیٹھ گئے اور دونوں کو بازوؤں میں لے لیا…..مکہ کی زیارات کے لئے دوسرے بیٹے معاذ مکی کی ڈیوٹی لگائی کہ ان کو گھمائو پھرائو…مدینہ میں بھی اپنے بھتیجے احمد کے گھر پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا…..وہاں خوب محفل جمی….بھارت سے آئے مولانا زکریا کے نواسے مولانا شاہد سے باری باری سب کا ےتعارف کرایا …..ڈاکٹر احمد سراج کے بارے بتایا کہ یہ کویت چھوڑ کر شہر نبی آگئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ ان کا انجام بخیر چاہتا ہے……..مکی صاحب سے آخری ملاقات 2016کی ایوان اقبال کانفرنس پر ہوئی …..میں اس وقت ایک نجی چینل میں تھا…..میرے ساتھ ہمارے رپورٹر بھی….ہم باہر دروازے پر کھڑے تھے… تشریف لائے تو دیکھ کر مسکرا دیے …..گلے لگایا…..میں نے کہا آپ کا “ساٹ” لینا ہے…..خوشدلی سے ٹی وی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا…..مولانا عمر مکی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا…..اسی سال اللہ نے مجھے لاہور میں گھر دیا…..میں نے انہیں دعا کیلئے آنے گھرانے دعوت دی….وہ بوجوہ نہ آسکے تو میں نے مفتی شاہد صاحب سے ویسے ہی بات کردی….انہوں نے مکی صاحب کو بتا دیا….اگلے لمحے ہی فون آگیا…..عثمانی صاحب…..!مفتی صاحب نے آپ کا شکوہ پہنچایا ہے….رائیونڈ اجتماع کی وجہ سے شیڈول بہت سخت تھا..اس وجہ سے آپ کے ہاں حاضری نہ ہو سکی….آئندہ دورے کے دوران یہ قضا پورے آداب کیساتھ اداکرینگے ….اور گھر میں خیر و برکت کی دعا دی…..جنوبی افریقہ جانے سے کوئی ایک ماہ قبل مکہ میں تھے تو فون پر آخری گفتگو ہوئی….میں نے کال کی تو کہا بند کریں میں فون کرتا ہوں…. ان کی عادت تھی کہ میں نے جب بھی فون کیاتو کاٹ کر خود کال کی…..میں نے کہا کہ کافی عرصہ ہو گیا بات نہیں ہوئی….دل کررہا تھا آپ سے دعائیں لینے کو….حسب معمول دعا دی اور کہنے لگے واقعی اس بار سستی ہوگئی…آئندہ غفلت نہیں ہوگی…..وہ بڑے آدمی تھے اور یہ ان کا بڑا پن تھا کہ وہ ایسی بڑی بڑی باتیں کر کے ہم ایسے چھوٹوں کو چھوٹے ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے……2017 میں جنوبی افریقہ کے دورے پر تھے کہ اللہ نے اپنے نیک بندے کو اپنے پاس بلا لیا…… قرآن مجید کی آیت سلام قولا من رب رحیم پڑھتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کردی….مسجد نبوی میں نماز فجر کے بعد جنازہ اور پھر صحابہ کی بستی جنت البقیع میں اپنے شیخ مولانا زکریا کے پہلو میں تدفین نے ان کا راز فاش کر دیا کہ وہ تو اللہ کے مقرب ترین بندوں میں سے تھے…..جب ایک سکیورٹی اہلکار نے ڈاکٹر احمد علی سراج سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں…تو انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ یہ وہ اللہ والے ہیں جو زندگی بھر مکی کہلائے اور اب قیامت تک مدنی بن گئے ہیں….

مکی صاحب کی وفات کے بعد حضرت کے بڑے صاحبزادے اور مدرسہ صولتیہ کے شیخ الحدیث مولانا عبدالروف مکی ڈاکٹر احمد علی سراج کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے تو شیخ کی یاد تازہ ہوگئی….ایسے لگا وہ قضا پوری ہو گئی جس کا وعدہ مکی صاحب نے کیا تھا…حضرت کے فرزند ارجمند مولانا عمر مکی اور معاذ مکی بھی میرے مہربان ہیں….بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ میں حضرت مکی کے خاندان کا سرتاپا مقروض ہوں اور اس احسان کابدلہ صرف اللہ ہی چکا سکتا ہے…….
اللہ والے بھی کتنے فیاض ہوتے ہیں کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی ان کا فیض چلتا رہتا ہے….مجھے ذاتی طور پر اس کا مشاہدہ ہوا…..مکی صاحب تین چار مرتبہ خواب میں ملے….ایک دفعہ اپنے شیخ کا نام لیتے ہوئے……ایک بار مجھے دم اور ایک مرتبہ ختم نبوت بارے بات کرتے ہوئے….یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی رابطے میں ہیں…کبھی مسکرادیے تو کبھی دعا دے دی……..صوفی بیوروکریٹ جناب قدرت اللہ شہاب نے کائنات میں ایک روحانی نظام کی بات کی ہے…ہو سکتا ہے مکی صاحب اس سسٹم میں بھی ختم نبوت کی کسی اہم ڈیوٹی پر مامور ہوں اور کبھی کبھار ہم ایسوں کا تذکرہ ہو جاتا ہو……..!!!!

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں