شکریہ وزیراعظم…. خالد منہاس

شکریہ وزیراعظم…. خالد منہاس

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیراعظم کے خطاب نے دنیا کو اس خطے پر منڈلاتے ہوئے خطرے سے آگاہ کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردی کے تانے بانے بیرون ملک تک جاتے ہیں ۔ انہوں نے افغانستان اور بھارت پر براہ راست پاکستان کے اندر دہشت گردی کا الزام عائد نہیں کیا مگر جس طرح انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بات کی اور جس طرح انہوں نے کشمیر کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے رکھا وہ لائق صد تحسین ہے۔ کوئی ان کی انگریزی پر تنقید کرے یا یہ کہے کہ انہوں کا لہجہ دھیما تھا یا انہوںنے چیخ چیخ کر دنیا کے رہنماﺅں کے سامنے پاکستان اور کشمیر کی فریاد نہیں رکھی تو ہم اسے تفقید برائے تنقید ہی کہیں گے۔بہت سے نابغے ان کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کو ذوالفقار علی بھٹو کے خطاب سے جوڑ رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا انداز بیان اور سیاست کا چلن جدا تھا۔ دونوں ایک نہیں ہو سکتے ہر کوئی اپنے اپنے حصے کا کام کرنے آیا ہے۔ اڑی میں حملے کے بعد بھارت جس جنون کا شکار ہے اس پر سیاسی اور فوجی ردعمل بہت ہی شاندار رہا ہے۔جس دن وزیراعظم جنرل اسمبلی میں بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کر رہے تھے اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق ہے اسی دن پاکستان میں فوج مکمل تیاری میں نظر آئی ۔ پاکستان کی فضائیہ نے موٹروے سے اڑان بھرنے اور اترنے کی کامیاب مشقیں کی ہیں۔

وزیراعظم میاں نوازشریف کا اس لیے بھی شکریہ ادا کیا جانا چاہیے کہ ان کے بارے ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے خاندان کے بعض افراد کی کاروباری شراکت بھارتی کمپنیوں کے ساتھ موجود ہے اور وہ اس لیے بھارت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں ، انہوں نے اپنے اس خطاب میں لگی لپٹی رکھے بغیر ایک طرف بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے رکھا ہے تو دوسری طرف دنیا سے بھی یہ کہا کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ جو وعدے کیے اور سلامتی کونسل نے جو قراردادیں پاس کی ہیں ان پر عمل درآمد کروایا جائے۔بھارت اور امریکہ پاکستان کو نیچا دکھانے کا کھیل مشترکہ طور پر کھیل رہے ہیں۔ اسی دن امریکہ کے ایک کانگریس مین نے پاکستان کے خلاف ایک قرارداد بھی پیش کی ۔پاکستان کے وزیراعظم کی جان کیری سے ملاقات کتنی نتیجہ خیز رہی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر دنیا کے سامنے یہ پیغام چلا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا ءمیں پائیدار امن کا راستہ پاکستان سے گذرتا ہے اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہی ہو گا حالات معمول پر نہیں لائے جا سکتے ۔

ہمارے دوست انجیئنر افتخار چوہدری آج کل خاصے غصے میں نظر آ رہے ہیں وہ خاص طور پر ان لوگوں پر برس رہے ہیں جو پاکستانیوں کے کشمیر میں کردارپر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ افتخار چوہدری ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے لوگ کشمیر کے حوالے سے بعض سوالات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان ہمار ا وطن اور کشمیر کی آزادی ہماری منزل ہے۔ پاکستان پر ہمارے آباو اجداد قربان ہو گئے اور وقت آیا تو ہم بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ ہم نے اس مٹی پر جنم لیا، اس کی ہواﺅں نے ہمیں پروان چڑھایااور یہاں کے لوگوں نے ہم پر اپنی محبتیں نچھاور کی ہیں۔ یہ ملک ہم کشمیریوں کا نصب العین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی شہید کا جنازہ اٹھتا ہے تو اسے پاکستان کے پرچم میں لپیٹا جاتا ہے، اس وقت آزادی کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور لوگ دل و جان سے کہتے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ ا للہ محمد رسول اللہ۔کشمیر الگ ہو جائے یا پاکستان کا حصہ رہے وہ اصل میں پاکستان ہی ہے۔چوہدری صاحب آپ لوگوں کو ہماری وفاﺅں پر شک نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے لوگ جان کی بازی لگا کر پاکستان آئے تھے اورجو وہاں ہیں وہ پاکستان سے محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں اور آزادی کے لیے کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ بھارت نے گذشتہ دنوں کتنی خوفناک چال چلی تھی اور بھارت میں مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے مسلمان رکن پارلیمنٹ اور دوسرے مسلمان زعماءکا ایک وفد کشمیری رہنماﺅں سے ملنے کے لیے سری نگر گیا تھا تاکہ انہیں اس بات پر راضی کیا جاسکے کہ کسی بھی قیمت پر وہ بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے راضی ہو جائیں مگر وہاں کی قیادت نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ہم پاکستان سے محبت کاقرض اپنے لہو سے چکا رہے ہیں۔ہمارے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہمارا مقدمہ لڑے مگر یہاں کے جہادی گروہوں کو اس کام سے باز رکھا جائے ۔

اڑی پر حملے کے بعد بھارت کا جنگی جنون اپنی جگہ مگر قوم بھارت کے خلاف ایک ہے ۔ پاکستان پر حملہ ہوا تو ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ یہ تاریخ ہم نے 1965میں بھی رقم کی تھی جب بھارت کے ٹینکوں کے حملے کو پاکستان کے لوگوں نے سینے پر بم باندھ کر روک دیا تھا۔ یہ خودکش مشن نہیں تھا بلکہ پاکستان کی حفاظت کے لیے شہادت تھی۔ پاکستان کا بچہ بچہ کٹ مرنے کے لیے تیار ہے اس لیے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ پاکستان کے پاس صرف پانچ لاکھ فوج نہیں ہے بلکہ بھارت اسے اٹھارہ کروڑ سمجھے کیونکہ ہمارا نصب العین۔ شہادت ہے مقصوو و مطلوب مومن ، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں