شمسی توانائی سے چلنے والا رکشا برطانیہ پہنچ گیا

لندن(پی ایف پی)آپ نے شمسی توانائی سے چلنے والے طیارے سولر امپلس کی دنیا کا چکر مکمل کرنے کی خبریں تو پڑھی ہوں گی۔ اب ایک انجینیئر شمسی توانائی سے چلنے والے رکشے میں سات ماہ قبل انڈیا سے سفر شروع کرنے کے بعد برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔
انڈین نژاد آسٹریلوی شہری نوین ربیلی نے اس دوران تقریباً دس ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا۔
انھیں مقررہ وقت سے پانچ روز کی تاخیر ہو گئی کیوں کہ ان کا بٹوہ اور پاسپورٹ پیرس میں چوری ہو گئے تھے۔
اس سفر کا مقصد بجلی اور شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے۔
نوین نے اس موقعے پر کہا کہ وہ اپنا سفر بکنگھم پیلس پر ختم کریں گے۔
ان کے ترمیم شدہ رکشے میں بستر، شمسی توانائی سے چلنے والا چولھا اور ایک عدد الماری موجود ہیں، جس میں راستے میں لوگوں کی جانب سے عطیہ کی گئی خوراک رکھی گئی تھی۔
نوین نے کہا: ’اس سفر کی خاص بات یہ تھی کہ سفر کے دوران لوگوں نے میری بہت مدد کی۔ لوگ ٹک ٹک (رکشا) بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ میرے پاس آ کر سیلفیاں لیتے تھے۔ میں جب انھیں بتاتا تھا کہ یہ پیٹرول سے نہیں چلتا تو وہ دنگ رہ جاتے تھے۔‘
نوین کا سفر انڈیا کے شہر بنگلور سے شروع ہوا تھا۔ ان کا رکشا بذریعہ بحری جہاز ایران پہنچایا گیا، جہاں سے وہ ترکی، بلغاریہ، سربیا، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، جرمنی اور فرانس سے ہوتے ہوئے برطانیہ پہنچے۔
تاہم فرانس میں انھں چوری کے بعد ہنگامی پاسپورٹ کے لیے درخواست دینا پڑی۔ یہ چوری اس وقت ہوئی جب وہ رکشا پارک کر کے باتھ روم گئے ہوئے تھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں