سیریز سے انکار: بھارت کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

لاہور(پی ایف پی)چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) شہریار خان نے باہمی سیریز کھیلنے سے انکار کرنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔

لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں گورننگ بورڈ کے 44ویں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ نے 2014 میں سیریز کھیلنے کا معاہدہ کیا لیکن پھر اسے توڑ دیا جس کے سبب ہمیں ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کافی نقصان ہو چکا ہے اور کیس بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے اب ہمارے پاس قانونی کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

’ہمارا ہندوستان سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ہمیں چھ سیریز کھیلنی تھیں اور دو سیریز کا وقت تو پہلے ہی نکل چکا ہے تو وہ ضائع ہو گئی ہیں اور تیسری سیریز کے انعقاد کا امکان بھی نظر نہیں آتا‘۔

پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ ہم پہلے مرحلے میں بی سی سی آئی کو نوٹس دیں گے اور پھر اس معاملے کو تنازعات سلجھانے والی آئی سی سی کمیٹی میں لے جائیں گے لیکن اگر آئی سی سی کمیٹی میں بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے جس کیلئے ہم پہلے ہی تیاری کر کے اپنا مقدمہ تیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ دونوں ملکوں کے موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے کرکٹ نہ ہو کیونکہ ماضی میں ہم شیو سینا کے بھرپور احتجاج کے باوجود بھارت جا کر بہترین اسپرٹ کے ساتھ کرکٹ کھیلے لیکن موجود ماحول میں نریندر مودی کے رویے سے لگ رہا ہے کہ وہ ہم سے ہرگز کھیلنا نہیں چاہتے۔

چیئرمین پی سی بی نے پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل دیکھنے کیلئے آٹھ بین الاقوامی سیکیورٹی ایڈوائزر آئے تھے جس سے دنیا بھر میں مثبت پیغام گیا جبکہ فائنل کیلئے جائلز کلارک کا پاکستان آنا بھی فائدہ مند رہا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کی تیاریاں شروع کی جا چکی ہیں اور تیسرے ایڈیشن میں کے کچھ میچز پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔

اس موقع پر انہوں نے بگ تھری کا تنذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی میٹنگ اپریل میں ہو رہی ہے جبکہ بگ تھری کے کاتمے اور آئی سی سی کے نئے آئین کیلئے جون میں حتمی اجلاس بھی ہو گا۔ گزشتہ آئی سی سی میں نئے آئین کا ڈرافٹ منظور ہو گیا تھا جس کی صرف ہندوستان اور سری لنکا نے مخالفت کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ آج بورڈ آف گورننس کے اجلاس میں بورڈ نے مجھے مینڈیٹ دیا ہے کہ میں آئی سی سی میں جا کر بگ تھری کے کاتمے کی بات کروں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنی تقرری کے حوالے سے شہریار نے کہا کہ 18 اگست کو میرے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے اور ذاتی و صحت کے مسائل کے سبب تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد میں کسی بھی عہدے پر کام نہیں کروں گا۔ میں نے بورڈ کے پیٹرسن ان چیف وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر اینٹی کرپشن یونٹ نے بہت اچھا کام کیا اور ہم فکسنگ سے بچاؤ کے لئے کھلاڑیوں کو آگاہی دیتے ہیں

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل شاہ زیب حسن نے بھی فکسنگ الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کا کیس بھی ٹریبونل میں جائے گا۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں بائیو مکینیکل لیب کے افتتاح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اس وقت 5 بائیو مکینیِکل لیب ہیں اور چھٹی پاکستان میں ہوگی، امید ہے کہ ہمیں بائیو مکینیِکل لیب کو جلد آئی سی سی کا الحاق مل جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہندوستانی بورڈ کے درمیان ایک معاہدے کی یادداشت کر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت 2015 سے 2024 تک دونوں ملکوں کے درمیان چھ دوطرفہ سیریز کھیلی جانی ہیں اور اس سلسلے کی پہلی سیریز کی میزبانی رواں سال پاکستان کو کرنی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 2007 میں انڈیا میں کھیلی گئی کرکٹ سیریز کے بعد سے کوئی باقاعدہ مکمل کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔

پاکستان کو اسکے بعد اگلی سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان آنا تھا لیکن 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کے ساتھ ساتھ کرکٹ تعلقات بھی متاثر ہوئے اور اس کے بعد متعدد کوششوں کے باوجود کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی جا سکی۔

اس سلسلے میں 2012 میں اس وقت معمولی پیشرفت ہوئی تھی جب پاکستان نے دو ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کیلئے ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد تعلقات میں کچھ بہتری آنا شروع ہوئی تھی۔

تاہم 2014 میں نریندرا مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت کے قیام کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونا شروع ہو گئی جس سے دوطرفہ سیریز کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں