سیاسی کزنز کے دھرنے اورذوالفقار چیمہ کے مشورے….ہائیڈ پارک ۔۔۔۔میم سین بٹ

سیاسی کزنز کے دھرنے اورذوالفقار چیمہ کے مشورے….ہائیڈ پارک ۔۔۔۔میم سین بٹ
ہائیڈ پارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میم سین بٹ
وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جمہوری حکومت کے خلاف خصوصی مشن پر تعینات طاہر القادری اور عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنی ’’ڈیوٹی ‘‘ کا دوسرا مرحلہ پورا کر لیا ہے جس کے دوران وفاقی اور صوبائی دارالحکومت کے مکین سخت عذاب میں مبتلا رہے ، بعدازاں عمران خان نے24 ستمبر کو رائیونڈ میں نواز شریف کی ذاتی رہائش گا ہ کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کر ڈالا تھا حالانکہ اس روز وزیراعظم غالباََ اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کا مقدمہ پیش کررہے ہونگے عمران خان کا گھیراؤ بھارتی وزیراعظم مودی کو ہی فائدہ پہنچاتا ،اس روزرائیونڈ والی رہائش گاہ پر نواز شریف کی والدہ ہی مقیم ہوں گی ،اپنی ماں کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے والے عمران خان دوسروں کی ماؤں کا کس قدر احترام کرتے ہیں اس سے واضح جاتا ہے،چوہدری برادران ہی نہیں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے رہنما بھی وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ کے گھیراؤ سے متفق نہ ہوئے جس پر یوٹرن خان کواپنا اعلان واپس لینا پڑا اب تحریک انصاف جاتی عمرا جا کر دھرنا دینے کے بجائے راستے میں اڈہ پلاٹ پرصرف احتجاجی جلسہ کرے گی عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے تو تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت سے ہی انکار کردیا ہے۔
شریف برادران کی مرکزی اور پنجاب حکومت کے خلاف لاہور میں مقیم جھنگ اور میانوالی کے سیاسی کزنز نے پہلے انتخابی دھاندلی پر احتجاج کی آڑ میں دھرنے دیئے تھے اب پانامہ لیکس کے نام پر احتجاجی مارچ کئے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ پہلے دھرنے بھی چند جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ سے قبل دیئے گئے تھے اوراحتساب تحریک و قصاص تحریک کے نام پر موجودہ احتجاجی مارچ بھی بری فوج کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے دیئے گئے ہیں ،عمران خان نے چند روز قبل جنرل راحیل شریف سے دوسری اور اتفاقیہ ملاقات کے بعد مارچ کے شرکاء سے خطاب میں انہیں فیلڈ مارشل کا مجوزہ عہدہ قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا یعنی دوسرے الفاظ میں ان سے ریٹائرنہ ہونے کی اپیل کی تھی جبکہ طاہرالقادری نے اسلام آباد کے جلسے میں تقریر کے دوران کھل کراپنی دلی خواہش بیان کردی تھی بقول فلمی شاعر ۔۔۔
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
ابھی تو جی بھرا نہیں
جب جنرل راحیل شریف ترجمان آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے ذریعے واضح اعلان کر چکے ہیں کہ وہ توسیع نہیں لیں گے تو پھر یہ باب بند ہو جانا چاہیے تھا ویسے بھی آرمی چیف کو توسیع دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ بری فوج کے باقی جرنیل اس عہدے کیلئے نااہل ہیں ،ہمارے دفاعی نظام میں کوئی بھی فرد ناگزیر نہیں ہونا چاہیے اور ہر حقدار کو اس کا حق ملنا چاہیے دوسروں کے حقوق کو سلب نہیں کیا جانا چاہیے ،جنرل راحیل شریف کے پیشرو جنرل پرویز کیانی نے صدر آصف علی زرداری سے توسیع لے لی تھی تو اس اضافی مدت کے دوران پیش آنے والے چند اہم افسوسناک واقعات نے ان کی اگلی پچھلی کارکردگی پر پانی پھیر کر رکھ دیا تھا ،جنرل کیانی یقیناََ سوچتے ہوں گے کہ ملازمت میں توسیع نہ ہی لیتے تو اچھا تھا ،جنرل راحیل شریف کے بھائی میجر شبیر شریف اور ننھیالی رشے دار میجر عزیز بھٹی نے شہادت پائی تھی جن کی وجہ سے جنرل راحیل شریف کو بھی عوام میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہٰذا عوام چاہیں گے کہ جنرل راحیل شریف وقت پر عزت سے ریٹائر ہوجائیں البتہ انہیں جنرل (ر)جنجوعہ کی طرح کوئی سول عہدہ دیا جا سکتا ہے ۔
عمران خان اور طاہر القادری دونوں نواز شریف دشمنی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ دھرنوں کے ذریعے جمہوری نظام ہی کے درپے ہو چکے ہیں ان کی خواہش لگتی ہے کہ نوازشریف حکومت کسی بھی طریقے سے ختم ہو جائے چاہے اس کیلئے فوج ہی کیوں نہ اقتدار پر قبضہ کرلے لیکن انہیں ماضی کا تجربہ غالباََ یاد نہیں رہا ،جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی ان دونوں پنجابی سیاستدانوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا تھا اور ان میں سے کسی کو وزیراعظم بنانا پسند نہیں کیا تھا اس عہدے کیلئے سابق فوجی آمر نے باری باری دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں کا انتخاب کیا تھا البتہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے لئے خدمات سرانجام دینے پر عمران خان کو میانوالی اور طاہر القادری کو لاہور کے انتخابی حلقے سے ایم این اے شپ کا لالی پاپ دیدیا تھا جسے عمران خان تو پانچ برس تک چوستے رہے تھے مگر طاہر القادری جلد ہی لالی پاپ کوپھینک کر کینیڈا جا بسے تھے ۔
فوج کا بیشتر حصہ چونکہ پنجابیوں پر مشتمل ہے اس لئے ماضی میں بار بار اقتدار پر قابض رہنے کی وجہ سے سندھیوں ،بلوچیوں اور مہاجروں میں پیدا ہونے والے احساس محرومی نے انکے دل میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت بھر دی تھی ،جنرل ایوب خان اور جنرل یحی ٰ خان پٹھان جبکہ جنرل ضیاء الحق پنجابی اور جنرل (ر) پرویز مشرف اردو داں مہاجر تھا اس لئے جنرل ایوب خان اور جنرل یحی ٰ خان کے دور آمریت میں پختون اور جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں پنجابی خوش رہے جبکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور آمریت میں کراچی و حیدرآباد کے مہاجر بڑے مطمئن رہے تھے مگر اس دور میں صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) اور بلوچستان کے پشتون سخت عذاب میں مبتلا رہے تھے قبائلی علاقوں میں آپریشنوں کے باعث فوج میں بھی پختون افسراور اہلکار پچھلی صفوں میں چلے گئے اس دور سے اب تک اگلی صفوں میں زیادہ تر پنجابی افسر اور اہلکار ہی دکھائی دیتے چلے آرہے ہیں جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے سازشی اقدامات کے ذریعے پنجابیوں کو مزید نفرت کا نشانہ بنا گیا تھا ۔
پختونوں ،سندھیوں اور مہاجروں کے مقابلے میں بلوچوں کی فوج میں نمائندگی سب سے کم بلکہ برائے نام پائی جاتی ہے غالباََ صرف لیفٹنٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ہی کورکمانڈر کے عہدے تک پہنچ سکے تھے ،جنرل (ر) پرویز مشرف نے نواب اکبر بگتی کو قتل کروا کر بلوچستان میں علیحدگی کی دیرینہ چنگاری کو شعلہ بنا دیا تھا ،اکبر بگتی کا ایک پوتا اب ریاست کا باغی بن چکا ہے ،مائنس ون کے فارمولے بنانے والوں نے اب الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے مقابلے پر پاک سرزمین پارٹی بنوا کر مہاجروں میں بھی ریاست اورخاص طورپر پنجابیوں کے خلاف نفرت بڑھا دی ہے ،سوشل میڈیا پر بلوچی ،پختون ،سندھی اور مہاجر اکٹھے ہو کر پنجابیوں کو گالیاں دے رہے ہیں ، ایسے میں پنجابی دانشور اور محب وطن ریٹائر اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار چیمہ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اخباری کالم میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو چند مفید مشوے دے ڈالے ہیں جن پر اگر عمل ہو جائے تو ہمارے بیشتر موجودہ مسائل ختم ہو جائیں گے بالخصوص جمہوریت کو لاحق خطرات دور ہو جائیں گے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں