’ سندھ میں ہو گا اب ایسے گذارا ،سب ہمارا ، سب ہمارا ،۔۔۔۔۔سندھ اسمبلی میں کون کیا کہتا رہا

کراچی ( پی ایف پی) سندھ کے سینئر وزیر خزانہ ، منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے نعرے کے جواب میں ایک اور نعرہ دیا ہے کہ ” سندھ میں ہو گا اب ایسے گذارا ،سب ہمارا ، سب ہمارا ۔“ واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر نے نعرہ دیا تھا کہ ” سندھ میں ہو گا اب ایسے گذارا ، آدھا تمہارا آدھا ہمارا “ ۔ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ہمارا میں ہم سب ہیں ، آپ بھی ہم ہیں اور میں بھی ہم ہوں ۔ وہ جمعہ کو بجٹ پر عام بحث کے دوران خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ زرعی انکم ٹیکس کے ساتھ ساتھ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنایا جائے اور ان دونوں ٹیکسوں کو معقول بھی کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے مرحوم والد سید عبداللہ شاہ نے اسی سندھ اسمبلی میں ایک دفعہ بجٹ پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سندھ ایک دھرتی ہے اور ایک صوبہ ہے ۔ اسے شہری اور دیہی میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ شہری اور دیہی کی تقسیم کی بات نہ کی جائے ۔
ہم سب ایک ہیں اور ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ یہ سندھ ہے ہمارا ، یہ سندھ ہے ہمارا ۔تم بھی ہمارے اور سندھ بھی ہمارا ۔ سب ہے ہمارا ، سب ہے ہمارا ۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ انڈیا میں سونا چھوڑ کر آئے ہوں گے لیکن یہاں سونے جیسی دھرتی پر آئے ہیں ۔ جب آپ یہاں آئے تو آپ نے ” بھلی کرے آیا “ سنا ہو گا ۔ ہم نے آپ کے لےے دل کے دروازے کھولے ہیں ۔ آپ دماغ کے دروازے تو کھولیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ سندھ میں زرعی انکم ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے ہدف میں ہم ناکام ہوئے ہیں ۔ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کی بہت گنجائش ہے ۔ ہم جلد ایک کمیٹی تشکیل دیں گے ، جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان شامل ہوں گے ۔ یہ کمیٹی زرعی انکم ٹیکس کو معقول بنانے اور اس کی وصولی میں اضافے کے لےے تجاویز دے گی ۔
زرعی انکم ٹیکس کے نام پر ٹیکس چوری ہو رہی ہے ۔ کراچی کی ایک فرم ، جس کا تعلق زراعت سے نہیں ہے ، ساڑھے 9 ارب روپے سالانہ زرعی آمدنی ظاہر کر رہی ہے ۔ میں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں ۔ایف بی آر کے ساتھ مل کر جلد حکمت عملی بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس بھی بہت کم وصول ہوتا ہے ۔ بنگلور ( انڈیا ) کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہے اور وہاں 35 ارب روپے سالانہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وصول ہوتا ہے ۔ کراچی کی آبادی 2 کروڑ سے زیادہ ہے لیکن یہاں صرف 2 ارب روپے وصول ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے 1965 کے الزامات بھی مجھ پر لگا دیئے ۔ تب تو ہماری حکومت ہی نہیں تھی ۔ ایک کہاوت ہے کہ بلی کبھی تھیلے سے باہر نہیں نکل سکتی لیکن ہمارے پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی نے پہلے ہی بلی مار دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے میرے خلاف کچھ بول دیا ہے ۔ لگتا ہے کہ اسحاق ڈار پریشان ہیں ۔
اسحاق ڈار ایک طرف کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس وصولیوں کا اپنا ہدف پورا کر لیا ہے ۔ اگر ہدف پورا ہو گیا ہے تو ہمیں بھی اپنا حق دیا جائے ۔ ہم وفاق سے بھیک نہیں مانگتے ، اپنا حق مانگتے ہیں ۔ ابھی بھی وفاق کی طرف سے ہمیں اپنے حصے کی 91 ارب روپے کی رقم وصول نہیں ہوئی ہے ۔ وفاق ہمارا حق دینے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی بجٹ تقریر میں کوئی لفظ نہیں تھا بلکہ صرف لہجہ تھا ۔ انہوں نے کوئی ٹھوس بات نہیں کی ۔ بجٹ کی کتابوں میں ایک ایک چیز واضح ہے اور جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ وہ بجٹ میں موجود ہے ۔ جن ارکان نے بجٹ بک نہیں پڑھا ،انہیں بجٹ اعدادوشمار کا گورکھ دھندا لگا۔ایم کیو ایم نے شیڈو بجٹ دیا۔ شیڈو بجٹ پر بنانا لیکس ہوگیا۔اور وہ کیلے کے چھلکے پر خود ہی پھسل گئے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بجٹ اجلاس میں کسی کو بولنے نہیں دیں گے لیکن وہ اس میں ناکام رہے ۔ گذشتہ سال 79 ارکان نے بجٹ پر بات کی تھی ۔ اس مرتبہ 27 ارکان بجٹ پر بولے ہیں ۔ گذشتہ سال پیپلز پارٹی کے 37ارکان نے بات کی تھی اور اس مرتبہ 45 ارکان نے بات کی ہے ۔ گذشتہ سال ایم کیو ایم کے 27 ارکان نے بات کی تھی اور اس مرتبہ 26 ارکان نے بات کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ دیگر صوبوں سے بہتر ہے ۔ ہماری ٹیکس وصولیاں بہتر ہیں ۔ کل بجٹ میں سے ترقیاتی بجٹ کا فیصد حصہ بہتر ہے ۔ ہمارے بجٹ میں سندھ کی اپنی آمدنی کا حصہ دیگر صوبوں سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کسی کا ایک روپے کا قرضہ بھی معاف نہیں کیا گیا ہے ۔ بلدیاتی اداروں سمیت مختلف اداروں کی گرانٹس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی کی ترقیاتی کاموں کے لےے2 ارب رپے ہیں جبکہ غیر ترقیاتی کاموں کیلئے 5 ارب رپے رکھے گئے ہیں ۔ ہم وفاق سے بھیک نہیں مانگتے ۔
یہ ہمارا حق ہے اور اپنا حق مانگتے رہیں گے۔مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا تو انہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے تقریریں کر لیں ۔ اب آپ نہ بولیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ہم پر الزامات عائد کےے جاتے رہے ہیں ۔ ایک ٹی وی چینل کے اینکر نے کہا کہ پیسے کشتیوں کے ذریعہ باہر منتقل کےے جا رہے ہیں تو اس پر پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ رقم سندھ حکومت کو ملی تھی لیکن کہنے والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہ رقم سندھ حکومت کو ملی ہوتی تو یہ واپس سندھ حکومت کے خزانے میں آتی ۔ یہ واپس کیوں نہیں آئی ۔ کیا کوئی اور کھا گیا ہے ؟ کسی پر بے جواز الزامات نہیں لگانے چاہئےں ۔ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کرپشن کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ امن و امان اور کرپشن دو مسئلے ہیں ۔ ہمیں ان سے نمٹنے کے لےے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ نیب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے 162 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سے 148 ارب روپے جاری کےے جا چکے ہیں اور ان میں سے 133 ارب روپے خرچ بھی ہو چکے ہیں ۔
آئندہ سال ہم 225 ارب روپے خرچ کرکے دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال میں نے کہا تھا کہ پانی کا ” کے ۔ 4 “منصوبہ 3 سال میں مکمل کریں گے لیکن اب میں کہتا ہوں کہ ہم اسے 2 سال میں مکمل کریں گے ۔ اگر وفاق نے پیسے نہ دیئے تو ہم اپنے وسائل سے یہ منصوبہ مکمل کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میئر ز اور ڈپٹی میئرز کے انتخابات کو ہم نے الیکشن کمیشن نے روکا ہے کیونکہ یہ الیکشن کمیشن کا اختیا رہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی بکاو¿ مال نہیں ہوں ۔ مجھے کوئی کمیشن نہیں دے سکتا ۔ کسی میں یہ جرا¿ت نہیں ہے کہ وہ مجھے کمیشن کی آفر کرے ۔ انہوں نے کہاکہ دبئی اور لندن اپنے خرچ پر جاتے ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کہ پارٹی قیادت سے ملاقات کے لےے وہاں جاتے ہیں لیکن سرکاری پیسہ خرچ نہیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے لےے 11 ارب روپے کا بجٹ اس لےے رکھا گیا ہے کہ اس میں سے ایک ہیلی کاپٹر خریدنا ہے کیونکہ موجودہ ہیلی کاپٹر پرانا ہو چکا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے لےے کروڑوں روپے کی گاڑیاں خریدنے کے الزامات میں کوئی صدارت نہیں ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے لےے صرف ایک پک اپ اور 4 موٹر سائیکلیں خریدیں گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہمارا ہے ۔ ہم اس کی تمام ترقیاتی اسکیموں کو جلد مکمل کر یں گے ۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے بعد اسپیکر نے اجلاس ہفتہ کی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دیا ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں