سندھ دھرتی ہماری ماں ، ماں کو توڑنے یا تقسیم کرنےوالے دھرتی کے سچے بیٹے نہیں ہو سکتے،نثار احمد کھوڑ

کراچی ( پی ایف پی ) سندھ کے سینئر وزیر تعلیم ، خواندگی اور پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ دھرتی ہماری ماں ہے ۔ ماں کو توڑنے یا تقسیم کرنے والے دھرتی کے سچے بیٹے نہیں ہو سکتے ۔ سندھ کو کوئی بھی نہیں توڑ سکتا کیونکہ سندھ پاکستان کا خالق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بجٹ پر بحث ہونی تھی لیکن کچھ اور باتیں کی گئیں ۔ جب بات سندھ کی وحدت سے متعلق ہوتی ہے تو پھر جواب دینا ہی پڑتا ہے ۔ ہم نے بار بار کہا کہ سندھ کی وحدت پر بات نہ کی جائے ۔ سندھ نے جب ایک بار فیصلہ دے دیا ہے تو پھر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ سندھ نے کہاکہ کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا تو ڈیم نہیں بنا ۔ سندھ نے کہا کہ پاکستان بنے گا تو پاکستان قائم ہوا ۔ سندھ اسمبلی تین بار قرار دادیں پاس کر چکی ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا ۔ جو لوگ سندھ کے خلاف بولتے ہیں ، ان پر یہ بات واضح ہو جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی دیگرسیاسی جماعتوں نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ محرومی کی بات کی جاتی ہے ۔ محرومی تو گاو¿ں میں بھی ہوتی ہے اور شہر میں بھی ہوتی ہے ۔ وفاق اگر صوبوں کو ان کا حق نہیں دیتا ہے تو کیا صوبے یہ کہیں کہ ہمیں پاکستان نہیں چاہئے ؟ محرومی کی بات کرکے سندھ کو توڑنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا جواب دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم 70 سال سے کہتے آ رہے ہیں کہ سندھ کے بن جاو¿ لیکن بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم تعصب کرتے ہیں ۔ گھروں پر نشان لگا کر قتل کیا جاتا تھا ۔ ایک وزیر نے یہاں اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ شکر کرو کہ ہم تمہیں کراچی آنے دیتے ہیں ۔ کہا جاتا تھا کہ نوکری صرف اسے ملے گی ، جس کے پاس کراچی کا ڈومیسائل ہو گا ۔ ہم میرٹ کی بات کرتے تھے تو کہتے تھے کہ کوٹہ سسٹم ہو اور ہم کوٹہ کی بات کرتے تھے تو بولتے تھے کہ میرٹ ہو ۔ ہماری تہذیب اور ہماری بولی 5 ہزار سال پرانی ہے ۔ ہم ان کی زبان بولتے ہیں لیکن وہ سندھی نہ سیکھیں تو تعصب نہیں ہے ۔ ہم نے کہا کہ سندھی کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے تو ہنگامہ ہو گیا ۔ کیا یہ تعصب نہیں ۔ پاکستان بننے کے بعد سندھیوں پر یہ پابندی عائد کی گئی کہ وہ کراچی میں جائیداد نہیں خرید سکتے ۔ کیا یہ تعصب نہیں ۔ تعصب کا الزام الٹا ہم پر لگایا جاتا ہے ۔ اگر آپ محرومیوں کے نام پر سندھ کو توڑو گے تو سندھ کے لوگ خاموش نہیں رہیں گے ۔ محرومیاں تو ہر جگہ ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بن جائیں تاکہ ہم سب مل کر محرومیوں کا خاتمہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جب کہا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا تو وہ نہیں بنے گا اور ہم کہہ رہے ہیںکہ سندھ تقسیم نہیں ہو گا تو نہیں ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی ایک منتخب عوامی فورم ہے ۔ یہاں سندھ کی وحدت کے خلاف باتیں نہ کی جائیں اور نہ ہی ایسی تقریروں اور تحریروں کی اجازت دی جائے ۔ نثار احمد کھوڑ و نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لےے مختص کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ اسکولوں کا دور ختم ہو گیا ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد اساتذہ اور ملازمین کو بائیو میٹرک سسٹم میں لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال بجٹ میں تعلیم کے لےے مختص ترقیاتی بجٹ میں سے 70 فیصد خرچ کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریسز کا تقرر کیا جا رہا ہے ۔ ٹریننگ کالجز میں کمپیوٹرز اور جدید سامان مہیا کیا جا رہا ہے ۔ سندھ کے تمام اضلاع میں کیڈٹ کالجز اور کمپری ہینسو اسکول قائم کےے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم باتوں پر نہیں عمل پر یقین رکھتے ہیں ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں