سلیم صافی..آمریت بمقابلہ آمریت

سلیم صافی..آمریت بمقابلہ آمریت
اذیت، سے لیڈر نہیں مخلص کارکن گزرتا ہے ۔ تکلیف اصل میں لیڈرکو نہیں بلکہ نظریاتی کارکن کو ہوتی ہے ۔ لیڈر نوازشریف ہو، عمران خان ہو، آصف زرداری ہو، محمود خان اچکزئی ہو یا اسفندیار ولی خان، اسے کبھی روزی روٹی کی فکر نہیں رہتی ۔ اپنا نہ بھی ہو تو اس پر اربوں کروڑوں خرچ کرنے اور لٹانے والے بہت ہوتے ہیں ۔ انسانوںکی شکل میں ہر ایک نے اپنے گرد اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ اکٹھے کئے ہوتے ہیں ۔وہ اگر جیل چلا جائے تو بھی اس سے وی آئی پی سلوک کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بارہ اکتوبر کے مارشل لاکے بعد اذیت سے گزرے ہیں تو پرویز رشید گزرے ہیں، صدیق الفاروق گزرے ہیں ، رانا ثناءا للہ گزرے ہیں ، مشاہد اللہ گزرے ہیں ،سردار مہتاب گزرے ہیں، تہمینہ دولتانہ گزری ہیں اور تکلیف اٹھائی ہے تو چند گمنام کارکنوں نے اٹھائی ہے ۔ گالی، گولی اور کال کوٹھڑی کا سامنا کیا ہے تو ان چند مخلص کارکنوں نے کیا ہے ۔ رہے آج جمہوریت جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اور میاں نوازشریف کے قرب کا لطف اٹھانے والے خوشامدی صحافی تو ذرا اکتوبر 1999ءسے لیکر 2000ءکے اختتام تک ان سب کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔پتہ چل جائیگا کہ تب کون کتنا پانی میں تھا۔ اصل بہادر وہ تھا جس نے ان ابتدائی ایام میں پرویز مشرف کے قہر کو چیلنج کیااور سوائے چند کے یہ سب تب پرویز مشرف کی خوشنودی حاصل کرنے میں مگن تھے۔ ان کے مشیر کا درجہ حاصل کرنیوالے سب سے معروف نام ، تب مارشل لا کے نفاذ کے بعد ایک سال تک ، ایوان صدر میں بیٹھ کر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل (ر) راشد قریشی کے منشی کے طور پر کام کرتے رہے ۔ لیکن پھر بھی چونکہ اللہ کے گھر میں مبینہ جلاوطنی کے نام پر کئی سال گزار کرواپس لوٹے تھے اسلئے ہم توقع لگابیٹھے کہ اب کی بارمیاں نوازشریف صاحب بدلے ہوئے حکمران ہونگے ۔
جلاوطنی اور اپوزیشن کے ایام میں وہ قول اور کسی حد تک فعل سے بھی یہ تاثر دے رہے تھے کہ اب کی بار وہ ماضی سے مختلف ہوں گے لیکن مختلف یوں ثابت ہوئے کہ وزیراعظم بننے کے بعد ماضی سے بڑھ کر آمر یت پسند بن گئے ۔ یقینا سازشیں کرنیوالے بھی بہت ہوتے ہیں اور پاکستان میں جمہوریت کے دشمنوں کی بھی کمی نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کس جرنیل یا ادارے نے ان پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ میرٹ پر کابینہ بنانے کی بجائے علاقائی تعصب اور خوشامدکی بنیاد پر کابینہ تشکیل دیں اوروزارت خارجہ فرسودہ خیالات کے مالک ایک ایسے شخص کے حوالہ کردیں کہ جن کا آدھے سے زیادہ خاندان امریکی شہری ہے ؟۔ ذرا ہمیں اس قوت سے آگاہ کریں کہ جس نے انہیں کہا ہو کہ نریندر مودی کی حلف برداری میں جاکر وہاں ذاتی دوستوں سے ملیں اور پھر ہندوستانی وزیراعظم سے ایسے معاملات طے کرنے کی کوشش کریں کہ جس میں اپنے مشیرخارجہ بھی آن بورڈ نہ ہوں۔ ذرا ہمیں اس قوت کا نام بتایا جائے کہ جس نے انہیں اس عمل پر مجبور کیا کہ اسلام آباد میں میٹرو کی عیاشی پر تو سو ارب خرچ کئے جائیں اور آئی ڈی پیز کیلئے پورے سال میں صرف چار ارب روپے عنایت کئے جائیں جو اسلام آباد میں ایک فلائی اوور کے خرچے سے کم ہیں۔ ذرا اس مشیر کا نام سامنے لایا جائے کہ جس نے انہیں اس شخص کو افغانستان کے معاملے پر مشیر بنانے کا مشورہ دیا کہ جن کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ افغان حکومت کی نعمتوں سے مستفید ہوتے رہے ۔ ذرا اس فوجی دبائو سے ہمیں آگاہ کیا جائے کہ جس میں آکر انہوں نے پہلے پرویز مشرف کو لٹکانے کا ارادہ کیا اور پھر دبائو میں آکر ان کو ملک سے باہر جانے دیا ۔ ہم جیسے جمہوریت پسندوں نے تو دھرنوں کے دوران اس ڈیڑھ سالہ اقتدار کی من مانیوں کو بھلا کر جمہوریت کا ایسا ساتھ دیا کہ چھ سات ماہ تک جان اور عزت دونوں ہتھیلی میں لئے پھرتے رہے لیکن وہ کون تھا کہ جس نے پھر اقتدار کی خاطر منت ترلے کرکے اسی پی ٹی آئی کو اسمبلی میں آنے دیا اور آج تک یہ ہمت نہیں کرسکے کہ خان صاحب سے سول نافرمانی کی باز پرس کرسکے یا پھر پولیس والوں کی جانوں کا ان سے حساب لے سکے ۔ اب پھر سازش سازش کی فریاد شروع کردی گئی ہے لیکن ذرا ہمیں ان سازشیوں کا نام بتایا جائے کہ جنہوں نے میاں نوازشریف کو یہ مشورہ دیا کہ تین سال میں پارٹی کے کسی منتخب تو کیا ، کسی نامزد فورم کا ایک اجلاس بھی نہ بلائو ۔
کس سازشی نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریاں، اسمبلی اور سینیٹ کو گپ شپ کا ایک فورم اور کابینہ کے ارکان کو غلام سمجھو۔ ہمیں اس خفیہ یا ظاہری قوت سے آگاہ کیا جائے کہ جس نے وزیراعظم کو مجبور کیا کہ صرف صاحبزادی اور خوشامدیوں کے مشورہ پر اکتفا کرو اور سات ماہ کے دوران کابینہ کا ایک اجلاس بھی طلب کرنے کی زحمت نہ کرو۔ ذرا اس فوجی ادارے کا نام تو بتا دیا جائے کہ جس نے وزیراعظم نوازشریف کو احتساب کا منصفانہ نظام بنانے سے روکے رکھا اور ان پر دبائو ڈالتے رہے کہ حالت جنگ سے گزرنے والے ملک میں کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع و قومی سلامتی کا اجلاس پورے سال میں ایک بار بھی نہ بلائو ۔ کس جرنیل نے دبائو ڈال کر ان کو بچوں کے نام پر آف شور اکائونٹس کھولنے پر مجبور کیا تھا اور اب کون ہے جو انہیں کمیشن بنانے اور پہلے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرنے سے روک رہا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کونسی فوج یا کونسی ایجنسی تھی کہ جس نے ان کو مجبور کیا کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور جیسے تزویراتی منصوبے کو اپنا خاندانی منصوبہ بنائیں۔ اسے پاکستان کو جوڑنے کی بجائے توڑ کا ذریعہ بنائیں ۔ پہلے چینیوں پر روٹ بدلوانے کیلئے دبائو ڈالیں اور پھر عوام کی نظروں میں یہ کہہ کر چین کو متنازع بنانے کی کوشش کریں کہ یہ تو چینیوں کی ترجیحات تھیں۔ ہم جیسے طالب علم تو ڈیڑھ سال سے چیخ رہے تھے کہ حکومت جس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے ، اس کے تناظر میں یہ بات یقینی ہے کہ سی پیک کا منصوبہ حکومت کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے گلے کا بھی پھندہ بنے گا لیکن ان کے انچارج وزیر فوجیوں اور چینیوں کو ورغلاتے رہے کہ ہم جیسے نقاد ہندوستان کے ایجنٹ ہیں ۔ اصل منصوبہ گوادر تک مختصر ترین اورا سٹرٹیجک اہمیت کے حامل روٹ کے ذریعے پہنچنے کا تھا لیکن انہوں نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت اسے انرجی کا منصوبہ بنایا اور پاکستانی مفاد کی بجائے ہر ڈیل میں ذاتی اور سیاسی مفاد کو مقدم رکھا۔ ہمیں اگر آپ بتاسکیں کہ یہ آپ نے کس جرنیل یا ایجنسی کے دبائو پر کیا تو ہم مشکور رہیں گے ۔ ذرا قوم کو تو اس جرنیل کا نام بتادیں کہ جنہوںنے انہیں مجبور کیا کہ وہ گوادر کے لوگوں کیلئے تو پینے کے پانی کاانتظام نہ کریں لیکن سی پیک کے تحت اورنج لائن منصوبے پر اربوں ڈالر خرچ کریں ۔ جو کیاانہوں نے خود کیا۔ جو بویا ، انہوں نے خود بویا ۔ اب خود ہی بھگت لیں ۔ منصوبہ تیار ہے ۔ ان کے بھائی آصف علی زرداری صاحب بھی دوسری جانب آن بورڈ ہوگئے ۔ عدلیہ پر بھی محنت ہورہی ہے ۔ اب کی بار عمران خان اور طاہرالقادری کو زرداری صاحب کی صورت میں ایک اور سیاسی کزن بھی مل گیا ہے لیکن وزیراعظم کے خوشامدی کتنی بھی کوشش کریں ، اب کی بار اسے جمہوریت اور آمریت کی جنگ نہیں بناسکیں گے ۔ عوام اور مجھ جیسے عام انسانوں کو یقین ہوگیا ہے کہ یہ آمریت بمقابلہ آمریت ہے ۔
جمہوریت ان سیاسی آمروں کے ایک ہتھیار کے سوا کچھ نہیں ۔ایک طرف سیاسی بادشاہ میاں نوازشریف ہونگے اور دوسری طرف سیاسی آمر عمران خان ، سیاسی آمر آصف علی زرداری اور مذہبی آمر علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہونگے ۔ ہوسکتا ہے کہ سیاسی آمروں کی اس لڑائی سے ایک اور طرح کی آمریت جنم لے لیکن جب سیاسی آمر میاں نوازشریف ایک طرح سے اور دو سیاسی اور ایک مذہبی آمر ایک اور طرح سے اس دوسری طرح کی آمریت کو لانے کیلئے مگن ہیں تو ہم جیسے عا م پاکستانیوں کو کیا پڑی ہے کہ اس لڑائی میں جان ، مال یا عزت کا رسک لیں۔ عوام سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ بدعنوان بمقابلہ بدعنوان اور آمریت بمقابلہ آمریت کی اس لڑائی سے دور رہیں۔

.

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں