نواز شریف

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو نیب لاہور نے طلب کر لیا

#NawazSharif
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو ضلع کونسل کے فنڈز کواپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر طلب کیا گیا ہے
اسلام آباد(پی ایف پی)سابق وزیراعظم نواز شریف کو قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور نے اختیارات کا ناجائز استعمال پر طلب کر لیا۔ نیب نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو 1998 میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کروانے کے حوالے سے وضاحت کے لیے 21 اپریل کو طلب کرلیا۔

قومی احتساب بیورو(نیب) نے ایک خط میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو 21 اپریل کو مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ متعلقہ دستاویزات بھی لائیں۔ 21 اپریل کو نیب لاہور ان کا بیان بھی ریکارڈ کرے گی۔

نواز شریف
نواز شریف اپنی اہلیہ کلثوم نواز کے ساتھ۔ فائل فوٹو

نیب لاہور نے اپنے خط میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ نے بطور وزیراعظم اپنے اختیارات کا ناجائز استمعال کیا اور 15 مارچ 1998 کو غیر قانونی طور پر ضلع کونسل لاہور کے فنڈز کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کرتے ہوئے اڈا پلاٹ سے سندر مل تک سڑک تعمیر کروائی۔ آپ کے حکم پر ہی سڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے 24 فٹ کی گئی جس سے سڑک کی تعمیر کی لاگت میں اضافہ ہو گیا۔ ضلع کونسل لاہور کے فنڈز کو اپنے کسی پروجیکٹ میں شامل کرنے کا عمل غیر قانونی تھا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کو کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور آپ کی جانب سے ضلع کونسل لاہور کے فنڈ سے کسی پروجیکٹ کے لیے احکامات دیناغیرقانونی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل قرار

نیب کے مطابق نواز شریف پر بطور وزیراعظم غیر قانونی طور پر اختیارات کا استعمال کرتے ہوتے ہوئے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب اور اپنے بھائی شہباز شریف کے ساتھ مل کر ذاتی فائدے کے لئے سڑک بنانے کا الزام ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے غیرقانونی حکم پر اس منصوبے کی خاطر ضلع کونسل لاہور کو بہت سے عوامی مفاد کے منصوبے بند کرنے پڑے۔

نیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اپریل کو صبح 11 بجے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف ریکارڈ کرادیں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے دن کے آغاز میں آئین کے آرٹیکل62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس شق کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی جس کے نتیجے میں نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سیکریٹری جنرل جہانگیرترین پارلیمانی سیاست سے تاحیات نااہل ہوگئے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جولائی 2017 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اقامے کے تحت بیٹے کی کمپنی سے قابل وصول تنخوا کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد نواز شریف نے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں