دہشت گردی + دولت گردی=؟ حسن نثار چوراہا

دہشت گردی + دولت گردی=؟ حسن نثار چوراہا
وہ وارننگ جو کسی اور کو دینی چاہئے تھی، آرمی چیف کو دینی پڑی….. ’’مودی ہو، ’’را‘‘ یا کوئی اور دشمن سب کی چالیں سمجھتے ہیں۔ ملکی سلامتی کے لئے آخری حد سے بھی آگے جائیں گے۔ دنیا کچھ بھی سمجھے ہم بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہر حال میں کرنا ہوگا، اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔‘‘آرمی چیف نے مسئلہ بھی بیان کردیا اور اس کا حل بھی۔ اس سوال پر کھل کر بحث ہونی چاہئے کہ ملک و قوم کے لئے دہشت گردی زیادہ خطرناک ہے یا دولت گردی؟ یا یہ فیصلہ کرنا ہی مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ خطرناک ہے؟سب سے بڑھ کر اور حوصلہ افزا حقیقت یہ کہ جو دو سال میں دہشت گردی کی کمر توڑ سکتے ہیں وہ دولت گردی کی گردن بھی مروڑ سکتے ہیں جس نے کروڑوں انسانوں کو انسانیت کی سطح سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ ایک انگریزی ضرب المثل میں ہلکی سی ترمیم کے بعد عرض کروں تو ناقابل تردید زہریلا ترین سچ یہ ہے کہ اس ملک میں ہر انسان کی Need کے لئے ہر شے وافر مقدار میں موجود ہے لیکن کسی ایک فرد کی Greed کے لئے تو تمام تر ملکی وسائل بھی کافی نہیں کہ جن برتنوں کے پیندے نہیں ہوتے، انہیں سمندر بھی نہیں بھر سکتے۔اپنے گزشتہ کالم میں ، میں نے ’’یو این ڈی پی‘‘ کے سابق ڈائریکٹر کے حوالے سے حوالہ لکھا تھا کہ اس ملک کی اشرافیہ کو یہ ملک بھی چاہئے یا نہیں؟ ملکی وسائل کو اندھادھند بے دریغ تھوک کے بھائو نوچناایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی زندہ انسان کو اغوا کرکے بیہوش کرنےکے بعد اس کے اعضا نکال کر بیچ دے۔ دہشت گردی اگر ہزاروں کی جان لیتی ہے تو دولت گردی کروڑوں انسان زندہ درگور کردیتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں ایسی ان ہونیاں ہوتی ہیں کہ سن کر ہی انسانی روح کانپ اٹھے جیسے اک باپ نے دیکھا کہ دو بچوں کی حادثاتی موت پر بچوں کے والدین کو پانچ لاکھ روپے فی بچہ حکومت کی طرف سےعطا ہوئے تو اس نے یہ سوچ کراپنی معصوم بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا کہ اسے بھی 5لاکھ روپے کی امداد ملےگی۔ اپنے ہی ایک بچے کو ہلاک کرکے اس کے عوض ملنے والی رقم سے باقی بچوں کا پیٹ بھرنے کی سوچ کیسی ہے؟ اور کیسے پیدا ہوتی ہے؟بد دعائے ہوئے بدنصیب معاشرے دو حصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ اول بھیڑیں دوم ان بھیڑوں کی اون تراش کر بیچنے والے لیکن یہاں تو سارے ریکارڈ ہی ٹوٹ گئے کہ ایک طرف خط ِ غربت پر بھوک چرتی ہوئی کروڑوں بھیڑیںہیں تو دوسری طرف وہ لوگ جو اُن کی اون نہیں کھالیں اور ماس اتار اتار کر بیرون ملک جمع کر رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں، سب مانتے ہیں لیکن ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں کیونکہ ان کے دامن صاف ہیںاور خنجروں پر خون کا کوئی دھبہ موجود نہیں کہ یہی دہشت گردی اور دولت گردی کے درمیان بنیادی فرق ہے کہ ایک میں دھماکے، خون، چیخیں اور چیتھڑے ہوتے ہیں جبکہ دوسری وائٹ کالر واردات بہت صاف ستھری اور پرسکون ہوتی ہے۔ کمیشن اور کک بیک کے قتل عام میں نہ کوئی دھماکہ سنائی دیتاہے نہ خون بہتا ہے نہ چیخیں نہ انسانی جسموں کے چیتھڑے۔پروردھن نے کہا تھا کہ ’’تمام بڑی جائیدادیں اور جاگیریں چوری اورڈاکہ زنی کا نتیجہ ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈاکہ ان کے موجودہ مالک نے ڈالا ہو۔‘‘ یہ کام اس کے باپ دادا پڑدادا کا بھی ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی معیشت کو بری طرح بیمارکردیتی ہے جبکہ دولت گردی اقتصادیات اور اخلاقیات دونوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کاجنازہ نکال دیتی ہے۔ آج پہلی بار بہت سوچ سمجھ کر میں نےکرپشن کی بجائے ’’دولت گردی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے کیونکہ کرپشن تو پٹواری اور نپواڑی بھی کرتا ہے جو بربادی کا باعث نہیں ہوتی، یہ دولت گردی ہے جو سب کچھ کھوکھلا کردیتی ہے۔ آسکر وائلڈ نے کہا تھا :’’غریب اورمفلس کے لئے صبر اختیار کرنااور مطمئن بیٹھ رہنا خودکشی کے مترادف ہے۔ جو غریب ہو کر بھی بے چین، جھگڑالو اور اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنے والا نہیں ہے وہ ابد الآباد تک ذلت کے گڑھے میں گرا اپنے نصیبوں کو روتا رہے گا۔‘‘ اس نے یہ بھی کہا تھا ’’زمانہ قدیم میں امیروں نے غریبوں کی بغاوت کو روکنے کا یہ موثر طریقہ ایجاد کیا تھاکہ غریبوں کے حصہ کے مال کا تھوڑا حقیر سا حصہ انہیں خیرات کی صورت میں واپس دے دیا کرتے تھے۔‘‘ اک روسی کہاوت ہے کہ ’’جس ملک میں مجھے ایک قدرتی پیداوار اخروٹ توڑنے کا بھی حق نہیں اگر کل کوئی دشمن اس پر چڑھائی کردے اور اس کی حفاظت کے لئے مجھے تلوار اٹھانے کا حکم ملے تو میں یہ کہتے ہوئے تلوار پھینک دوں گا کہ وہی اس ملک کی حفاظت بھی کریں جو اس کے اصل مالک ہیں۔‘‘آرمی چیف دہشت گردی کے بعد دولت گردی کا خاتمہ بھی کرسکیں تو کروڑوں محروم ان کے ممنون ہوں گے اور اک خوشخبری بھی کہ پنجاب میں لیگل پاور اور رینجرز کی آمد پر سوچ بچار شروع ہوگئی ہے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں