دو نمبری جمہوریت….نصرت جاوید

دو نمبری جمہوریت….نصرت جاوید
ریموٹ اٹھاکر ٹی وی چینلوں پر گھومنا شروع کرویا لیپ ٹاپ کھول کر اپنے فیس بک یا ٹویٹ اکاﺅنٹ کا جائزہ، زیر بحث موضوعات دو ہی نظر آرہے ہوتے ہیں: خواجہ آصف کی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران محترمہ شیریں مزاری کی ذات پر فقرے بازی یا پھر یہ کہانی کہ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران جمعیت العلمائے اسلام (ف)کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے میری ذاتی دوست اور سماجی حقوق کے بارے میں ہمیشہ ذرا ہٹ مگرڈٹ کر بات کرنے والی ماروی سرمد کو غلیظ گالیاں دینے کے بعدان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔
خدارا میری اُکتاہٹ بھری تمہید سے یہ فرض نہ کرلیجئے گا کہ مجھے عورتوں کی توہین والے ایسے واقعات پر کوئی تشویش نہیں۔ میری پانچ بہنیں ہیں۔ ربّ سے بہت دعاﺅں کے بعد اپنے لئے صرف دو بیٹیاں ہی مانگیں اور میں نے انسانیت کا احترام درحقیقت اپنی ماں سے سیکھا ہے جو صرف میرے لئے ہی نہیں کامل اجنبیوں کے لئے بھی مجسم شفقت تھیں۔
سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا دیوانہ ہوتے ہوئے مجھے تو بلکہ یہ سوچ کر کافی اطمینان محسوس ہورہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس کی تخلیق کے دوران لاکھوں عورتوں کو بے رحمانہ وحشت کا نشانہ بنایا گیا تھا ،بالآخر وہ وقت آپہنچا ہے جہاں خواتین کا احترام ایک غور طلب مسئلہ سمجھا جارہا ہے۔ کسی معاملے کا شدید احساس پیدا ہوجانا بہتری کی طرف پہلاقدم ہوا کرتا ہے اور عورتوں کے حقوق واحترام کے تناظر میں اٹھائے گئے ایسے سوالات کے بارے میں ذاتی طورپر میں ان دنوں کافی مطمئن محسوس کررہا ہوں۔
میڈیا کو مگر کسی ایک سوال پر وقتی طورپر اپنا فوکس مرکوز نہیں رکھنا چاہیے۔ اسے حالاتِ حاظرہ کے تمام تر پہلوﺅں پر توجہ دینا ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر ”آزاد“ صحافت متعارف ہونے کے بعد یہ توجہ مگر لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ Ratingsکے حصول کی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔خواجہ آصف اور حافظ حمد کی بظاہر ”مذمت“- انتہائی خلوص کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد-مجھے توRatingsکی خاطر برپا ہوئی منافقت ہی نظر آئی۔
اخبارات میں بھی اس ضمن میں جو مضامین ہمارے کئی جید صحافیوں نے لکھے ان میں ان دوموضوعات کے حوالے سے خواجہ آصف کے ساتھ کچھ ذاتی حساب چکائے گئے ہیں۔ حافظ حمد کے جارحانہ اور قابل مذمت رویے نے ہمارے معاشرے میں ”لبرلز“ کہلاتے افراد کو اپنے خیالات ذرا دلیری کے ساتھ ظاہر کرنے کا موقع فراہم کردیا۔
میرا دُکھ یہ ہے کہ چند روز تک ان موضوعات پر اپنے دلوں میں کئی برسوں سے چھپائے بغض یا نیک خیالات کے اظہار کے بعد ہم ان موضوعات کو بھول جائیں گے۔ عورتوں کی برسرِعام تذلیل اس کے باوجود جاری رہے گی اور غیرت کے نام پر بچیوں کے قتل بھی ہوتے رہیں گے۔
رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے بڑی مہارت اور لگن کے ساتھ ایک طویل جنگ لڑنا ہوتی ہے۔ سرسید نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لئے ایسی ہی ایک جنگ لڑی تھی۔ عورتوں کے ضمن میں اگرچہ انہوں نے بھی ”بھڑوں کے چھتے“ میں ہاتھ ڈالنے سے اجتناب برتا۔ عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے کم از کم مجھے سرسید کے قدجیسا کوئی مرد یا عورت، ٹھوس دلائل اور سنجیدہ مکالمے کی بنیاد پر ایک طویل جنگ لڑنے کو ہرگزتیار نظر نہیں آرہا۔
کسی اور کا ذکر کیا کروں۔ ہمارے شاعرِ مشرق جنہوں نے وجودِ زن سے کائنات میں رنگ دریافت کیا تھا، عورتوں کے حوالے سے کافی قدامت پرست واقع ہوئے تھے۔ اُردو کی مشہور ادیب قرة العین حیدر کی والدہ نذرالباقر کے داداسیالکوٹ میں تحصیل دار کے طورپر تعینات تھے۔ ان کی علامہ صاحب کے ساتھ گہری دوستی بھی تھی۔ نذر الباقر کے والد نوشہرہ میں مقیم تھے جہاں وہ برطانوی افواج کو رسد وغیرہ پہنچانے کے ٹھیکے لیا کرتے۔ نذر الباقر جب اپنے دادا کے ہاں سیالکوٹ جاتیں تو پانچ سال کی عمر والی یہ بچی ایک خاص برقعہ پہن کر گھوڑے پر سوار ہوا کرتیں۔
نذر کی شادی سجاد حیدر سے ہوئی جو سرکارِ انگلشیہ کے ملازم ،علی گڑھ کے تعلیم یافتہ اور اُردو کے اپنے زمانے کے حوالے سے کافی روشن خیال اور ترقی پسند ادیب بھی تھے۔ اپنی شادی کے بعد جب وہ لاہورکسی دورے پر آئے تو علامہ اقبال نے انہیں اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔نذر سجاد حیدر مگر علامہ کے سامنے نہ آئیں۔علامہ صاحب کو دُکھ تھا کہ ”سیدزادی“ ہوتے ہوئے بھی ”سجاد کی بیوی“ نے برقعہ اوڑھنا چھوڑدیا ہے۔
عورتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں قدامت پرستانہ تعصبات لہذا نہایت قدیمی ہیں۔ اس ضمن میں محض مولانا شیرانی ہی کو ذمہ دار مت ٹھہرائیں۔ان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے ”تحفظ حقوقِ خواتین“ کے نام پر جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ درحقیقت پاکستانی مردوں کی اکثریت کے دلوں میں موجود خیالات وجذبات کا باقاعدہ اظہار ہیں۔ میری بات پر یقین نہیں تو پوری دیانت داری سے اپنے گریبانوں میں ذرا دیر کو جھانک کرلیجئے۔
ٹیلی وژن سکرین کے ذریعے لوگوں کو ”سنجیدہ مکالمے“ کے نام پر ٹاک شوز کرنے والے اینکرخواتین وحضرات کی اکثریت”دونمبری“ کی مرتکب ہوتی ہے۔ ان کا مقصد اپنے پروگرام کے شرکاءکو اشتعال دلاکر ایک دوسرے سے لڑوانا ۔ آپ کے لئے چسکا فراہم کرنا اور اپنے لئے Ratingsحاصل کرنا ہے۔
ماروی سرمد اور حافظ حمد کے مابین توتو-میں میں کروانے والی اینکرکاحقیقی مقصد بھی یہی تھا۔ وہ اپنے مقصد کے حصول میں پوری طرح کامیاب رہیں۔ ربّ کریم انہیں برکتوں کے اس مہینے میں مزید Ratingsسے مالامال کرے۔ خواتین کے حقوق اور ان کے احترام کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات گئے بھاڑ میں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

اپنا تبصرہ بھیجیں